آخرکار بانی پاکستان تحریکِ انصاف سے ان کی ہمشیرہ عظمیٰ خان کی ملاقات ہوہی گئی جس کے بعد عظمیٰ خان نے میڈیا کو بتایا کہ عمران خان کی صحت بالکل ٹھیک ہے اس کا مطلب ہے کہ دھند چھٹ گئی ہے عمران خان کی صحت کے حوالہ سے بھارتی میڈیا نے جو پروپیگنڈاکا طوفان اٹھا یاہواتھاوہ جھوٹابیانیہ دم توڑگیاہے بھارتی میڈیا نے اتنا جھوٹ بولا کہ دنیا بھرکے لوگ پریشان ہوکررہ گئے کیونکہ بھارتی میڈیا نے تو عمران خان کی ہلاکت و تدفین بارے بھی خبریں چلادیں تھیں جس سے پاکستان میں ایک خوفناک صورت ِ حال پیدا ہورہی تھی کیونکہ جب تک سچائی سامنے نہ آئے حقیقت آشکارنہیں ہوسکتی جس پر اڈیالہ جیل کی انتظامیہ نے عظمیٰ خان کو بانیPTI اور اْن کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملنے دیا لیکن علیمہ خان اور نورین نیازی کو ملاقات کی اجازت نہیں دی اس کی منطق سمجھ میں نہیں آئی لیکن سینئر سیاسی رہنما اور سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ جامے سے باہر ہوکربانی پی ٹی آئی کے بارے میں کہا کہ آئندہ عمران خان سے کوئی سیاسی ملاقاتیں نہیں ہوں گی، اگر دھونس اور زبردستی کی سیاست کرنی ہے تو گورنر راج سامنے ہے۔ میں پہلے ہی کہا تھا کہ 26 نومبرکو کوئی چڑھائی نہیں ہوگی، میں سب کے لیے سیاسی حل چاہتا ہوں فیصل واوڈا نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی نے کچھ ٹھان لیا ہے تو دوسری طرف سے بھی گورنر راج کی ٹھان لی گئی ہے، اگر اشتعال والی باتیں کریں گے تو کیا نظام آپ کو اجازت دے گا؟ گورنر راج سامنے ہے اس کے لئے حکمت عملی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر راج لگے گا تو دو ماہ کا نہیں ہوگا، گورنر راج لگا تو پھر برقرار ہی رہے گا تو پھر آپ کو کیا حاصل ہوگا؟ فیصل واوڈا کا مزید کہنا تھا کہ اگر صوبے کو روٹی کپڑا مل گیا، ترقیاتی کام ہوں گے امن مل جاتا ہے تو آپ سیاست سے آؤٹ ہوجائیں گے، آپ ساڑھے چار کروڑ لوگوں کی باتیں کررہے ہیں، آپ ساڑھے چار سو لوگ بھی نہیں لا پا رہے۔۔کچھ سیاسی مبصرین کا کہناہے کہ اتنا کچھ سینیٹر فیصل واوڈا کیوں اور کیسے کس حیثیت میں کہہ رہے ہیں کیا وہ اڈیالہ جیل کے مہتمم ہیں یا پھر وہ پیر صاحب پگاڑا اور شیخ رشید کی طرح سیاسی پیش گوئیاں کرنے کے شوقین ہیں یا پھر وہ کس کے ترجمان کی حیثیت سے ایسا کرتے ہیں کیا اس کی کوئی وضاحت ہے؟ اسی تناظر میں ایک وزیر با تدبیر طلال چوہدری نے کہا کہ PTI اور بانی پی ٹی آئی کے خاندان کے بیانیہ کی نفی ہوگئی ہے بانی PTI کی صحت اور زندگی سے متعلق جیل انتظامیہ کا موقف درست ثابت ہوا ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ بانی چیئرمین قید تنہائی میں ہیں اور کسی قانون میں یہ جائز نہیں پرامن احتجاج ہمارا حق ہے بانی PTI کی دوسری ہمشیرہ عظمٰی خان نے کہا کہ بانی کی صحت بالکل ٹھیک ہے، 4 ہفتوں سے بانی پی ٹی آئی کو کسی سے ملنے نہیں دیا گیا، بشریٰ بی بی کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ سہیل آفریدی کو بانی پی ٹی آئی کی مکمل سپورٹ حاصل ہے، ان کا سارا آئین اور قانون صرف پی ٹی آئی پر لاگو ہوتا ہے۔ویسے موجودہ سیاسی صورت ِ حال کے حوالے سے سیاسی مبصرین کا تجزیہ ہے کہ اگر حکومت نے بانی پی ٹی آئی کی ان کے اہل ِ خانہ سے ملاقات ہی کروانی تھی توپھر پیالی میں طوفان اٹھانے کی کیاضرورت تھی کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد عمران خان اور ان کے اہل ِ خانہ کو توڑنا مقصودتھا اور کارکنوں میں خوف و ہراس پھیلاناتھا تاکہ وہ سڑکوں پر آنے کو تیار نہ ہوں بہرکیف حکومت اس میں ناکام ہوگئی کیونکہ آنے والی اطلاعات کے مطابق عمران خان کی صحت بالکل ٹھیک ہے یعنی کہ دو اڑھائی سال کی قید کے باوجودبانی پی ٹی آئی کبھی بیمار ہوئے نہ ان کو جھکایاجاسکا یقینا یہ پاکستانی کی پارلیمانی تاریخ کا اکلوتا واقعہ ہے ورنہ تو سیاستدانوں کی چند نوں کی قید ِ تنہائی میں ہی چیخیں نکل جاتی ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے صوابی انٹرچینج پر دھرنا ختم کر کے 7 دسمبر کو پشاور میں عوامی پاور شو کا اعلان کردیابانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر پابندی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں، ایک ماہ سے ملاقاتوں پر پابندی خلاف قانون ہے، ہمارے احتجاج پر بانی کو بہن سے ملاقات کی اجازت دی گئی۔ بعد ازاں پی ٹی آئی قیادت نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا جس پر کارکنان نے موٹروے کو کھل دیا اور سب منتشر ہوگئے۔ احمد خان نیازی نے اعلان کیا کہ 7 دسمبر کو پشاور میں پی ٹی آئی عوامی قوت کا مظاہرہ کرے گی۔بہرحال جب تک عمران خان جیل میں ہیں کسی نہ کسی شکل میں ملک میں ہاؤ ہو ہوتا رہے گا۔
دھند چھٹ گئی