تحریر-نظام الدین
بلدیہ کراچی (KMC)کے ایک
ملازم مرزا کامران کا کیس جب سامنے آیا تو وہ اپنے ہی محکمے کی ڈپٹی ڈائرکٹر کے ایماء پر ان کی بیٹی حوریہ مہناز کو دو کروڑ روپے سے زائد رقم کمانڈر سٹی ہاؤسنگ اسکیم میں پلاٹ کی بکنگ میں ادا کرچکے تھے انہوں نے وہاں ایک پلاٹ قسطوں پرخریدا تھا تقریباً تمام قسطیں ادا کر دی تھیں مگر پھر ایک تنازعہ کھڑا ہو گیا کہ یہ ہاؤسنگ اسکیم قانونی نہیں ہے؟ رقم کی واپسی پر حوریہ مہنازاور اس کے کارندے رقم واپس کرنےکے بجائے مختلف ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں جس سے اس کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے، کمانڈر سٹی سپر ہائی وے ایم 9 کے قریب کم آمدنی والے طبقے کو سستی رہائش کا ایک سنہری خواب دکھا کر لوگوں کے اربوں روپے ہڑپ کر چکا ہے کمانڈر سٹی کے چیئرمین زاکر خان اپنے آپ کو پاک بحریہ کے رٹائرڈ کمانڈر بتاتے ہیں اسی وجہ اس ہاؤسنگ اسکیم کا نام کمانڈر سٹی رکھا گیا تھا، اگر مرزا کامران اپنی رقم کی واپسی کے لیے خدانہ خواستہ کوئی منفی قدم اُٹھاتا ہے تو اس کا زمہ دارکون ہوگا؟ کراچی وہ بدقسمت شہر ہے جہاں زمین کی خاطر سب سے زیادہ قتل ہوتے ہیں عدالتوں میں قبضے اور جعلی کاغذات کے کیس بھی سب سے زیادہ دائر ہوتے ہیں حالیہ دنوں ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز آف پاکستان”آباد”
جوپاکستان کی تعمیراتی صنعت، بلڈرز اور ڈویلپرز کے حقوق اور مفادات کی نمائندگی کرتا ہے،اس کی بنیاد 1972 میں رکھی گئی تھی۔اسے کمپنیز آرڈیننس 1984 کے تحت رجسٹر کیا گیا تھا اور ایف پی سی سی آئی سے منسلک ہے۔ملک بھر کے تقریباً 1,400 سے زائد تعمیراتی کمپنیاں، بلڈر، ہاؤسنگ/پلاٹ ڈویلپرز، کنسٹرکشن کمپنیاں شامل ہیں،
حال ہی میں میڈیا رپورٹس میں”آباد کے عہدیداران نے کہا ہے کہ کراچی میں بھتہ خوروں نے”آباد” ممبران کےکاروبار کو نشانہ بنایا ہے، مگر انہوں نے یہ نہیں بتایا”آباد”ممبران کے کتنے ہاؤسنگ پروجیکٹ ایسے ہیں جنہوں نے عوام کو اربوں روپے کا چھونا لگایا ہوا ہے؟ میں نے زمین فروشی پر تحقیق شروع کی تو پتہ چلا دنیا میں سب سے زیادہ نفع بخش کاروبار ہی زمین فروشی کا ہے، اوردنیا کی طاقتور شخصیات اس کاروبار سے منسلک ہیں،دنیا میں زمین کی ملکیت کا لین دین قدیم زمانے سے انسانی معاشروں میں موجودتھا اس پر باقاعدہ قانون سازی دنیا میں مختلف ادوار میں مختلف ممالک نے کی، مگر دنیا کا سب سے پہلا زمین کی ملکیت، کا منظم قانون پارلیمنٹ آف ساؤتھ آسٹریلیا نے 27 جنوری 1858ء کو متعارف کرایا
یہ قانون دنیا میں (ٹورینز ٹائٹل سسٹم) کے نام سے مشہور ہوا، جس کا مقصد یہ تھا کہ زمین کے مالک کا حق سرکاری رجسٹر میں درج ہو اس کے لیے پیچیدہ دستاویزات کی ضرورت نہ رہے
مالک کو ایک سرکاری ٹائٹل سرٹیفکیٹ ملے
رجسٹری میں درج مالک کا حق ناقابلِ چیلنج سمجھاجائے جب تک فراڈ نہ ثابت ہو۔اس قانون کے تحت زمین کا لین دین صرف رجسٹر میں اندراج کے ذریعے ہو”یعنی” تحریری دستاویزات سرکاری ریکارڈ میں شامل ہو اس طرح دنیا میں بڑے پیمانے پر زمین کی انتظامی تبدیلیاں آئیں خاص طور پر ریاست کی طرف سے زمین کو منظم طریقے سے ریکارڈ کرنے کا طریقہ اپنایا گیا برطانیہ میں رجسٹریشن کے لیے لینڈ ٹرانسفر ایکٹ 1875 اور لینڈ رجسٹر ایکٹ 1925 اور 2002 جیسے قوانین آئے، پاکستانی عدالتیں برطانوی قانون کو فالو کرتی ہیں اس لیے یہاں بھی اسی قانون کے تحت زمین رجسٹر ہوتی ہیں، شاید اسے قوانین بنائے کی ضرورت اس لیے پیش آئی اس کاروبار میں دنیا کے بڑی شخصیات شامل ہوچکی تھی “یعنی زمین کی خرید و فروخت میں اسی لیے زمین کی قیمت ہمیشہ بڑھتی رہتی ہیں اس لیے یہ شعبہ طاقتور شخصیات کے لیے سرمایہ کاری کا پسندیدہ ذریعہ رہا ہے۔دنیا کے سپر پاور ملک امریکہ کے صدر کا اصل تعارف ہی رئیل اسٹیٹ ہے۔ان کی کمپنی دی ٹرمپ
آرگنائزیشن دنیا بھر میں لگژری ہوٹلز، گالف کورسز اور رہائشی ٹاورز کی مالک ہے۔نیویارک کا مشہور ٹرمپ ٹاور، ان کے نام سے منسوب ہے، روس کے صدر پوتن اپنی آمدنی بہت کم ظاہر کرتے ہیں، لیکن عالمی سطح پر انہیں دنیا کا امیر ترین شخص سمجھا جاتا ہے جس کی دولت کا بڑا حصہ رئیل اسٹیٹ میں چھپا ہوا ہے۔
بلیک سی پیلس بحیرہ اسود کے ساحل پر ایک عظیم الشان محل پوتن پیلس ان سے منسوب کیا جاتا ہے، اٹلی کے سابق وزیراعظم برلسکونی نے اپنی دولت کا آغاز رئیل اسٹیٹ سے ہی کیا تھا۔ انہوں نے 1960 کی دہائی میں دو ملین کے نام سے ایک پورا رہائشی شہر تعمیر کیا تھا۔ان کے پاس اٹلی اور دنیا بھر میں درجنوں پرتعیش ولاز اور کمرشل عمارتیں تھیںلبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری مشرق وسطیٰ کے بڑے بزنس مین تھے۔ وہ کئی تعمیراتی کمپنی کے مالک تھے جس نے سعودی عرب اور لبنان میں بڑے بڑے تعمیراتی منصوبے مکمل کیے۔ لبنان کی خانہ جنگی کے بعد بیروت کی دوبارہ تعمیر میں ان کا رئیل اسٹیٹ بزنس سب سے آگے تھا۔ تھا، کسن شناوترا
تھائی لینڈ کے سابق وزیراعظم بھی ایک بڑے کاروباری شخصیت تھے۔
سیاست میں آنے سے پہلے انہوں نے رئیل اسٹیٹ اور ٹیلی کام کے شعبے میں اربوں ڈالر کمائے۔ لندن اور دبئی میں ان کی مہنگی ترین جائیدادیں میڈیا کی زینت بنتی رہی ہیں۔اقتدار اور رئیل اسٹیٹ سے جڑے کئی ممالک کے حکمران خاندانوں موجود ہیں جیسے خلیجی ممالک کے شاہی خاندان کی تمام تر دولت زمین اور جائیداد کی ترقی سے جڑی ہوئی ہے اکثر جمہوری ممالک میں صدر اور وزرائے اعظم پر یہ پابندی ہوتی ہے کہ وہ عہدے پر رہتے ہوئے اپنا کاروبار خود نہیں چلا سکتے پاکستان میں بھی سیاست اور رئیل اسٹیٹ کا گہرا تعلق رہا ہے۔کئی سابق صدر اور وزرائے اعظم ایسے ہیں جن کا براہِ راست یا ان کے خاندان کا بالواسطہ تعلق رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے رہا ہے۔آصف علی زرداری اور ان کے خاندان کا رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں اثر و رسوخ کافی زیادہ مانا جاتا ہے۔آصف زرداری کے نام پر”پارک لین اسٹیٹ” نامی کمپنی موجود ہے جو اسلام آباد اور دیگر علاقوں میں قیمتی زمینوں کی مالک ہے۔ ان کا خاندانی گروپ زراعت کے ساتھ ساتھ رئیل اسٹیٹ اور شوگر ملز کے کاروبار سے بھی وابستہ ہے۔ دبئی میں بھی ان کی کمرشل اور رہائشی جائیدادیں موجود ہیں، سابقہ وزیر اعظم نواز شریف
کے بیٹوں حسن اور حسین نواز کا لندن میں رئیل اسٹیٹ کا بڑا کاروبار ہے، جہاں وہ مہنگی جائیدادوں کی خرید و فروخت اور ڈیویلپمنٹ کرتے ہیں
دنیا بھر میں ریٹائرڈ یا حاضر سروس فوجی جرنیلوں کا رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے وابستہ ہونا کوئی نئی بات نہیں کئی ممالک میں فوج ایک ادارے کے طور پر پراپرٹی ڈیویلپمنٹ کرتی ہے، جبکہ کچھ ممالک میں انفرادی طور پر جرنیل اس کاروبار میں شامل ہوتے ہیں۔
پاکستان میں فوج کا رئیل اسٹیٹ میں کردار دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں بہت زیادہ منظم ہے۔
ڈی ایچ اے یہ پاکستان کا سب سے بڑا رئیل اسٹیٹ نیٹ ورک ہے جو براہِ راست فوج کے زیرِ انتظام کام کرتا ہے۔ یہاں ریٹائرڈ جرنیل انتظامی عہدوں پر فائز ہوتے ہیں۔
بحریہ ٹاؤن میں کئی ریٹائرڈ جرنیلوں مثلاً سابق آرمی چیف کے بھائیوں اور دیگر اعلیٰ فوجی افسران شراکت داری یا سہولت کاری کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ مصر کی فوج کواقتصادی سلطنت” کہا جاتا ہے مصری فوج ملک کے رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کرتے ہیں صحرا میں نئی بستیوں کے قیام کا تمام تر کنٹرول فوجی جرنیلوں کے پاس ہے۔ مصر کی درجنوں تعمیراتی کمپنیاں ریٹائرڈ جرنیل چلا رہے ہیں،
انڈونیشیا کی تاریخ میں فوجی جرنیلوں کا سیاست اور کاروبار پر گہرا اثر رہا ہے۔ سابق صدر اور جنرل سوہارتو کے دور میں فوجی جرنیلوں کو بڑی بڑی جاگیریں اور پراپرٹی ڈیویلپمنٹ کے لائسنس دیے گئے تھے۔آج بھی وہاں کئی ریٹائرڈ جرنیل بڑے رئیل اسٹیٹ گروپس کے مالکان یا بورڈ ممبرز ہیں۔
تھائی لینڈ میں فوج کی سیاست میں مداخلت بہت زیادہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ معیشت میں بھی۔تھائی فوج کے پاس ملک کے اہم حصوں میں وسیع زمینیں موجود ہیں۔ کئی ریٹائرڈ جرنیل ہوٹلز، گالف کورسز اور ہاؤسنگ پروجیکٹس کے کاروبار سے وابستہ ہیں وینزویلا جیسے ممالک میں صدر نکولس مادورو نے اپنی وفاداری برقرار رکھنے کے لیے فوجی جرنیلوں کو اہم معاشی شعبے سونپے ہوئے ہیں۔ یہاں کے جرنیل نہ صرف تیل کی صنعت بلکہ رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں بھی بڑے پیمانے پر منافع بخش کاروبار کر رہے ہیں۔امریکہ میں فوج ایک ادارے کے طور پر رئیل اسٹیٹ کا کاروبار نہیں کرتی، لیکن کئی ریٹائرڈ جرنیل پرائیویٹ سیکٹر میں موجود ہیں، بدقسمتی سے پاکستان میں کچھ اسکیمیں ایسی ہیں جن کے نام میں فوجی یا بڑی شخصیات کے القابات آتے ہیں بہت سے کیسز میں ان کی قانونی حیثیت متنازع رہی ہے یا سرکاری منظوری نہ ہونے کی وجہ سے وہ قابلِ اعتبار نہیں سمجھے جاتے کئی اسکیمیں مثلاً بحریہ ٹاؤن کمانڈر سٹی فضائیہ ہاؤسنگ اسکیموں کے نام پر شروع ہوئی مگر اس کے بارے میں انہیں قانونی اور انتظامی تنازعات کا سامنا رہا، اور NAB نے بھی تحقیقات کی ہیں
بہت سے متاثرین نے دعویٰ کیا کہ اسکیم مکمل طور پر ترقی یافتہ یا قانونی طور پر محفوظ نہیں
ایسی اسکیمیں اکثر فوجی نام استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ سرمایہ کاروں کو راغب کیا جا سکے“فوج، نیوی، ایئر فورس، ڈیفنس، آرمی” جیسے الفاظ اسکیم کے نام میں ہونے سے وہ حقیقت میں فوج سے وابستہ نہیں ہوتیں بہت سی اسکیمیں صرف اعتماد جیتنے کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرتی ہیں، اس کے لیے کوئی قابل اعتبار قانون بھی نظر نہیں آتا لوگ یہاں اپنی جمع پونجی لگاکر دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوتے ہیں مرزا کامران تو ایک مثال ہے ،،