تہران (اے بی این نیوز ) خطے میں جاری کشیدگی نے ایک اور خطرناک موڑ لے لیا ہے اور ایران کی جانب سے یورپین یونین کے ایک رکن ملک پر پہلے حملے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور سفارتی حلقوں میں ہنگامی مشاورت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
یورپی قیادت نے اس واقعے کو خطے سے باہر تنازع پھیلانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا عندیہ دیا ہے۔ یورپین یونین کے ترجمان کے مطابق رکن ممالک کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور مشترکہ ردعمل پر غور جاری ہے۔
اگر حملے کی مکمل تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ تنازع مشرقِ وسطیٰ سے نکل کر یورپ تک پھیلنے کا خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔ نیٹو اور دیگر اتحادی ممالک بھی صورتحال کا بغور جائزہ لے رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر اس خبر کے بعد شدید بحث جاری ہے اور عالمی امن کے لیے فوری جنگ بندی کی اپیلیں سامنے آ رہی ہیں۔ عالمی مبصرین کے مطابق آئندہ چند گھنٹے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
برطانوی اخبار کے مطابق ایران نے بیلسٹک میزائل قبرص کی جانب داغے، جہاں برطانیہ کا ایک فوجی اڈہ موجود ہے۔ یہ دعویٰ برطانوی وزیرِ دفاع کے حوالے سے سامنے آیا ہے جس کے بعد یورپ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق میزائل حملوں کا رخ قبرص کی اس تنصیب کی طرف تھا جسے برطانیہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنی عسکری حکمتِ عملی کے لیے استعمال کرتا ہے۔ واقعے کے بعد یورپی اور برطانوی حکام کی جانب سے ہنگامی مشاورت شروع کر دی گئی ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس حملے کی مکمل تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ تنازع ایک نئے جغرافیائی دائرے میں داخل ہو سکتا ہے، کیونکہ قبرص یورپین یونین کا رکن ملک ہے اور اس پر کسی بھی قسم کا حملہ اجتماعی سلامتی کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔
تاحال نقصانات یا جانی خسارے کی حتمی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم سوشل میڈیا پر اس خبر کے بعد شدید بحث جاری ہے اور عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔