تحریر : محمد حنیف کاکڑ راحت زئی
گزشتہ چند دنوں سے ضلع قلعہ سیف اللہ کی سیاسی فضا میں ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے۔ مختلف حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں اور قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں کہ سب تحصیل لوئی بند یا اس کی بعض یونین کونسلوں کو برشور میں ضم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ بعض عناصر یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ برشور کی آبادی ضلع کا درجہ حاصل کرنے کے لیے ناکافی ہے، اس لیے انتظامی توازن قائم کرنے کی غرض سے لوئی بند کو شامل کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس حوالے سے کوئی سرکاری نوٹیفکیشن، باضابطہ اعلامیہ یا مصدقہ دستاویز سامنے نہیں آئی۔ اس کے باوجود سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس مسئلے کو غیر معمولی انداز میں اچھالا جا رہا ہے، جس سے شکوک و شبہات اور بے یقینی کی فضا پیدا کی جا رہی ہے۔
افسوس کا مقام یہ ہے کہ بعض سیاسی مخالفین اور نام نہاد کمیٹیوں کے ذمہ داران کی ایما پر چند ناتجربہ کار سیاسی کارکن اور سوشل میڈیا صارفین قائد جمعیت بلوچستان و سینیٹر حضرت مولانا عبد الواسع صاحب کے خلاف بے بنیاد، لغو اور من گھڑت الزامات عائد کر رہے ہیں۔ یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مولانا عبد الواسع صاحب اس ممکنہ انضمام کے حامی یا محرک ہیں، حالانکہ یہ دعویٰ حقائق سے یکسر متصادم اور بد نیتی پر مبنی ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر کردار کشی اور جھوٹے بیانیے کی ترویج کسی طور قابلِ قبول نہیں۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حضرت مولانا عبد الواسع صاحب نے سب تحصیل لوئی بند سمیت ضلع قلعہ سیف اللہ کے طول و عرض میں جو ترقیاتی منصوبے مکمل کروائے اور جو عملی اقدامات اٹھائے، وہ عوام کے سامنے ہیں۔ شاہراہوں کی تعمیر و مرمت، تعلیمی اداروں کے قیام و بہتری، صحت کے مراکز کی فعالیت، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی ان کی عملی کارکردگی کا ثبوت ہیں۔ لوئی بند تحصیل مسلم باغ کی ایک تاریخی، جغرافیائی اور انتظامی اکائی ہے، جو برسوں سے ضلع قلعہ سیف اللہ کا بنیادی حصہ چلی آ رہی ہے۔ مولانا عبد الواسع صاحب ہمیشہ اس کی شناخت، وحدت اور انتظامی حیثیت کے تحفظ کے حامی رہے ہیں اور رہے گے۔
یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ لوئی بند جمعیت علماء اسلام کا ایک مضبوط عوامی مرکز اور سیاسی گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ ایک باشعور سیاسی قیادت اپنے مضبوط عوامی مرکز کو کمزور کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ درحقیقت بعض عناصر سیاسی میدان میں کارکردگی اور خدمت کے ذریعے مقابلہ نہ کر پانے کے باعث منفی ہتھکنڈوں، افواہوں اور الزام تراشی کا سہارا لے رہے ہیں۔ جب دلیل کمزور ہو جائے تو پروپیگنڈا کو ہتھیار بنایا جاتا ہے، مگر باشعور عوام حقائق اور افواہوں میں تمیز کرنا بخوبی جانتے ہیں۔
حضرت مولانا عبد الواسع صاحب ایک متوازن سوچ رکھنے والے، خیر خواہ اور غریب پرور رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی سیاست کا محور ذاتی مفاد نہیں بلکہ اجتماعی ترقی، علاقائی استحکام اور عوامی فلاح و بہبود ہے۔ انہوں نے ہمیشہ ضلع قلعہ سیف اللہ کے تمام تحصیلوں کو منظم، مربوط اور مضبوط بنانے کی بات کی ہے تاکہ علاقہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔ کسی بھی قدرتی واقعہ، انتظامی تبدیلی یا افواہ کو بلاجواز ان کے کھاتے میں ڈال دینا سیاسی بد دیانتی کے مترادف ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ حساس انتظامی معاملات کو سنجیدگی، شفافیت اور باہمی مشاورت کے ساتھ دیکھا جائے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ سنی سنائی باتوں اور جذباتی نعروں کے بجائے مستند معلومات اور زمینی حقائق پر اعتماد کریں۔ جمہوریت میں اختلاف رائے کا حق محفوظ ہے، مگر الزام تراشی، کردار کشی اور انتشار پھیلانا کسی بھی معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
لوئی بند کی تاریخی اہمیت، عوامی وابستگی اور انتظامی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر فیصلہ وسیع تر عوامی مفاد میں ہونا چاہیے۔ مثبت، تعمیری اور باوقار سیاست ہی وہ راستہ ہے جو علاقے کو ترقی، استحکام اور یکجہتی کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔