از قلم: حسنین سرور جکھڑ
ہم روزانہ جتنی بار دوسروں پر تنقید کرتے ہیں ان کی غلطیاں گنتے ہیں ان کے فیصلوں کا مذاق اڑاتے ہیں یا ان کی سوچ کو کمتر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کبھی سوچا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ انسان کے اندر ایک چھپا ہوا بادشاہ ہے جو ہمیشہ خود کو حق پر سمجھتا ہے ایک ایسا ڈکٹیٹر جو اپنے فیصلوں کو حرف آخر سمجھتا ہے یہ ڈکٹیٹر کبھی گھر میں نظر آتا ہے کبھی دفتر میں کبھی دوستوں کی محفل میں کبھی یونیورسٹی میں اور کبھی سماج میں لیکن اصل عجب یہ کہ ہم اس بات کو ماننے کے لیے بھی تیار نہیں کہ ہم واقعی اپنے اندر کوئی زبردستی مسلط حکمران رکھتے ہیں ہم اپنے خیالات کو سچ سمجھتے ہیں اور باقی سب کو غلط ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے ہماری ہاں میں ہاں ملائیں ہماری پسند کو پسند کریں ہمارے نظریے کو اپنا لیں ہماری سوچ کو بغیر سوال قبول کریں اور اگر کوئی شخص اختلاف کرے تو ہم اسے ضدی، جاہل، گستاخ ،کم عقل یا دشمن قرار دینے میں دیر نہیں لگاتے یہی تو ڈکٹیٹر کی تعریف ہے جو صرف اپنی مرضی کو قانون سمجھتا ہے اور یہی سوچ ہم سب میں کسی نہ کسی درجے میں موجود ہے بعض لوگوں میں یہ اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ تعلقات کو توڑ دیتی ہے گھر برباد کر دیتی ہے اُستاد ،شاگرد والا احترام ختم ہو جاتا ھے دوستیوں کو ختم کر دیتی ھے اور معاشرے کو انتشار میں ڈال دیتی ھے لیکن اس کا احساس نہ ہمارے اندر جاگتا ہے نہ ہم مانتے ہیں کہ بیماری ہمارے اپنے دل میں چھپی ہوئی ہے ہر شخص اپنے فیصلوں کو بہترین سمجھتا ہے خواہ معاملہ روزمرہ زندگی کا ہو یا اخلاق کا یا مذہب اور سیاست کا ہم دوسروں پر اثر انداز ہونے کے لیے کئی طریقے استعمال کرتے ہیں کبھی زبانی حاکمیت دکھاتے ہیں، کبھی خاموش رہ کر دباؤ ڈالتے ہیں کبھی دوسرے کی رائے کو سنے بغیر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی سخت رویہ اپنا کر دوسروں سے وہ کام کرواتے ہیں جو ہم چاہتے ہیں یہ سب اندر کے اسی چھوٹے بڑے ڈکٹیٹر کی کارستانیاں ہیں جو ہر وقت ہمارے اندر جاگتا رہتا ہے اور ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ تم ٹھیک ہو باقی سب غلط ہیں اگر ہم دفتر میں جائیں تو وہاں بھی یہی ڈکٹیٹر ہمیں چلائے رکھتا ہے ہم چاہتے ہیں کہ ساتھی ہماری بات کو بغیر دلیل مان لیں ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا فیصلہ آخری ہو ہم یہ برداشت نہیں کر پاتے کہ کوئی شخص بہتر تجویز پیش کر دے ہم اپنے ماتحت کو سر جھکانے پر مجبور کرتے ہیں اور اپنے افسر سے اس انتظار میں رہتے ہیں کہ وہ ہماری تعریف کرے ہماری رائے کی قدر کرے اور ہمیشہ ہمیں اہم سمجھے اس طرح ایک ہی دفتر میں کئی چھوٹے چھوٹے ڈکٹیٹر گھوم رہے ہوتے ہیں جو اپنی اپنی سلطنت قائم کرنے میں مصروف رہتے ہیں یونیورسٹی کے پروفیسر سے لے کر کلرک سب اپنی سلطنت میں بادشاہ ہوتے ہیں اور وہ دوسروں کی رائے کو سنے بغیر اپنی حاکمیت کو قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ہماری معاشرتی زندگی میں بھی یہی مسئلہ غالب ہے ہم خود کو دوسروں سے بہتر ثابت کرنا ضروری سمجھتے ہیں ہم توجہ چاہتے ہیں تعریف چاہتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ دوسرے ہماری بات مانے کیونکہ ہم حق پر ہیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ ہم سب انسان ہیں غلطی کے پتلے ہیں محدود علم کے مالک ہیں مگر اپنی غلطی کا اعتراف کرنا ہمیں کمزور محسوس ہوتا ہے اسی لیے ہم اس حقیقت سے بھاگتے ہیں اس سے نظر چراتے ہیں اور اس کے بجائے دوسروں پر حکم چلاتے رہتے ہیں
اگر کوئی شخص ہماری رائے سے اختلاف کرے تو ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ہماری عزت کم کر رہا ہے اگر کوئی ہمارا مشورہ نہ مانے تو ہم اسے نافرمان سمجھتے ہیں اگر کوئی ہماری مرضی کے خلاف فیصلہ کرے تو ہم اسے برا ثابت کرنے لگتے ہیں اور دل میں یہ سوچنے لگتے ہیں کہ کاش اس کے پاس وہ عقل ہوتی جو ہمارے پاس ہے یہ سوچ بھی اس ڈکٹیٹر کی پیداوار ہے جو اندر بیٹھا ہماری شخصیت کو فریب دیتا رہتا ہے
اصل ڈکٹیٹر وہ نہیں جو ملک پر حکومت کرتا ہے اصل ڈکٹیٹر وہ ہے جو ہمارے اندر بیٹھ کر ہمیں سچائی سے بھٹکاتا ہے انسان سے انسان کا رشتہ کمزور کرتا ہے اور زندگی کو ایک مسلسل جنگ میں تبدیل کر رہا ہے ہم ان حکمرانوں کو تو برا کہتے ہیں جو قوموں پر جبر کرتے ہیں مگر اپنے اندر کے اس حکمران کی بددیانتی کو کبھی نہیں دیکھتے اگر ہم اپنے اندر کے اس ڈکٹیٹر کو پہچان لیں تو بہت سارے مسائل خود بخود حل ہو جائیں ہم گفتگو کرنا سیکھ جائیں گے ہم اختلاف کو برداشت کرنا سیکھ جائیں گے ہم اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کو شرمندگی نہیں سمجھیں گے ہم دوسروں کی رائے کو اپنا دشمن نہیں سمجھیں گے اور سب سے بڑھ کر ہم محبت احترام اور برداشت کو اپنی زندگی کا اصول بنا لیں گے یہ تبدیلی ایک گھر کو…