مصنوعی ذہانت کو شعبہ تعلیم میں خوش آمدید

خطابیات . عمر خطاب

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اے آئی کو نصاب میں شامل کرنے کا جو فیصلہ سنایا ہے، وہ اس لیے خوش آئند سمجھتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) موجودہ دور میں تعلیمی شعبے میں ایک انقلابی قوت بن کر ابھری ہے، جس نے طریقہ ہائے تدریس، اسسمنٹ کی تکنیک اور انتظامی عمل کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں ایک لحاظ سے تعلیم کی ڈیجیٹلائزیشن محض ایک سہولت نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔ اے آئی اساتذہ کو بااختیار بنانے اور طلباء کے لیے سیکھنے کے عمل کو زیادہ دلچسپ اور مؤثر بنانے کے بے پناہ مواقع فراہم کرتی ہے۔
اے آئی کی سب سے بڑی خوبی اس کی ایڈاپٹیویٹی ہے، یعنی یہ ہر طالب علم کی انفرادی ضرورت، طاقت اور کمزوری کے مطابق تعلیمی مواد تیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی روایتی تعلیمی نظام کے برعکس طلباء کو ان کی اپنی رفتار سے سیکھنے کا موقع دیتی ہے۔ مثال کے طور پر، انٹیلیجنٹ ٹیوٹرنگ سسٹمز طالب علم کو ہر قدم پر فیڈ بیک دے کر اسے پیچیدہ سوالات، خصوصاً ریاضی کے پیچیدہ سوالات حل کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس سے طلباء کو اپنی غلطیوں کو فوری طور پر درست کرنے اور بہتر طریقے سے سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

طلبہ کے علاوہ اساتذہ بھی اپنے وقت کی بچت اور تدریس پر بہتر توجہ دینے کے لیے جدید ٹولز کا استعمال کر سکتے ہیں۔ برائٹ کلاس ایپ ایک پرسنل ٹیچنگ اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتا ہے جو لیسن پلان، سوالیہ پرچے اور پاور پوائنٹ پریزنٹیشنز بنانے میں مدد دیتا ہے۔ اسی طرح اسکوائرل اے آئی ہر طالب علم کی ضرورت کے مطابق تعلیمی مواد تیار کرتا ہے اور اس کی تعلیمی پیشرفت کو ٹریک کرتا ہے۔ علاوہ ازیں کوپائلٹ ایجوکیشن ایپ اساتذہ کو فوری طور پر ہینڈ آؤٹس اور منظم سبق کے منصوبے تیار کر کے دیتا ہے۔ گریڈ اسکوپ نتائج، گریڈنگ اور سکورنگ کے عمل کو تیز اور ہموار بناتا ہے، جس سے اساتذہ کی توانائی اور وقت بچتا ہے۔ سب سے بڑھ کر ٹرن اِٹ اِن ایک ایسا ٹول ہے جو طلبہ کے کام میں ممکنہ سرقہ، نقل، یا پلیجیرزم کی نشاندہی کر کے تعلیمی دیانتداری کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ ان ٹولز کے استعمال سے اساتذہ اپنی تدریسی صلاحیتوں کو مزید نکھار سکتے ہیں اور طلباء کو بہتر تعلیمی تجربہ فراہم کر سکتے ہیں۔

لیکن یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جہاں اے آئی جدت لا رہی ہے، وہاں اس کے ساتھ سنگین اخلاقی چیلنجز بھی وابستہ ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ ڈیٹا پرائیویسی کا ہے۔ تعلیمی ادارے طلباء کا حساس ڈیٹا اکٹھا کرتے ہیں، جس کے تحفظ کے لیے ٹھوس پالیسیوں کی ضرورت ہے تاکہ اس کا غلط استعمال نہ ہو سکے۔ دوسرا بڑا چیلنج الگورتھمک منیجمنٹ کا ہے۔ اگر اے آئی ماڈلز کو فراہم کردہ ڈیٹا غیر متوازن ہو، تو یہ صنف، نسل یا سماجی حیثیت کی بنیاد پر غیر منصفانہ فیصلے کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، آن لائن امتحانات کے دوران استعمال ہونے والے نگرانی کے نظام طلباء میں تناؤ اور بے چینی کا باعث بن سکتے ہیں، جو کہ ہمارے صوبے میں موجود امتحانی ہالز کے کیمرہ سسٹم سے ثابت ہو چکا ہے۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعلیمی اداروں کو محتاط اور ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ہوگا۔

اے آئی کی کارکردگی سے کسی کو انکار نہیں، تاہم اے آئی کو کبھی بھی اساتذہ کا متبادل نہیں بننا چاہیے بلکہ اسے ایک مشین ہی سمجھنا ہوگا اور ایک مددگار کے طور پر استعمال کرنا چاہیے جو صرف انسان کا کام آسان بنا دیتا ہے۔ تعلیمی نظام میں انسان کا مرکزی مقام میں رہنا انتہائی ضروری ہے، یعنی تمام اہم تعلیمی فیصلے انسانوں (اساتذہ اور والدین) کے ہاتھ میں ہونے چاہئیں۔ اساتذہ ہی وہ واحد قوت ہیں جو ہمدردی اور سیاق و سباق کی بنیاد پر طالب علم کی بہتر رہنمائی کر سکتے ہیں، جو کہ اے آئی کے بس کی بات نہیں۔ اساتذہ کی رہنمائی اور تجربہ طلباء کی تعلیمی اور ذاتی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

حکومت وقت، اسٹیک ہولڈرز اور تعلیمی پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ اے آئی کو اپناتے وقت تعلیمی ترجیحات اور طلبہ کی حفاظت کو مقدم رکھیں۔ اساتذہ اور طلبہ میں اے آئی سے متعلق خواندگی کو فروغ دیں تاکہ وہ اس کے خطرات اور فوائد کو سمجھ سکیں۔ ڈیٹا کے تحفظ اور الگورتھمک شفافیت کے لیے سخت قوانین اور ضابطہ اخلاق تیار کریں۔ اس سے نہ صرف تعلیمی نظام میں اے آئی کا مؤثر استعمال ممکن ہوگا بلکہ طلبہ اور اساتذہ کے حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔

آخر میں یہ کہیں گے کہ مصنوعی ذہانت دوسرے شعبہ ہائے زندگی کی طرح تعلیم کے مستقبل کا ایک اہم حصہ ہے، لیکن اس کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم اسے کتنی ذمہ داری اور اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر استعمال کرتے ہیں۔ اگر ہم انسانوں کو مرکز میں رکھ کر ٹیکنالوجی کا درست استعمال کریں، تو ہم ایک زیادہ انصاف پسند اور مؤثر تعلیمی نظام تشکیل دے سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف تعلیمی معیار میں بہتری آئے گی بلکہ طلبہ کو مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بہتر طور پر تیار کیا جا سکے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *