نوجوانوں کا بڑھتا شوق، مگر مایوس مستقبل کبھی پاکستان ہاکی کی دنیا میں ایک ناقابلِ تسخیر قوت سمجھا جاتا تھا۔ اولمپکس، ورلڈ کپ اور ایشین گیمز میں سبز ہلالی پرچم فخر سے بلند ہوتا تھا اور پوری قوم اپنے ہیروز پر ناز کرتی تھی۔ ہاکی صرف ایک کھیل نہیں بلکہ قومی شناخت کا حصہ تھی۔ آج وہی قومی کھیل زوال کی ایسی تصویر بن چکا ہے جسے دیکھ کر دل دکھتا ہے اور سوال اٹھتا ہے: آخر قصور کس کا ہے؟یہ حقیقت ہے کہ آج بھی پاکستان کے نوجوانوں میں ہاکی کا شوق زندہ ہے۔ گلی محلوں، سکولوں اور کالجوں میں بچے ہاکی اسٹک تھامے نظر آتے ہیں، مگر ان کے خواب راستے میں ہی دم توڑ دیتے ہیں۔ وجہ صاف ہے: سرپرستی، سہولیات اور مستقبل کی واضح راہ کا فقدان۔ جب نوجوان یہ دیکھتا ہے کہ ہاکی کھیل کر نہ روزگار ملے گا، نہ عزت، نہ مستقل کیریئر، تو وہ دل برداشتہ ہو کر کسی اور کھیل یا شعبے کا رخ کر لیتا ہے۔المیہ یہ ہے کہ جس کھیل نے پاکستان کو عالمی سطح پر سب سے زیادہ اعزاز دلائے، آج وہی سب سے زیادہ نظرانداز ہے۔ کرکٹ کو بجا طور پر مقبولیت اور وسائل حاصل ہیں، مگر دیگر کھیلوں، خاص طور پر قومی کھیل ہاکی، کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے وہ ناانصافی سے کم نہیں۔ نہ گراس روٹ لیول پر کام ہے، نہ سکول و کالج ہاکی کو سنجیدگی سے فروغ دیا جا رہا ہے، اور نہ ہی پاکستان ہاکی فیڈریشن میں استحکام نظر آتا ہے۔اکیڈمیز کا فقدان، جدید ٹریننگ سہولیات کی کمی، کوچز کی عدم توجہ اور بار بار انتظامی بحران نے ہاکی کو کمزور کر دیا ہے۔ اس کے برعکس دنیا کے دیگر ممالک ہاکی کو سائنسی بنیادوں پر آگے بڑھا رہے ہیں، جدید آسٹروٹرف، فٹنس پروگرام اور نوجوان ٹیلنٹ کی مسلسل نگرانی ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔سب سے زیادہ نقصان اس نوجوان کو ہو رہا ہے جو جذبہ، محنت اور ٹیلنٹ رکھتا ہے مگر اسے یہ یقین نہیں کہ اس کا مستقبل محفوظ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہاکی کھیلنے والا نوجوان خود کو تنہا محسوس کرتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ وہ ایک ایسے خواب کے پیچھے دوڑ رہا ہے جس کی تعبیر شاید کبھی نہ ملے۔اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست، کھیلوں کے ادارے اور نجی شعبہ مل کر ہاکی کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کریں۔ سکول سطح پر ہاکی کو لازمی بنایا جائے، ضلعی اور صوبائی سطح پر مضبوط لیگز متعارف کروائی جائیں، کھلاڑیوں کے لیے روزگار اور وظائف کا نظام بنایا جائے اور سب سے بڑھ کر، ہاکی کو وہ عزت واپس دی جائے جس کی وہ حقدار ہے۔اگر آج بھی ہم نے اپنے قومی کھیل کو نظرانداز کیا تو کل تاریخ ہمیں ایک ایسی قوم کے طور پر یاد رکھے گی جس نے اپنے ہی ورثے کو خود اپنے ہاتھوں سے دفن کر دیا۔ ہاکی ابھی زندہ ہے، بس اسے سہارا، توجہ اور سچّی نیت کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں ہاکی کا عروج و زوال