دہشتگردی کے محاذ پر پاکستان کی فیصلہ کن کامیابی

پاکستان کو درپیش دہشتگردی کے خطرات کسی ایک واقعے یا ایک تنظیم تک محدود نہیں رہے، بلکہ یہ ایک مسلسل اور پیچیدہ جنگ کی صورت اختیار کر چکے ہیں جس میں ریاست کو نہ صرف عسکری محاذ بلکہ فکری، نظریاتی اور انٹیلی جنس سطح پر بھی بیک وقت لڑنا پڑ رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی کی جانب سے داعش خراسان (ISIS-K) کے ترجمان اور تنظیم کے مرکزی پراپیگنڈا و بھرتی نیٹ ورک کے بانی خارجی سلطان عزیز اعظّام کی گرفتاری ایک معمولی واقعہ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک بریک تھرو ہے، جس نے نہ صرف تنظیم کی کمر توڑی ہے بلکہ اس کے عالمی نیٹ ورک کو بھی شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
داعش خراسان کا نام گزشتہ چند برسوں میں پاکستان، افغانستان، وسطی ایشیا اور عالمی سطح پر دہشتگردی کے بدترین واقعات سے جڑتا رہا ہے۔ یہ تنظیم نہ صرف خودکش حملوں، فرقہ وارانہ قتل و غارت اور ریاستی اداروں پر حملوں میں ملوث رہی بلکہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کرنے میں بھی سرگرم رہی۔ ایسے میں سلطان عزیز اعظّام کی گرفتاری اس تنظیم کے نظریاتی اور ابلاغی ڈھانچے پر براہِ راست وار ہے۔
خارجی سلطان عزیز اعظّام کو پاکستان اور افغانستان کے بارڈر ایریا سے گرفتار کیا گیا، جو بذاتِ خود اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ داعش خراسان سرحدی علاقوں کو اپنے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ سلطان عزیز اعظّام نہ صرف داعش خراسان کا ترجمان تھا بلکہ تنظیم کے آفیشل میڈیا ونگ “الاعظائم فاؤنڈیشن” کا بانی بھی تھا، جسے داعش خراسان کی بھرتی اور پراپیگنڈا سرگرمیوں کا مرکزی ستون سمجھا جاتا ہے۔
الاعظائم فاؤنڈیشن کا کردار محض بیانات جاری کرنے تک محدود نہیں تھا، بلکہ یہ پلیٹ فارم داعش خراسان کے جنگجوؤں کی بھرتی، نظریاتی تربیت، آن لائن انتہا پسند مواد کی تیاری اور عالمی سطح پر تنظیم کا بیانیہ پھیلانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ سلطان عزیز اعظّام اس پورے نیٹ ورک کا دماغ تصور کیا جاتا تھا، جس کی گرفتاری کے بعد تنظیم کی میڈیا سرگرمیاں عملی طور پر معطل ہو گئیں، اور “وائس آف خراسان” جیسے اہم پراپیگنڈا پلیٹ فارمز بھی بند ہو گئے۔
یہ محض پاکستانی دعویٰ نہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم کی سولہویں رپورٹ بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پاکستان کی مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں داعش خراسان کے تنظیمی ڈھانچے کو عالمی سطح پر کمزور کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی انٹیلی جنس کی کارروائیوں سے نہ صرف کئی منصوبہ بند دہشتگرد حملے ناکام بنائے گئے بلکہ تنظیم کے جنگجوؤں کی تعداد میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ مئی 2025 میں سلطان عزیز اعظّام اور داعش خراسان کے سینئر رہنما ابو یاسر الترکی کی گرفتاری جیسے اقدامات کے باعث تنظیم کی آپریشنل صلاحیت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اہم کمانڈرز اور نظریاتی رہنماؤں کو نیوٹرلائز کیے جانے سے داعش خراسان نہ صرف میدانِ عمل میں کمزور ہوئی بلکہ اس کا فکری اور نظریاتی تسلسل بھی ٹوٹ گیا۔
یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ دہشتگرد تنظیموں کے لیے محض اسلحہ یا جنگجو ہی طاقت کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ نظریہ، بیانیہ اور پراپیگنڈا ان کی اصل روح ہوتے ہیں۔ سلطان عزیز اعظّام کی گرفتاری دراصل داعش خراسان کے اسی نظریاتی دل پر کاری ضرب ہے۔ جب کسی تنظیم کا ترجمان اور میڈیا نیٹ ورک ختم ہو جاتا ہے تو وہ نہ صرف نئے افراد کو بھرتی کرنے سے قاصر ہو جاتی ہے بلکہ اپنے موجودہ کارکنوں کو بھی متحرک رکھنے میں ناکام رہتی ہے۔
پاکستانی حکام کی جانب سے حالیہ دنوں میں داعش خراسان کے خلاف کی جانے والی متعدد ہائی پروفائل گرفتاریاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست اب محض ردِعمل کی پالیسی پر نہیں بلکہ ایک جامع، پیشگی اور انٹیلی جنس بیسڈ حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔ یہ گرفتاریاں اتفاقیہ نہیں بلکہ طویل المدتی نگرانی، نیٹ ورک میپنگ اور علاقائی تعاون کا نتیجہ ہیں، جن کا مقصد دہشتگردی کو جڑ سے ختم کرنا ہے۔
یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ داعش خراسان جیسے گروہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک مشترکہ خطرہ ہیں۔ پاکستان نے نہ صرف اپنی سرزمین پر ان عناصر کے خلاف کارروائیاں کیں بلکہ عالمی برادری کو بھی یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں پاکستان کی کارروائیوں کا اعتراف دراصل اسی عالمی اعتماد کی علامت ہے۔
سلطان عزیز اعظّام کی گرفتاری کے بعد داعش خراسان کی ابلاغی خاموشی اس بات کی گواہ ہے کہ تنظیم شدید خلفشار کا شکار ہو چکی ہے۔ جب ایک دہشتگرد تنظیم اپنی آواز، اپنے بیانیے اور اپنے ترجمان سے محروم ہو جائے تو وہ محض ایک منتشر گروہ بن کر رہ جاتی ہے، جسے دوبارہ منظم ہونے میں برسوں لگ سکتے ہیں، اگر موقع ملا تو۔
پاکستان کی یہ کامیابی محض ایک سیکیورٹی آپریشن نہیں بلکہ ایک فکری اور نظریاتی فتح بھی ہے۔ یہ ان تمام قوتوں کے لیے واضح پیغام ہے جو مذہب کے نام پر خون بہانے، ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے اور نوجوانوں کے ذہن مسموم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ پاکستان نہ صرف ان کے اسلحہ بردار ہاتھ توڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ ان کے نظریاتی چہرے بھی بے نقاب کر سکتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ داعش خراسان کے ترجمان سلطان عزیز اعظّام کی گرفتاری پاکستان کی انسدادِ دہشتگردی پالیسی میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کارروائی نہ صرف ملکی سلامتی کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے بلکہ خطے اور عالمی برادری کے لیے بھی ایک مثبت اور حوصلہ افزا پیغام ہے کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک ذمہ دار، مؤثر اور پرعزم ریاست کے طور پر کھڑا ہے، اور اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کا عزم رکھتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *