کل فیس بک پر ایک ڈاکٹر صاحب کا بیان سنا وہ کہہ رہے تھے،کہ جب سے ایپسٹین فائل سے یپتاچلاہے کہ ایپسٹین جیفری نے پولیومہم کو خصوصی طورپرانڈیااورپاکستان کے لیے سپانسرکیا ہے اورجب سے بل گیٹس کانام اس کے ساتھ آیاہے۔اورایک فائل میں لکھاہے کہ جب دنیامیں کوئی وباپھیل جائے توہم whoکواپروچ کرکے ویکسین بیچ سکتے ہیں۔ اس وقت سے بہت ساشک درمیان میں آگیا ہے۔ تو ڈاکٹر صاحب کہہ رہے تھے،کہ پولیوکے جوقطرے پاکستان میں پلائے جارہے ہیں حکومت اس ویکسین کی جانچ کرائے کہیں اس میں کوئی سازش تونہیں ہے،البتہ انہوں نے کہامیں پولیوکے قطرے پلانے کے خلاف نہیں ناکوئی میرے اس بیان سے یہ مطلب نکالے، وغیرہ۔ اسے کہتے ہیں معصومانہ خواہش کہ اس سے پہلے ڈاکٹرصاحب کا دھیان اس بات کی طرف نہ گیا کہ پولیویا کوئی بھی ویکسین جوپاکستان کے عوام کو دی جارہی ہے،کیا وہ پاکستان کے عوام یا موسمی حالات کے مطابق ہے بھی کہ نہیں،اورکیا کسی بھی ڈاکٹر جوپاکستان میں سرکاری یا غیرسرکاری علاج ومعالجہ میں مصروف ہے۔اسے کسی بھی ویکسین کے بارے میں کوئی علم ہے یا وہ خودکوئی ویکسین بناپائے ہیں اورکیوں نہیں؟ آج جب خودیہودونصاریٰ نے انہیں جرائم پیشہ ثابت کیا تواب ان لوگوں کو شک ہو رہا ہے کہ وہ جرائم پیشہ لوگ شاید بھلائی کے روپ میں یہ بھی کوئی برائی کررہے ہوں۔ تو کیاہمارے ڈاکٹرجو کو مسلمان ہیں،اور نمازروزہ حج وزکوٰۃ اوراسلامی لباس سے مزین ہیں،اوران میں سے کچھ ڈاکٹرجوتھوڑابہت اسلامی مطالعہ کرلیتے ہیں،وہ علمائے امت،امامانِ امت، حتیٰ کہ بعض تو صحابہ کرام کو بھی خاطرمیں نہیں لاتے،اورآج کے زمانے کے انگلش پرست انہیں صرف اس بات پرکہ وہ ڈاکٹرہیں ان کے پاس علم ہے،ان کی ریسرچ ہے مان لیتے ہیں۔ لیکن جس فیلڈمیں انہیں ریسرچ کرنا چاہیے تھی،یا جس کے علم سے وہ واقف تھے، اس میں توانسانی بھلائی کی کوئی ریسرچ نہ کی بلکہ وہی کفارجن کے بارے میں اللہ اوررسول ﷺنے منع فرمایا ہواہے،کہ ان پراعتمادنہیں کرنا،ان کو اپنے کام نہیں سونپنا،انہیں اپنا خیرخواہ نہ ماننا۔انہیں پراعتمادکرکے خودکوہی نہیں ساری امت کو ان کے حوالے کردیا۔یہودونصاری سے دوستی اورانہیں اپنے کام سونپنے سے اللہ نے قرانِ پاک میں منع فرمایا ہواہے۔لیکن ہم نے کہاحدیث ہے کہ علم سیکھنے کے لیے کہ چین جانا پڑے توبھی جاو۔چلواسی بات کو مان لیتے ہیں کہ علم سیکھنے کے لیے یہودونصاریٰ سے بھی سیکھو،لیکن کیا علم صرف یہی ہے کہ یہودونصاریٰ کے کاروبارکو چلایاجائے؟ علم تویہ ہے کہ جس کے سیکھنے کے بعد انسان اپنی عقل وشعور سے اس علم میں اپنی قومی یامذہبی ضروریات کے مطابق خودکوئی کمی بیشی سے کچھ بناسکے یااپنے علم کووسعت دے کراپنی زبان یا فہم کے مطابق اپنی آنے والی نسلوں کووہ علم منتقل کرسکے کہ آئندہ وہ کفار کے قدموں میں بیٹھنے کے بجائے اپنی قومی،مذہبی اورثقافتی حیثیت سے ان علوم سے فائدہ اٹھا سکیں۔آزادی کے بعد سے آج تک پاکستان میں جتنی بھی تعلیم و تربیت دی جارہی ہے،وہ ساری کی ساری صرف یہ ہے کہ قوم کو تسلیم کرایا جارہا ہے،کہ دنیا میں اگرجینا ہے توصرف انگلش تعلیم وتربیت ہی اس کا ایک حل ہے۔سائنس وعلم صرف یورپ کی جاگیرہے، اس سے اگراستفادہ کرنا ہے تویورپ کے تعلیمی اداروں سے ہوسکتا ہے، اورجہاں تک وہ اجازت دیں صرف اتنا ہی اس علم پرعمل کیا جاسکتاہے،اس سے آگے اس علم میں تحقیق وتنوع اوروہ بھی انگلش کے علاوہ کسی اور زبان میں ممنوع ہے۔ہمارے یہاں اللہ اوررسولﷺ پر،دین پر،ملک وقوم پرسوال اٹھانا توآزادی اظہارکے حق میں آتا ہے،لیکن کسی یہودونصاریٰ کے کام پریا ان کی ذات پرسوال اٹھانا منع ہے، جیسے پولیوکی ویکسین،کورونااورکورونا کی ویکسین پراگرکسی نے قران وحدیث سے ثابت کرکے بھی سوال اٹھایا تواسے حق اظہارِ رائے نہیں۔ بلکہ اسے دشمنِ انسانیت،فندامینڈلسٹ اوردہشت گردتک کہا جاتا ہے۔ کیوں؟کیا کفارکی تحقیق کواللہ اوراس کے رسولﷺ کے حکم پر فوقیت دینے سے ہمارے ایمان اوراسلام میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔جبکہ ہم لوگوں کوتاویلیں کرکے مشرک اورکافر قرار دینے والے،خود اللہ او ر رسولﷺ کے احکام کی سرِ عام نفی کررہے ہیں۔قرانِ پاک کی اگرایک آیت کا انکارکرنے والا کافر ہے چاہے وہ نمازروزہ حج وزکوٰۃپرباقاعدہ عامل ہوجیسے قادیانی ختم نبوت کی آیت کے منکرہیں۔ایسے ہی باقی بھی کسی ایک آیت کے منکر(چاہے وہ انکارعملی ہویازبانی)ٌٌ اللہ کے نزدیک کفرہی کررہے ہیں چاہے لوگ انہیں نہ کہیں۔توجب اللہ نے فرمادیا ہے کہ فاسقوں کی کسی بھی خبرکو بغیرتحقیق کے نہ مانو،ایک جگہ فرمایا ہے،کہ یہودونصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہوسکتے،یہ خودمیں بعض بعض کے دوست ہیں۔اورایک جگہ فرمایاکہ یہودونصارٰ کواپنے کام نہ سونپو۔توجب ہم نے صحت و معیشت اورتعلیم ان کو سونپ دئیے توپھر ہمارے داڑھی رکھنے،سے اوراسلامی لباس پہننے سے لوگ توہمیں مسلمان ہی سمجھیں گے،لیکن کیاہم اللہ کے ہاں بھی مسلمان ہی ہیں؟اس پرہمیں اپنے گریباں میں جھانک کرسوچناچاہیے۔،علامہ اقبال نے کہا تھا، دل ہے مسلماں میرا نہ تیرا،توبھی نمازی میں بھی نمازی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے دین کی سمجھ اوراس پرعمل کرنے کی توفیق عطافرمائے آمین۔ وما علی الا البلاغ۔
ایپسٹین کی خبرکے بعد۔