​ ڈیرہ غازی خان میں پھیلتی شوگر: مہنگی ادویات یا سستا دیسی علاج؟

​( ڈیرہ غازی خان تحریر: چوہدری احمد )

​موجودہ دور میں جہاں مہنگائی نے عام آدمی کا جینا دوبھر کر دیا ہے، وہاں خاموش قاتل “ذیابیطس” (شوگر) نے ہمارے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اگر ہم اپنے علاقے ڈیرہ غازی خان، یارو کھوسہ اور گردونواح کا جائزہ لیں، تو یہاں شوگر کے مریضوں کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس کی بڑی وجوہات میں غیر معیاری خوراک، بازاری مشروبات کا بڑھتا ہوا استعمال اور اپنی روایتی دیسی غذاؤں سے دوری ہے۔

​ہمارے علاقے میں غریب طبقہ زیادہ ہے جو مہنگے اسپتالوں اور قیمتی ادویات کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ ایسے میں ہمیں قدرت کے عطا کردہ ان سستے اناج کی طرف دیکھنا ہوگا جو ہمارے اپنے کھیتوں میں اگتے ہیں مگر ہم انہیں بھول چکے ہیں۔

​مقامی اجناس: شوگر کے خلاف قدرتی ڈھال

تحقیق بتاتی ہے کہ گندم کے مقابلے میں جو (Barley) اور باجرہ شوگر کو کنٹرول کرنے میں کہیں زیادہ مددگار ہیں۔ ڈیرہ غازی خان کی زمین جوار، باجرہ اور مکئی کے لیے بہت زرخیز ہے۔

​جو کا دلیہ: خون میں شوگر کی سطح کو مستحکم رکھتا ہے۔
​بھنے ہوئے چنے: یہ غریب کے لیے سستا پروٹین بھی ہیں اور شوگر کے مریضوں کے لیے بہترین ناشتہ یا اسنیک بھی۔
​جوار اور باجرہ: ان میں موجود فائبر چینی کے خون میں شامل ہونے کی رفتار کو سست کر دیتا ہے۔
​یارو کھوسہ اور ڈی جی خان کے لیے پیغام

ہمارے علاقے کے لوگوں کو چاہیے کہ وہ سفید آٹے اور چینی کے کثرتِ استعمال کو ترک کر کے دوبارہ اپنے بزرگوں والی روایتی خوراک یعنی باجرے اور جو کی روٹی کو اپنائیں۔ یہ نہ صرف سستی پڑے گی بلکہ ہمیں انسولین اور مہنگی گولیوں سے بھی بچائے گی۔

​حکومتِ وقت اور محکمہ زراعت کو چاہیے کہ وہ ڈیرہ غازی خان کے کسانوں کو ان اجناس کی کاشت پر خصوصی رعایت دیں تاکہ عام آدمی کو سستی اور صحت بخش خوراک میسر آ سکے۔ یاد رکھیے، اگر ہم آج اپنی خوراک درست نہیں کریں گے، تو کل ہماری آنے والی نسلیں بیماریوں کی دلدل میں پھنسی ہوں گی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *