سیاست میں اخلاص کی ناقدری اور مفاد پرست عناصر کا کردار

تحریر: محمد حنیف کاکڑ راحت زئی

سیاست ہو یا سماج، ایک حقیقت ہر دور میں اپنی جگہ برقرار رہتی ہے کہ مخلص لوگ کسی کو نہیں کھوتے، بلکہ لوگ خود مخلص لوگوں کو کھو دیتے ہیں۔ یہ جملہ محض ایک کہاوت نہیں بلکہ ہمارے سیاسی مزاج اور اجتماعی رویّوں کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ بدقسمتی سے ہماری سیاست میں اخلاص کو کمزوری اور مفاد پرستی کو دانائی سمجھا جانے لگا ہے۔

اگر سیاسی جماعتوں کے اندر جھانک کر دیکھا جائے تو یہ حقیقت تلخ مگر واضح نظر آتی ہے کہ مخلص کارکن، نظریاتی ورکر اور اصول پسند شخص آہستہ آہستہ پس منظر میں دھکیل دیا جاتا ہے۔ چاہے وہ سوشل میڈیا پر پارٹی مؤقف کا دفاع کرنے والا ایکٹوسٹ ہو، مشکل وقت میں ڈٹ کر کھڑا رہنے والا سیاسی کارکن ہو یا جماعتی بیانیے کو قلم کے ذریعے عوام تک پہنچانے والا کالم نگار—اکثر اس کی قربانیوں کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔

سیاسی جماعتوں کی تاریخ گواہ ہے کہ جو لوگ پارٹی کے سربراہ، قائد، عہدیداران، دستور اور منشور کے ساتھ ہر آزمائش میں چٹان کی طرح کھڑے رہتے ہیں، وہی سب سے زیادہ نظرانداز ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس خوشامدی، مفاد پرست، چمچہ صفت اور نااہل عناصر محض شاطرانہ چالوں، وقتی وفاداریوں اور جھوٹی تعریفوں کے ذریعے خود کو کٹر کارکن ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ یہی عناصر کسی بھی جماعت کے اندر انتشار، بداعتمادی اور گروہ بندی کو جنم دیتے ہیں۔ یہی لوگ مخلص کارکنوں کے درمیان خلیج پیدا کرتے ہیں اور جماعت کی نظریاتی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ ان کی سیاست کا محور نظریہ نہیں بلکہ ذاتی مفاد ہوتا ہے۔ کسی نہ کسی صورت میں مراعات کا حصول—چاہے وہ پیکنگ چکر کی شکل میں ہوں، علاج و معالجے کے نام پر ہوں، نقد رقوم کی صورت میں ہوں یا دیگر ذاتی فوائد—ان کے سیاسی سفر کا اصل ہدف بن جاتا ہے۔

بدقسمتی سے ایسے عناصر پارٹی ڈسپلن، دستور اور منشور کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں اور بالآخر کسی بھی پارٹی کے لیے باعثِ شرمندگی بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی سیاسی جماعتیں وقتی طور پر تو مضبوط دکھائی دیتی ہیں، مگر اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہوتی ہیں۔

تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سیاسی جماعتیں خوشامدیوں، مفاد پرستوں اور موقع پرستوں سے نہیں بلکہ مخلص، اصول پسند اور باکردار کارکنوں سے مضبوط ہوتی ہیں۔ وہی جماعتیں دیرپا ثابت ہوتی ہیں جو اپنے نظریاتی ورکرز کو سرمایہ سمجھتی ہیں، ان کی آواز سنتی ہیں اور ان کے اخلاص کو عزت دیتی ہیں۔

اگر سیاسی جماعتیں واقعی مضبوط، باوقار اور عوامی اعتماد کی حامل بننا چاہتی ہیں تو انہیں اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔ مفاد پرست عناصر کے بجائے مخلص کارکنوں کو آگے لانا ہوگا، کیونکہ آخرکار تاریخ میں وہی جماعتیں سرخرو ہوتی ہیں جو اصولوں، قربانیوں اور اخلاص کی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہیں، نہ کہ خوشامدی سیاست اور وقتی مفادات پر۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *