بینظیر انکم سپورٹ پروگرام

ڈیرہ غازی خان ( چوھدری احمد سے ) میں اس وقت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی قسط چل رہی ہے اور غازی پارک کیمپ سائیڈ پر خواتین کو وائلٹ اکاؤنٹ کے حوالے سے سمیں بھی تقسیم کی جا رہی ہیں صورتحال یہ ہے کہ سموں والے کیمپ سائیڈ پر خواتین سے ہزار روپیہ فی کس لے کر سمیں دی جا رہی ہیں اور کیمپ سائیڈ پر عملی طور پر ٹاوٹوں کا قبضہ ہے ٹاؤٹوں سے رابطے کے بغیر سمیں نہیں ملتی جبکہ رقوم کی تقسیم میں وسیع پیمانے پر کریپشن کی جا رہی ہے کیونکہ اس بار بچوں کے وظائف بھی قسط کے ساتھ آئے ہیں اکثر خواتین سے پانچ سے دس ہزار کی کٹوتی کی جا رہی ہے جب یہ خواتین شکایت کیلئے دفتر جاتی ہیں تو کوئی ان کی بات نہیں سنتا اور نہ چیک کر کے بتایا جاتا ہے کہ کتنی رقم آئی ہے ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر نہ ہی دفتر آتے ہیں اور نہ فیلڈ میں نظر آتے ہیں اور انہوں نے ڈی جی خان کو ٹاؤٹوں کے ہاتھوں بیچ دیا ہے غریب و نادار عورتوں کی کوئی سننے والا نہیں ظلم کی انتہا یہ ہے کہ بیچاری خواتین کو ہراساں بھی کیا جاتا ہے اور ان کی عزت بھی محفوظ نہیں ہے ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر ڈی جی خان سرجیل عالم پٹھان اسسٹنٹ ڈائریکٹر تحصیل ڈی جی خان کھلم کھلا کریپشن کر رہے ہیں اور انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ضلعی انتظامیہ اور ایف آئی اے حکام بھی خاموش ہیں اور لوٹ مار پر کوئی بھی ایکشن نہیں لے رہا اور روزانہ لاکھوں کی بنیاد پر کریپشن ہو رہی ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے بیچای خواتین کہاں جائیں کسی عورت کو پیسے دئیے بغیر نہ ہی سم ملی ہے اور نہ ہی بغیر کٹوتی کے قسط ملی ہے ،ہمارا چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مطالبہ ہے کہ ان کرپٹ عناصر کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے شادلنڈ قائم سم سنٹر پر نصر اللہ ملغانی نے کریپشن کے نئے ریکارڈ قائم کئیے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *