سرد جنگ کا دوسرا گریٹ گیم

قسط 2
تحریر۔نظام الدین

چینی کارگو بحر منجمد شمالی برفانی تہوں کو چیرتا جب ایشیا پہنچا تو دنیا ابھی حیران ہی تھی کہ پھر دوہزا تیرا میں بھاری بھرکم چینی جہاز یونگ شنگ انیس ہزار ٹن سامان اسی راستے سے لیکر چینی بندر گاہ ڈالیان سے روٹرڈم پہنچایا۔ جو امریکہ کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی تھی۔ اس جہاز نے تین ہزار میل کا یہ سفر 35 دن میں مکمل کیا۔ نہر سویز کے راستے یہ سفر پچاس د ن میں طے ہوتا تھا اور اسی کے ساتھ ایسی تنگ سمندری گزرگاہوں سے گزرنا پڑتا تھا، جن پر مغربی ممالک یا ان کے اتحادیوں کی اجارہ داری ہے، جو نازک اوقات میں مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔چین نے آکٹک کونسل میں آبزرور کی حیثیت سے ممبرشپ بھی لی تھی۔ اس آٹھ رکنی کونسل میں امریکہ، روس، کنیڈا، ڈنمارک، آئس لینڈ، ناروے، فن لینڈ اور سویڈن شامل ہیں۔ چین کی اس تگ و دو کو دیکھ کر بھارت بھی اس گریٹ گیم میں شامل ہو کر آرکیٹک کونسل میں بطور مبصر ممبرشپ لی۔ اور اپنی پہلی ملٹی سینسر مانیٹرنگ آبزرویٹری، انڈآرک، آرکٹک گلیشیرز کی نگرانی کے لیے نصب کرنے میں کامیاب ہو گیا اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے
روس نے بھی اپنے آرکٹک عزائم کا مظاہرہ کیا اور دوہزا سات میں، اس نے ایک علامتی عمل کے طور پر قطب شمالی کے سمندری فرش میں روبوٹ بھیج کر اس کی تہہ پر اپنا جھنڈا گاڑ دیا۔چین نے تجاویز پیش کی تھی کہ قطب جنوبی کی طرح قطب شمالی بھی کسی ملک کی ملکیت میں نہ ہو، مگر سائنسی تجربات کرنے کے لیے دنیا کے تمام ممالک یہاں رسائی دی جائے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران، امریکہ نے اس علاقے پر مختصر عرصہ تک قبضہ کر کے اس کا دفاع کیا تھا۔ کیونکہ ڈنمارک پر ان دنوں نازی جرمنی نے قبضہ کیا ہوا تھا۔جنگ کے بعد امریکہ نے گرین لینڈ کو خریدنے پہلی پیشکش کی تھی، لیکن ڈنمارک نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔ انیس سو اسّی میں ڈنمارک نے گرین لینڈ کو داخلی خود مختاری دی تھی۔ موسمیاتی تبدیلی نے اس خطے نے تیل کی نکاسی کی صلاحیت، معدنیات اور بحری ٹریفک میں اضافے کی وجہ سے سیاسی اور اقتصادی اہمیت حاصل ہوتی گئی ۔مگر یہ سبھی اقدامات اور موسمیاتی تبدیلی نے برف کی تہوں کو پتلاکرکےجوسمندری راستے نکالے ہیں، ان کی وجہ سے امریکہ اور ایشیاء قریب آرہے ہیں۔ ایشیائی طاقتوں کو اس سے امریکی پانیوں میں کھیلنے کا موقع مل رہا ہے، جس کا امریکہ کسی طور پر متحمل نہیں ہوسکتا یعنی کہ امریکی بحرے اعظم صرف امریکی ملکوں کا ہے، مگر اس کی یہ سوچ زمیں بوس ہو رہی ہے۔ کیونکہ آبی راستوں پر قابو پانے سے دوسرے ممالک بااثر اور طاقتور ہو جائیں گے، آرکٹک کو ایک قابلِ عمل آبی گزرگاہ بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے، جس میں تلاش اور بچاؤ کی سہولیات کے قیام کے ساتھ ساتھ تیل کے اخراج کو روکنے کے لیے ایک طریقہ کار بھی وضع کیا جانا شامل ہے۔ڈنمارک اور روس کے قطب شمالی پر مضبوط علاقائی دعووں کے ساتھ، امریکہ گرین لینڈ کو ایک آزاد ریاست بننے کے لیے اکسا رہا ہے، آرکٹک خطے کو ایک بین الاقوامی ورثہ اور غیر وابستگی کا زون بنانے کی بھی تجاویز دی جا رہی ہیں۔ مگر بڑی طاقتیں شاید ہی اس پر کان دھریں گی۔ گزشتہ دس سالوں میں، گرین لینڈ نے اسکاٹ لینڈ کی کیرن، روس کی گازپروم اور ناروے کی اسٹیٹ آئل سمیت تیل اور گیس کے بڑے کھلاڑیوں کو معدنیات کو تلاش اورکانکنی کے کئی لائسنس دیے ہیں۔اس کے آس پاس کے پانیوں میں پانامہ تک چین کا اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔ چین کی تگ و دو کو دیکھ کر دوہزا بیس میں، امریکہ نے گرین لینڈ میں اپنا قونصل خانہ دوبارہ کھولا، جو انیس سو تریپن سے بند تھا۔ اس نے گرین لینڈ کے لیے دو اقتصادی امدادی پیکجوں میں بھی توسیع کی ہے اور نایاب زمین کی معدنیات کی حکمرانی اور تلاش میں تعاون کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ ٹرمپ کے گرین لینڈ کو آزادی دلوانے یا اس کو امریکی کالونی بنوانے پر چین اور روس کس طرح کے رد عمل کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ با ت تو طے ہے ہے کہ قطب شمالی نیز گرین لینڈ دوسری گریٹ گیم کا مرکز بن رہے ہیں۔ پھر واپس آتے ہیں کیا مستقبل میں امریکہ بلوچستان کے زخائر حاصل کرنے کے لیے پاکستان نے خریدنے کی خواہش کر سکتا ہے ؟؟؟ تو کیا پاکستان پر مستقل حکمرانی کی خواہش رکھنے والے سیاست دان اور اسٹیبلشمنٹ اس کے لیے کوئی حکمتِ عملی بنا چکے ہیں ؟؟؟ کیونکہ جس طرح موجودہ امریکہ کے صدر ٹرمپ پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والوں کو خوش آمدید کہتے ہیں اور آگر کوئی یہ کہتا ہے یہ یکطرفہ پیار محبت صرف ٹرمپ تک محدود ہے امریکہ کا اس سے کوئی تعلق نہیں تو پھر تاریخ کا مطالعہ کرلیں ،،
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *