عوام و طلبہ کا شدید ردعمل، فیصلے کو علم دشمنی قرار دے دیا گیا
کوٹلی ستیاں )راشد محمود ستی )میں دو سرکاری کالجز کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کر دیا گیا ہے۔اس فیصلے کے بعد پورے علاقے میں تشویش اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔عوامی حلقوں میں اس اقدام پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔علاقہ مکینوں نے فیصلے کو کھلی علم دشمنی قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل کوٹلی ستیاں کے بعض سرکاری سکول این جی اوز کے حوالے کیے گئے تھے۔این جی اوز ان سکولوں کو مؤثر انداز میں چلانے میں ناکام رہیں۔ناقص انتظامات کے باعث متعدد طلبہ تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔اب دوسرکاری کالجز کی آؤٹ سورسنگ سے سینکڑوں طلبہ کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔تحصیل کوٹلی ستیاں پہلے ہی ایک پسماندہ علاقہ تصور کی جاتی ہے۔یہاں بنیادی سہولتوں خصوصاً معیاری تعلیم کا شدید فقدان ہے۔تعلیم کی خاطر مقامی افراد راولپنڈی، اسلام آباد اور دیگر شہروں کی طرف ہجرت پر مجبور ہیں۔عوام نے منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور فیصلہ واپس لیا جائے۔