نثار ستی ایک مکمل نظریہ

تاریخ کے بعض کردار وقت سے پہلے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر وقت ان سے آگے نہیں بڑھ پاتا۔ نثار ستی بھی ایسا ہی ایک نام ہے جسے عمر نے مہلت کم دی، مگر تاریخ نے جگہ وسیع عطا کی۔ کوٹلی ستیاں کی سیاسی اور فکری روایت میں نثار ستی ایک فرد نہیں، ایک عہد، ایک نظریہ اور ایک سوال ہے جو آج بھی جواب مانگتا ہے۔1966 میں کورینہ کلاں کی پہاڑی فضاؤں میں جنم لینے والا یہ نوجوان محض ایک سیاسی کارکن نہیں تھا، بلکہ شعور کا وہ چراغ تھا جو کراچی کی علمی روشنیوں سے جل کر واپس اپنے خطے کو منور کرنے آیا۔ اس کی تعلیمی زندگی کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں تھی۔ اے بی سینا اسکول، ڈی جے سائنس کالج اور این ای ڈی یونیورسٹی جیسے ادارے اس کے نصاب کا حصہ ضرور تھے، مگر اصل تعلیم اسے سوال اٹھانے، ظلم کے مقابل کھڑے ہونے اور نظریے پر سمجھوتہ نہ کرنے سے ملی۔پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن میں شمولیت اس کے لیے محض تنظیمی وابستگی نہ تھی، بلکہ یہ اس فکری سفر کی ابتدا تھی جس کا مرکز عوام، جمہوریت اور مزاحمت تھا۔ جنرل سیکرٹری سے لے کر صدر، نائب صدر اور ممبر آرگنائزنگ کمیٹی تک کے مناصب اس بات کا ثبوت تھے کہ نثار ستی میں قیادت کا وصف فطری تھا، عطا کردہ نہیں۔ وہ کارکنوں کو نعرے نہیں دیتا تھا، سمت دیتا تھا۔ضیاء الحق کے آمرانہ دور میں جب زبانیں بند اور ضمیریں گروی رکھی جا رہی تھیں، نثار ستی نے خاموشی کو قبول نہیں کیا۔ یہی وجہ تھی کہ اس کا نام دوستوں کے لیے امید اور مخالفین کے لیےتشویش بن گیا۔ بے نظیر بھٹو کی جانب سے اسے اعزاز دینا اور مخالف سیاسی قوتوں کی جانب سے اس کے نام پر تشویش کا اظہار اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ یہ نوجوان عام نہیں تھا۔1993 میں کراچی کی سیاست سے واپس کوٹلی ستیاں آنا کسی پسپائی کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ ایک شعوری فیصلہ تھا۔ وہ نظریہ جو بڑے شہروں میں پروان چڑھا، اسے پہاڑوں کے دامن میں عام آدمی کی زبان دینا اس کا مقصد تھا۔ اس نے جلسے کم، مکالمہ زیادہ کیا۔ اس نے سیاست کو نعرے سے نکال کر شعور کی سطح پر لانے کی کوشش کی۔1994 میں صرف 28 برس کی عمر میں اس کا دنیا سے چلے جانا ایک سانحہ ضرور تھا، مگر اس سے بڑا سانحہ وہ سوال ہے جو آج تک جواب کا منتظر ہے: کیا ہم نے اس کے خواب کو زندہ رکھا؟ بے نظیر بھٹو کا کابینہ سمیت کوٹلی ستیاں آنا محض تعزیت نہیں تھی، یہ اس نظریاتی رشتے کا اعتراف تھا جو نثار ستی نے عوام اور قیادت کے درمیان قائم کیا تھا۔نثار ستی کے نام پر ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات ہوئے، مگر سب سے اہم اعلان — نثار ستی ٹیکنیکل کالج — آج بھی فائلوں میں دفن ہے۔ یہ محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں ہونا تھا، بلکہ اس فلسفے کا عملی اظہار تھا جس کے مطابق علم، ہنر اور خودداری ایک دوسرے سے جدا نہیں۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نثار ستی کو صرف برسیوں اور تقاریر تک محدود نہ رکھا جائے۔ اس کے نام پر کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں۔ نثار ستی ٹیکنیکل کالج کا قیام کسی جماعت یا حکومت پر احسان نہیں ہوگا، بلکہ یہ تاریخ کے ایک قرض کی ادائیگی ہوگی۔
چراغ بجھ چکا ہے، مگر روشنی باقی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس روشنی سے راستہ بناتے ہیں یا اسے یادگار کی دھول میں گم کر دیتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *