
ڈیرہ غازی خان ( بیوروچیف چوھدری احمد سے )
ڈیرہ غازی خان اور گردونواح میں ڈکیتی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے شہریوں کا جینا محال کر دیا ہے۔ تھانہ دراہمہ کی حدود میں واقع گگو چوک کے قریب مسلح ڈکیتوں نے فائرنگ کر کے ایک محنت کش تاجر کو بے دردی سے قتل کر دیا، جس کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
واقعہ کی تفصیلات:
تفصیلات کے مطابق، اللہ بخش عرف قالو اپنے بھائی امام بخش اور بھانجے کے ہمراہ گگو چوک پر واقع اپنی دکان نو بجے بند کر کے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔ اللہ بخش کا بھانجا موٹر سائیکل پر کچھ فاصلے پر آگے تھا کہ سرکاری نالے کے قریب پہلے سے گھات لگائے تین نامعلوم ڈکیتوں نے اسے اسلحے کے زور پر روک لیا اور نقدی چھین لی۔
اسی دوران پیچھے سے آنے والے دونوں بھائیوں، امام بخش اور اللہ بخش نے رک کر صورتحال جاننی چاہی۔ جب اللہ بخش عرف قالو نے مزاحمت یا آگے بڑھنے کی کوشش کی تو سفاک ڈکیتوں نے کلاشنکوف سے سیدھی فائرنگ کر دی۔ گولی ماتھے پر لگنے کی وجہ سے اللہ بخش موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ فائرنگ کی آواز سن کر جب اہل علاقہ جمع ہوئے تو ملزمان اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
انصاف کا قاتل کون؟
مقتول اللہ بخش چھ بیٹیوں کا واحد سہارا اور کفیل تھا۔ اس وحشیانہ قتل نے جہاں چھ بچیوں کے سر سے باپ کا سایہ چھین لیا ہے، وہاں تاجر برادری میں بھی شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ متاثرہ خاندان اور اہل علاقہ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی لاقانونیت کا نوٹس لیا جائے اور قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے نشانِ عبرت بنایا جائے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ “ظلم کی انتہا ہو چکی ہے، اب نہ شہر محفوظ ہیں نہ دیہات۔ کیا غریب تاجر کا خون اتنا سستا ہے؟”