وہ سیاہ دن جب قانون مرگیا


تحریر: نعمان احمد دہلوی
شہادتِ بابری مسجد: 6 دسمبر 1992ء کا سیاہ باب
6 دسمبر 1992ء کا دن ہندوستان کی جدید تاریخ کا ایک انتہائی الم ناک اور شرمناک دن ہے۔ اس دن اترپردیش کے شہر ایودھیا میں موجود تاریخی بابری مسجد کو ہزاروں کی تعداد میں موجود ہندو انتہا پسندوں نے منصوبہ بند طریقے سے شہید کر دیا۔ یہ واقعہ صرف ایک عمارت کی شہادت نہیں تھا بلکہ سیکولر ہندوستان کے آئین، قانون، جمہوریت اور بین المذاہب ہم آہنگی پر ایک کھلا حملہ تھا۔ آج 33 برس گزر جانے کے باوجود اس سانحے کا زخم تازہ ہے اور یہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل میں ایک ناسور کی طرح چبھا ہوا ہے۔

بابری مسجد کی تاریخ چھ صدیوں پر محیط ہے۔ اسے 1528ء میں مغل بادشاہ بابر کے سپہ سالار میر باقی نے تعمیر کروایا تھا۔ کئی صدیوں تک یہ مسجد مسلمانوں کی عبادت گاہ رہی۔ 1853ء میں پہلی بار ہندوؤں نے دعویٰ کیا کہ یہاں رام جنم بھومی ہے اور مسجد کے احاطے میں ایک چبوترہ بنا کر پوجا شروع کر دی۔ 1949ء میں مسجد کے اندر رام کی مورتیاں رکھ دی گئیں اور مسجد کو تالا لگا دیا گیا۔ 1986ء میں راجیو گاندھی حکومت نے عدالت کے حکم پر تالا کھول دیا جس سے تنازع نے شدت اختیار کر لی۔

1990ء میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے سومناتھ سے ایودھیا تک “راتھ یاترا” نکالی جس کا واحد مقصد بابری مسجد کو شہید کر کے رام مندر بنانا تھا۔ اس یاترا نے پورے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑکا دیے اور ہزاروں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 6 دسمبر 1992ء کو لاکھوں “کار سیوک” ایودھیا میں جمع ہوئے۔ بی جے پی، آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے رہنما ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی، سادھوی رتامبرا اور دیگر موجود تھے۔ دوپہر ڈھائی بجے کے قریب کار سیوکوں نے مسجد پر حملہ کر دیا۔ گنبدوں پر چڑھ کر کلہاڑیوں، لوہے کی راڈیں اور ہتھوڑوں سے توڑ پھوڑ شروع کر دی۔

اترپردیش کی حکومت نے پولیس اور پی اے سی کو واپس بلا لیا تھا۔ مرکزی حکومت میں وزیراعظم نرسمہا راؤ نے کوئی فیصلہ نہ کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چند گھنٹوں میں چھ صدی پرانی تاریخی مسجد زمین بوس ہو گئی۔ اس دوران دو ہزار سے زائد افراد، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی، فرقہ وارانہ فسادات میں مارے گئے۔ ممبئی، سورت، احمد آباد، بھوپال، دہلی سمیت کئی شہروں میں خون کی ہولی کھیلی گئی۔

بابری مسجد کی شہادت کے فاشسٹ طاقتوں کی منظم سازش تھی۔ لبرہان رپورٹ (جسٹس لبرہان کمیشن) نے واضح طور پر کہا کہ یہ اچانک جذباتی ردعمل نہیں بلکہ طے شدہ منصوبہ تھا۔ بی جے پی اور سنگھ پریوار کے رہنماؤں نے کار سیوکوں کو اکسایا اور توڑ پھوڑ میں براہ راست حصہ لیا۔ 2019ء میں سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں تسلیم کیا کہ 1992ء میں مسجد کی شہادت قانون کی خلاف ورزی تھی، مورتیوں کی تنصیب غیر قانونی تھی اور یہ جرم تھا۔ پھر بھی عدالت نے متنازعہ زمین رام مندر کے لیے دے دی جو ایک متنازع اور حیران کن فیصلہ تھا۔

6 دسمبر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جمہوریت میں قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کتنے نازک ہوتے ہیں۔ یہ دن ہمیں بتاتا ہے کہ جب ریاستی مشینری ایک خاص نظریے کے سامنے سرنگوں ہو جائے تو کوئی بھی تاریخی ورثہ، کوئی بھی مقدس مقام محفوظ نہیں رہتا۔

بابری مسجد کی شہادت محض ایک مسجد کا خاتمہ نہیں تھی بلکہ ہندوستانی سیکولرزم کی شکست تھی۔ آج جب ایودھیا میں رام مندر کی چمک دمک دکھائی جاتی ہے تو ہمیں وہ سیاہ دن بھی یاد رکھنا چاہیے جب قانون، انصاف اور انسانیت کو پامال کیا گیا تھا۔

شہادتِ بابری مسجد ہندوستان کے ضمیر پر ایک ناقابلِ مٹ داغ ہے۔ جب تک اس سانحے کے ذمہ داروں کو سزا نہیں ملتی اور آئین کی سیکولر روح بحال نہیں ہوتی، 6 دسمبر کا زخم ہرا رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *