خطابیات
عمرخطاب
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کا زینہ اور دورِ حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کا واحد ذریعہ ہے۔ جہاں ترقی یافتہ ممالک نے تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنا کر معاشی اور سماجی بلندیوں کو چھو لیا ہے، وہاں پاکستان کا تعلیمی نظام ابھی تک کئی بنیادی مسائل اور تضادات کا شکار ہے۔ پاکستانی نظامِ تعلیم کا عالمی معیارات کے ساتھ موازنہ کرنے سے وہ خلیج واضح ہوتی ہے جسے پُر کرنا ملکی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔
ترقی یافتہ ممالک اپنے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا چار سے چھ فیصد تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، پاکستان میں تعلیم کے لیے مختص بجٹ تاریخی طور پر بہت کم رہا ہے۔ اقتصادی سروے دو ہزار چوبیس تا دو ہزار پچیس کے مطابق پاکستان میں تعلیم کے شعبے پر مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا صرف صفر اعشاریہ آٹھ فیصد سے ایک اعشاریہ چار فیصد خرچ کیا جا رہا ہے، جو بین الاقوامی اور علاقائی معیار کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ اس قلیل بجٹ کا تقریباً نوے فیصد حصہ اساتذہ کی تنخواہوں اور دوسری انتظامی اخراجات کی نذر ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے انفراسٹرکچر اور تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے بہت کم گنجائش بچتی ہے۔
تعلیمی رسائی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کے مشکل ترین ممالک میں شامل ہے۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن (پی آئی ای) کی حالیہ رپورٹس کے مطابق دو کروڑ باسٹھ لاکھ سے زائد ایسے بچے سکولوں سے باہر ہیں جن کی عمریں پانچ سے سولہ برس کے درمیان ہیں۔ ان میں سے دو کروڑ بچوں نے کبھی سکول کا رخ نہیں کیا، جو بنیادی تعلیم سے محروم ہیں۔ سکول نہ جانے والے بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ملک میں تعلیمی صورتحال پر تشویشناک ہے۔ یہ شرح ترقی یافتہ ممالک کے بالکل برعکس ہے جہاں امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک میں لازمی تعلیم کا قانون سختی سے نافذ ہے اور تقریباً تمام بچے سکول جاتے ہیں۔ پاکستان میں سکولوں کی کمی کا عالم یہ ہے کہ ہر ایک ہزار بچوں کے لیے سکولوں کی دستیابی کم ہو کر دو اعشاریہ دو صفر رہ گئی ہے۔
پاکستان کا روایتی نظامِ تعلیم زیادہ تر رٹہ بازی اور امتحانات میں نمبروں کی دوڑ پر مبنی ہے۔ یہاں نصاب کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے میں مسلسل رکاوٹیں حائل رہی ہیں۔ موازنہ کیا جائے تو جاپان، فن لینڈ اور سنگاپور جیسے ممالک کا نظامِ تعلیم تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیتوں اور جذباتی ذہانت پر توجہ دیتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو تدریس کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے، جبکہ پاکستان میں اساتذہ کی بڑی اکثریت ان تصورات سے ناواقف ہے۔ البتہ خیبرپختونخوا حکومت نے اس جانب کام کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے جو خوش آئند ہے۔
بہرحال پاکستان میں تعلیمی معیار کی صورتحال تشویشناک ہے؛ ورلڈ بینک کے مطابق ستتر فیصد پاکستانی بچے (دس سال کی عمر تک) ایک سادہ عبارت پڑھنے کے قابل نہیں ہوتے، جسے ‘لرننگ پاورٹی’ کہا جاتا ہے۔ نیشنل اچیومنٹ ٹیسٹ (نیٹ) دو ہزار تئیس کے نتائج بتاتے ہیں کہ چوتھی جماعت کے طلبہ ریاضی اور انگریزی میں اوسطاً صرف بیالیس سے سینتالیس فیصد نمبر حاصل کر پائے۔ دوسری طرف، پروگرام فار انٹرنیشنل سٹوڈنٹ اسسمنٹ (پی آئی ایس اے) جیسے عالمی ٹیسٹوں میں سنگاپور اور جاپان جیسے ممالک پانچ سو سے زائد اسکور کے ساتھ سرفہرست ہیں، جو ان کے نظامِ تعلیم کی مضبوط بنیادوں کا ثبوت ہے۔
جدید دور میں ٹیکنالوجی کا استعمال تعلیمی ترقی کی بنیاد ہے، مگر پاکستان کے سرکاری سکولوں میں اس کی رسائی بہت محدود ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں صرف چار فیصد سرکاری سکولوں میں تدریسی مقاصد کے لیے انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ڈیجیٹل خواندگی اسّی سے نوے فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ پاکستان میں محض بیس فیصد لوگ پروگرامنگ اور ستائیس فیصد سپریڈ شیٹ کے استعمال جیسے بنیادی ڈیجیٹل ہنر جانتے ہیں۔
برطانیہ جیسے ممالک میں اساتذہ کے لیے پوسٹ گریجویٹ سرٹیفیکیٹ ان ایجوکیشن (پی جی سی ای) جیسے جامع اور عملی تربیتی پروگرام لازمی ہیں۔ پاکستان میں اساتذہ کی تربیت اکثر محض نظریاتی یا کتابی ہوتی ہے اور عملی مشق (پریکٹیکل) کا دورانیہ بہت کم ہوتا ہے۔ پاکستان کے چوبیس فیصد پرائمری سکول ‘سنگل ٹیچر’ سکول ہیں، جہاں ایک ہی استاد تمام کلاسوں کو پڑھاتا ہے۔ یہ صورتحال معیارِ تعلیم پر براہِ راست منفی اثر ڈالتی ہے۔
پاکستان کا نظامِ تعلیم اور ترقی یافتہ ممالک کے درمیان فرق صرف وسائل کا نہیں بلکہ ترجیحات اور وژن کا بھی ہے۔ جب تک پاکستان تعلیم کو قومی ہنگامی صورتحال (تعلیمی ایمرجنسی) کے طور پر تسلیم کر کے جی ڈی پی کا بڑا حصہ اس پر خرچ نہیں کرتا اور نصاب کو رٹے سے نکال کر تنقیدی سوچ کی طرف نہیں لاتا، تب تک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونا محض ایک خواب رہے گا۔