لاڑ کے نامور شاعر یوسف واڈو شدید علیل، ثقافت محکمے کی عدم توجہی، جناح اسپتال کراچی منتقل

ٹھٹہ بیروچیف ایم اعجازچانڈیو مھرانوی
لاڑ کے تاریخی شہر گھارو سے تعلق رکھنے والے معروف شاعر، مرحوم شاعر علی محمد اڈیرائی کے بھائی، نامور شاعر یوسف واڈو طویل عرصے سے شدید علالت کے باعث بسترِ مرگ پر پڑے ہوئے ہیں، تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ سندھ کے ثقافت محکمے کی جانب سے تاحال کوئی عملی مدد یا سرپرستی فراہم نہیں کی گئی، جس کے باعث ان کی حالت بدستور تشویشناک ہے۔


تفصیلات کے مطابق شاعر یوسف واڈو کئی ماہ سے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں، مالی وسائل نہ ہونے کے سبب بروقت اور بہتر علاج ممکن نہ ہو سکا۔ حالت زیادہ بگڑنے پر ان کے بیٹے نے مجبوری کے تحت انہیں جناح اسپتال کراچی کی ایمرجنسی منتقل کیا، جہاں وہ زیرِ علاج ہیں۔
شاعر یوسف واڈو کی شاعری کو سندھ کے کئی نامور فنکاروں نے اپنی آواز دی، جن میں الھڈنو جونيجو، فوزیہ سومرو، محبوب خاصخیلی، تاج مستانی، محبوب راہی، سجاد یوسف، حميرا چنا، سمينه کنول، سمينه گڏي سمیت دیگر معروف گلوکار شامل ہیں۔ ان کی شاعری لاڑ کی ثقافت، درد اور محبت کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔
شاعر کے بیٹے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ
“ہم بنیادی طور پر کارپینٹر کا کام کرتے ہیں، ہماری آمدنی محدود ہے، بڑے علاج کے اخراجات برداشت کرنا ہمارے بس میں نہیں۔ والد صاحب کی طبیعت مسلسل خراب ہوتی جا رہی تھی اور اب حالت انتہائی نازک ہو چکی ہے۔ ہم اربابِ اختیار سے اپیل کرتے ہیں کہ سرکاری خرچ پر والد کا بہتر علاج کروایا جائے تاکہ ان کی جان بچائی جا سکے۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے چچا، نامور شاعر علی محمد اڈیرائی بھی طویل علالت اور غربت کے باعث بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے انتقال کر گئے تھے، اور اس وقت بھی ثقافت محکمے نے کوئی خاطر خواہ مدد فراہم نہیں کی تھی۔
شاعر کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ
“ثقافت کا محکمہ نامور شاعروں اور فنکاروں کی زندگی میں مدد نہیں کرتا، جس کے باعث ایک ایک کر کے سندھ اپنے فنکار، گلوکار اور شاعر کھوتا جا رہا ہے۔”
آخر میں شاعر یوسف واڈو کے اہلِ خانہ اور علاقہ مکینوں نے سندھ حکومت اور محکمہ ثقافت سے پرزور اپیل کی ہے کہ لاڑ کے نامور شاعر یوسف واڈو کے علاج کا فوری بندوبست کیا جائے اور انہیں سرکاری سرپرستی فراہم کی جائے، تاکہ ایک اور قیمتی ادبی آواز کو خاموش ہونے سے بچایا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *