گزشتہ کئی برسوں سے عاصمہ جہانگیر کانفرنس خود کو انسانی حقوق، آئینی بالادستی اور جمہوری اقدار کے ایک نمائندہ پلیٹ فارم کے طور پر پیش کرتی آئی ہے۔ اس کانفرنس کا نام مرحومہ عاصمہ جہانگیر کی جدوجہد سے وابستہ ہے، جو پاکستان میں انسانی حقوق کی ایک توانا آواز سمجھی جاتی تھیں۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اس کانفرنس کی سمت، ترجیحات اور بیانیہ ایسے سوالات کو جنم دینے لگے ہیں جو محض نظریاتی اختلاف تک محدود نہیں بلکہ قومی سلامتی، ریاستی خودمختاری اور آئینی استحکام کے وسیع تر تناظر میں زیر بحث آ رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق اس فورم پر ہونے والی گفتگو میں توازن کا فقدان ہے اور ریاستی اداروں کے حوالے سے ایک منظم منفی تاثر کو تقویت دی جاتی ہے۔
جمہوریت اپنی اصل روح میں اداروں کو مضبوط کرتی ہے، ان میں اصلاح کی گنجائش پیدا کرتی ہے اور آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے احتساب کا نظام فراہم کرتی ہے۔ لیکن اگر جمہوریت کے نام پر ریاستی ستونوں کو مستقل ہدف تنقید بنایا جائے، انہیں مشکوک قرار دیا جائے اور قومی سلامتی کے تقاضوں کو نظرانداز کیا جائے تو اس کا نتیجہ اصلاح نہیں بلکہ انتشار کی صورت میں نکلتا ہے۔ عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں بعض تقاریر اور مباحث ایسے رخ اختیار کر لیتے ہیں جن میں افواجِ پاکستان اور سیکیورٹی اداروں کو داخلی استحکام کے ضامن کے بجائے ایک رکاوٹ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ حالانکہ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور ہائبرڈ جنگ جیسے پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جن میں ریاستی اداروں نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔
آزادیٔ اظہار یقیناً ہر جمہوری معاشرے کا بنیادی ستون ہے، مگر ہر حق کے ساتھ ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے۔ آئینِ پاکستان بھی آزادیٔ اظہار کو مکمل طور پر غیر محدود نہیں کرتا بلکہ قومی سلامتی، اخلاقیات اور عوامی نظم کے دائرے میں اس کی حدود متعین کرتا ہے۔ جب آزادیٔ اظہار کو ایک مطلق اور غیر مشروط حق کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اور اس کے ذریعے ایسے بیانیے کو جگہ دی جاتی ہے جو ریاستی رٹ کو کمزور کریں، تو اس کے اثرات دور رس ہوتے ہیں۔ اختلافِ رائے اور ریاست دشمنی کے درمیان ایک باریک مگر واضح لکیر موجود ہے، جس کا لحاظ رکھنا ہر ذمہ دار فورم کی ذمہ داری ہے۔
ایک اور پہلو جو مسلسل زیر بحث آتا ہے وہ بعض متنازع شخصیات اور گروہوں کو انسانی حقوق کے نمائندہ کے طور پر پیش کرنے کا رجحان ہے۔ ایسے عناصر جن کے بیانات یا سرگرمیاں قومی وحدت کے لیے سوالیہ نشان ہوں، انہیں محض ریاستی پالیسیوں کے ناقد کے طور پر پیش کر دینا ایک سادہ عمل نہیں بلکہ ایک پیچیدہ سیاسی پیغام رکھتا ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان کو درپیش بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی اور علیحدگی پسند تحریکوں کا ذکر اکثر ثانوی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ اس عدم توازن نے کانفرنس کی غیر جانبداری پر سوالات کو جنم دیا ہے۔
خواتین کے حقوق کے حوالے سے بھی بحث کا ایک اہم زاویہ سامنے آتا ہے۔ پاکستان میں خواتین کے مسائل حقیقی اور سنجیدہ ہیں اور ان کے حل کے لیے مربوط قانون سازی اور سماجی اصلاح ناگزیر ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض حلقے ’’عورت کارڈ‘‘ کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ایسے بیانیے کو فروغ دیتے ہیں جو معاشرتی تقسیم کو گہرا کرتے ہیں۔ عورت مارچ، بلوچ یکجہتی کمیٹی، پشتون تحفظ موومنٹ اور بعض غیر سرکاری تنظیموں کے حوالے سے بھی یہی مؤقف سامنے آتا ہے کہ ان کی سرگرمیوں میں بعض اوقات بین الاقوامی ایجنڈوں کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ اگرچہ یہ تاثر ہر حلقے کے لیے یکساں طور پر درست نہیں ہو سکتا، لیکن شفافیت کے فقدان اور متوازن مؤقف کی عدم موجودگی نے ان خدشات کو تقویت دی ہے۔
دہشت گردی کے حوالے سے عاصمہ جہانگیر کانفرنس کا رویہ بھی ناقدین کے لیے باعثِ تشویش رہا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 94 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دے چکا ہے اور معیشت کو 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز مسلسل فتنۃ الخوارج (ٹی ٹی پی) اور فتنۃ الہندوستان (بی ایل اے) جیسے گروہوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔ حالیہ برسوں میں بلوچستان میں متعدد مربوط حملوں کو ناکام بنایا گیا، جن میں سیکیورٹی اہلکاروں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ مگر ان واقعات پر کانفرنس کی جانب سے وہ دوٹوک اور واضح مذمت سامنے نہیں آئی جس کی توقع کی جاتی تھی۔ شہداء کے خاندانوں سے یکجہتی کے اظہار کی کمی بھی محسوس کی گئی۔
اس کے برعکس، بعض زیرِ حراست شخصیات یا متنازع سرگرمیوں میں ملوث افراد کی رہائی کے مطالبات کو انسانی حقوق کے بیانیے کے تحت بھرپور انداز میں پیش کیا گیا۔ یہ تاثر ابھرا کہ ریاستی اقدامات پر فوری اور سخت تنقید کی جاتی ہے، جبکہ دہشت گردی یا علیحدگی پسند بیانات کے حوالے سے محتاط یا نرم رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ یہی تضاد کانفرنس کے بارے میں شکوک کو تقویت دیتا ہے۔
عالمی سطح پر انسانی حقوق کے بحرانوں کے حوالے سے بھی مؤقف میں عدم توازن کا تاثر پایا جاتا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں طویل عرصے سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، ماورائے عدالت ہلاکتیں اور جبری گمشدگیاں عالمی رپورٹس کا حصہ ہیں۔ فلسطین میں اکتوبر 2023 کے بعد کی صورتحال نے انسانی تاریخ کے ایک دردناک باب کو رقم کیا ہے جہاں ہزاروں شہری، بشمول بڑی تعداد میں بچے، اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اگرچہ ان موضوعات پر کانفرنس میں گفتگو کی گئی، مگر براہِ راست اور واضح مذمت کا فقدان ناقدین کے لیے باعثِ حیرت رہا۔ اس کے برعکس، پاکستان کے داخلی فیصلوں، مثلاً غیر قانونی افغان مہاجرین کی واپسی، پر سخت مؤقف اختیار کیا گیا۔
اپریل 2024 میں جرمن سفیر الفریڈ گرناس کی موجودگی میں ایک نوجوان کی جانب سے غزہ کے مسئلے پر سوال اٹھانے کے واقعے نے بھی بحث کو جنم دیا۔ اطلاعات کے مطابق اس نوجوان کو خاموش کرایا گیا، جس پر ملک بھر میں ردعمل سامنے آیا۔ بعد ازاں 2026 میں بھی آزادیٔ اظہار کے موضوع پر منعقدہ ایک نشست میں ایک شرکاء کو ہٹائے جانے کی خبر سامنے آئی، جب اس نے اسرائیل کے اقدامات پر تنقید کی۔ ان واقعات نے یہ سوال اٹھایا کہ کیا کانفرنس واقعی ہر قسم کے اختلافی نقطہ نظر کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں۔
مالی شفافیت کا معاملہ بھی توجہ طلب ہے۔ ایک ایسے دور میں جب ہائبرڈ جنگ اور اطلاعاتی محاذ آرائی عالمی سیاست کا حصہ بن چکی ہے، کسی بھی بڑے فورم کی فنڈنگ کے ذرائع اور آڈٹ شدہ رپورٹس کا عوام کے سامنے ہونا اعتماد کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے مالی معاملات کے حوالے سے مکمل شفافیت نہ ہونا ناقدین کو یہ کہنے کا موقع دیتا ہے کہ کہیں بیرونی اثر و رسوخ داخلی مباحث پر اثرانداز تو نہیں ہو رہا۔
تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما اختر جان مینگل کو مدعو کیا گیا اور انہوں نے مبینہ طور پر بلوچستان کی علیحدگی سے متعلق خیالات کا اظہار کیا۔ پاکستان کا آئین وفاق کی وحدت اور سالمیت کو بنیادی اصول قرار دیتا ہے۔ اس تناظر میں کسی بھی علیحدگی پسند بیان کو نہ صرف سیاسی بلکہ آئینی مسئلہ بھی سمجھا جاتا ہے۔ ایسے خیالات کو کسی قومی سطح کے فورم پر جگہ ملنا اور حاضرین کی جانب سے مثبت ردعمل ملنا، ریاستی حلقوں اور عوامی سطح پر تشویش کا باعث بنا۔ اس پر کانفرنس کی جانب سے واضح وضاحت یا معذرت سامنے نہ آنا مزید سوالات کو جنم دیتا ہے۔
سول سوسائٹی کا کردار ریاستی نظام کی اصلاح، کمزور طبقات کی نمائندگی اور آئینی بالادستی کے فروغ میں اہم ہے۔ لیکن اگر یہ کردار ریاستی ڈھانچے کو مسلسل مشکوک بنانے، علیحدگی پسند سوچ کو جواز دینے یا بیرونی مداخلت کے پہلو کو نظرانداز کرنے میں تبدیل ہو جائے تو اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔ پاکستان ایک پیچیدہ جغرافیائی اور سیاسی ماحول میں واقع ہے جہاں بیرونی قوتیں داخلی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ ایسے میں داخلی فورمز کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اگر کسی دوسرے صوبے میں کوئی کانفرنس علیحدگی کی بات کرے تو کیا اسے بھی وہی آزادی میسر ہوگی؟ کیا ریاستی ادارے ایسے بیانات کو نظرانداز کر دیں گے؟ اگر نہیں، تو پھر یکساں معیار کیوں نہیں اپنایا جاتا؟ قانون کی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ آئینی حدود سب کے لیے برابر ہوں، خواہ وہ سیاست دان ہوں، وکلا ہوں یا سول سوسائٹی کے نمائندے۔
پاکستان کی خودمختاری، آئینی نظم اور وفاقی وحدت ناقابلِ سمجھوتہ اصول ہیں۔ انسانی حقوق کی جدوجہد اسی وقت موثر ہو سکتی ہے جب وہ متوازن، غیر جانبدار اور قومی مفاد سے ہم آہنگ ہو۔ اگر کسی فورم پر ہونے والی گفتگو ریاستی اداروں کو کمزور کرنے، دہشت گردی کے بیانیے کو نظرانداز کرنے یا علیحدگی پسند خیالات کو تقویت دینے کا تاثر دے، تو اس پر سوال اٹھانا جمہوری حق ہے۔
پاکستان کا مستقبل قومی یکجہتی، ادارہ جاتی احترام اور دہشت گردی کے خلاف غیر مبہم مؤقف سے وابستہ ہے۔ عاصمہ جہانگیر کانفرنس سمیت ہر فورم کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آزادی اور خودمختاری ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ تکمیل ہیں۔ اگر انسانی حقوق کی وکالت ریاستی استحکام کے ساتھ ہم آہنگ ہو تو وہ طاقت بنتی ہے، اور اگر وہ توازن کھو دے تو تنازع کو جنم دیتی ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مکالمہ ذمہ داری، شفافیت اور آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے آگے بڑھے تاکہ پاکستان کی وحدت، استحکام اور خودمختاری محفوظ رہ سکے۔