ضلع ٹھٹھہ میں بڑھتا ہوا جرائم کا گراف: صنعتی ترقی یا انتظامی غفلت؟

ضلع ٹھٹھہ ایک تاریخی، ثقافتی اور طویل عرصے تک پُرامن شناخت رکھنے والا علاقہ رہا ہے، مگر گزشتہ چند مہینوں کے دوران ضلع کے مختلف علاقوں جن میں گھارو، مکلی، جھمپیر، سجاول روڈ اور اطراف کے صنعتی زونز شامل ہیں، میں جرائم، ڈکیتیوں، چوری اور مبینہ اغوا کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

یہ صورتحال نہ صرف عوام میں خوف و ہراس اور بے چینی پیدا کر رہی ہے بلکہ مجموعی طور پر ضلع کے امن و امان پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر رہی ہے۔

بلاشبہ صنعتی ترقی کسی بھی علاقے کے لیے معاشی خوشحالی کا باعث بن سکتی ہے۔

ضلع ٹھٹھہ میں قائم ہونے والی نئی فیکٹریاں، پاور پلانٹس اور صنعتی یونٹس روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں، تاہم افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس ترقی کے ساتھ سیکیورٹی انتظامات، انتظامی نگرانی اور سماجی ذمے داری کو بری طرح نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

ضلع ٹھٹھہ اس وقت عملی طور پر ایک بڑے انڈسٹریل زون کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں سندھ سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں مزدور، کنٹریکٹ ورکرز، سیکیورٹی گارڈز اور فنی عملہ بھرتی کیا جا رہا ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا ان تمام افراد کی مکمل شناخت، نادرا بائیومیٹرک تصدیق اور پولیس ویریفکیشن کی جا رہی ہے؟ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بیشتر فیکٹریوں میں بھرتیاں تھرڈ پارٹی کنٹریکٹرز کے ذریعے کی جا رہی ہیں، جہاں جانچ پڑتال محض کاغذی کارروائی تک محدود رہتی ہے۔

حالیہ وارداتوں پر اگر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو یہ محض اتفاق نہیں لگتیں۔ مخصوص اوقات، مخصوص مقامات اور منظم انداز میں ہونے والے جرائم اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جرائم پیشہ عناصر کے پاس اندرونی معلومات موجود ہیں۔ یہ امکان رد نہیں کیا جا سکتا کہ بعض افراد مزدور یا ملازم کے روپ میں رہتے ہوئے جرائم پیشہ نیٹ ورکس سے منسلک ہوں اور فیکٹریوں کی ٹائمنگ، ملازمین کی نقل و حرکت اور مقامی حالات سے متعلق معلومات فراہم کر رہے ہوں۔
دوسری جانب ضلع میں ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز، مزدوروں کی رہائش گاہوں اور کرائے کے مکانات میں مقیم غیر مقامی افراد کی باقاعدہ چیکنگ کا مؤثر نظام بھی نظر نہیں آتا، جو جرائم میں اضافے کا ایک بڑا سبب بن رہا ہے۔ پولیس کے محدود وسائل اور نفری کے باعث بڑھتی آبادی اور صنعتی دباؤ کو کنٹرول کرنا بھی ایک سنجیدہ چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

ایسی صورتحال میں اشد ضرورت اس بات کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور صنعتی ادارے مشترکہ طور پر اپنی ذمے داری کا احساس کریں۔ تمام فیکٹریوں، صنعتی یونٹس اور پاور پلانٹس کو پابند کیا جائے کہ وہ ہر ملازم، ورکر اور سیکیورٹی اسٹاف کا مکمل ڈیٹا مقامی پولیس کے ساتھ شیئر کریں۔ نئے بھرتی ہونے والے افراد کی نادرا بائیومیٹرک تصدیق اور پولیس ویریفکیشن کو لازمی قرار دیا جائے، جبکہ رہائشی علاقوں میں غیر مقامی افراد کی باقاعدہ نگرانی کا نظام بھی مؤثر بنایا جائے۔

مزید برآں پولیس، ضلعی انتظامیہ، فیکٹری انتظامیہ اور مقامی نمائندوں پر مشتمل مشترکہ سیکیورٹی کمیٹیاں قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے، تاکہ بروقت معلومات کا تبادلہ، مشکوک سرگرمیوں پر نظر اور جرائم کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ امن و امان اور سماجی ذمے داری کو ترجیح نہ دی گئی تو یہی ترقی عوام کے لیے خوشحالی کے بجائے ایک سنگین خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ ضلع ٹھٹھہ کی پُرامن شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے اب محض بیانات نہیں بلکہ ٹھوس، عملی اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *