بلوچستان خصوصی ترقیاتی اقدام (BSDI): محرومی کے خاتمے، استحکام اور ترقی کی جانب ایک فیصلہ کن قدم

بلوچستان خصوصی ترقیاتی اقدام (BSDI) حکومتِ بلوچستان کا ایک ایسا جامع اور دور رس ترقیاتی منصوبہ ہے جو محض سڑکوں، عمارتوں یا اسکیموں تک محدود نہیں بلکہ ایک پوری سوچ، ایک بیانیے اور ایک تاریخی محرومی کے ازالے کی عملی کوشش ہے۔ بلوچستان دہائیوں سے جغرافیائی وسعت، کم آبادی، دشوار گزار علاقوں، کمزور انفراسٹرکچر اور ریاستی توجہ کی کمی جیسے مسائل کا شکار رہا ہے، جس کے نتیجے میں یہاں احساسِ محرومی نے جنم لیا۔ یہی احساسِ محرومی وقتاً فوقتاً بعض سیاسی عناصر اور شدت پسند گروہوں کے لیے ایک مؤثر ہتھیار بنتا رہا، جس کے ذریعے نوجوانوں کو ریاست کے خلاف اکسانے اور منفی بیانیہ پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ BSDI اسی پس منظر میں ایک مثبت، عملی اور حقیقت پسندانہ جواب کے طور پر سامنے آیا ہے۔

یہ منصوبہ اس بنیادی حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ پائیدار امن اور استحکام محض سیکیورٹی اقدامات سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے ترقی، روزگار، سہولیات اور عوامی شمولیت ناگزیر ہے۔ BSDI کی اصل روح یہی ہے کہ بلوچستان کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والا شہری بھی خود کو ریاست کا برابر کا حصہ سمجھے، اسے صاف پانی میسر ہو، اس کے بچوں کو اسکول اور علاج کی سہولت دستیاب ہو، اور اسے اپنے علاقے میں ترقی کے آثار نظر آئیں۔ جب ریاست کی موجودگی صرف چیک پوسٹ یا کارروائی تک محدود نہ رہے بلکہ سڑک، اسکول، ہسپتال، بجلی اور پانی کی صورت میں نظر آئے تو محرومی کا بیانیہ خود بخود کمزور پڑ جاتا ہے۔

بلوچستان خصوصی ترقیاتی اقدام کی ایک بڑی خوبی اس کا ضرورت پر مبنی اور کمیونٹی سینٹرڈ ماڈل ہے۔ ماضی میں اکثر ترقیاتی منصوبے کاغذی ضرورتوں یا سیاسی ترجیحات کے تحت بنائے جاتے رہے، جن کا زمینی حقائق سے کم ہی تعلق ہوتا تھا۔ BSDI اس روایت کو بدلنے کی کوشش ہے، جہاں منصوبوں کی نشاندہی ضلعی سطح پر، عوامی مشاورت اور مقامی فیڈبیک کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اس سے نہ صرف وسائل کا درست استعمال ممکن ہوتا ہے بلکہ مقامی آبادی کو یہ احساس بھی ملتا ہے کہ ترقی ان پر مسلط نہیں کی جا رہی بلکہ ان کی اپنی ضرورتوں کے مطابق ہو رہی ہے۔

سڑکوں اور پلوں کی تعمیر محض سفری سہولت نہیں بلکہ معاشی سرگرمی کی بنیاد ہوتی ہے۔ بلوچستان میں رابطہ کاری کے کمزور نظام نے کئی علاقوں کو عملی طور پر باقی دنیا سے کاٹ رکھا تھا۔ BSDI کے تحت بہتر سڑکوں اور ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کی فراہمی سے نہ صرف عوام کی روزمرہ زندگی آسان ہوگی بلکہ مقامی مصنوعات، زراعت، معدنیات اور دیگر وسائل کو منڈیوں تک رسائی ملے گی۔ یہ عمل براہِ راست غربت میں کمی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے، جو شدت پسندی کے خلاف سب سے مضبوط دیوار ثابت ہوتے ہیں۔

صاف پینے کے پانی کی فراہمی بلوچستان کے سب سے بڑے مسائل میں سے ایک رہی ہے۔ پانی کی قلت اور آلودہ پانی نے صحت کے سنگین مسائل کو جنم دیا، جس کا سب سے زیادہ اثر خواتین اور بچوں پر پڑا۔ BSDI کے تحت واٹر سپلائی اور فلٹریشن منصوبے اس بنیادی انسانی ضرورت کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہیں۔ جب ریاست شہری کو اس کی بنیادی ضرورت فراہم کرتی ہے تو اعتماد بحال ہوتا ہے، اور یہی اعتماد شدت پسند بیانیے کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن جاتا ہے۔

اسی طرح شمسی توانائی اور عوامی اداروں کی بجلی فراہمی نہ صرف ماحول دوست حل ہے بلکہ بلوچستان جیسے صوبے کے لیے ایک عملی ضرورت بھی ہے، جہاں بجلی کی فراہمی طویل عرصے سے غیر یقینی رہی ہے۔ اسکول، ہسپتال اور دیگر عوامی ادارے اگر مستقل بجلی سے آراستہ ہوں تو ان کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے اور عوامی خدمات کا معیار بلند ہوتا ہے۔ یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسا ماحول تشکیل دیتے ہیں جہاں نوجوانوں کے لیے بندوق کے بجائے قلم، ہنر اور روزگار زیادہ پرکشش بن جاتا ہے۔

تعلیم اور صحت کے شعبے کسی بھی معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔ BSDI کے ذریعے اسکولوں اور صحت کے مراکز کی تعمیر و بحالی دراصل مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوان نہ صرف اپنے لیے بہتر مواقع تلاش کرتا ہے بلکہ وہ انتہا پسندانہ نظریات کو بھی سوالیہ نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اسی طرح صحت کی بہتر سہولیات عوامی اطمینان میں اضافہ کرتی ہیں اور ریاست کے بارے میں مثبت تاثر کو فروغ دیتی ہیں۔ یہ وہ عوامل ہیں جو خاموشی سے مگر مضبوطی سے انتہا پسندی کی جڑیں کمزور کرتے ہیں۔

بلوچستان خصوصی ترقیاتی اقدام کا ایک اہم پہلو شفافیت، نگرانی اور بروقت تکمیل پر زور ہے۔ ماضی میں بدعنوانی اور ناقص عملدرآمد نے کئی اچھے منصوبوں کو متنازع بنا دیا، جس سے عوام کا اعتماد مزید مجروح ہوا۔ BSDI کے تحت قائم پروگرام امپلیمنٹیشن یونٹ اور ضلعی انتظامیہ کے باہمی تعاون سے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ منصوبے معیار کے مطابق مکمل ہوں اور ان کے ثمرات واقعی عوام تک پہنچیں۔ اگر یہ نظام مؤثر انداز میں جاری رہا تو یہ نہ صرف ترقیاتی نتائج دے گا بلکہ حکمرانی پر عوامی اعتماد بھی بحال کرے گا۔

یہ منصوبہ سرمایہ کاری کے لیے بھی ایک سازگار ماحول پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بہتر انفراسٹرکچر، سڑکوں کا جال، توانائی کی دستیابی اور امن و استحکام کسی بھی سرمایہ کار کی اولین ترجیحات ہوتی ہیں۔ جب بلوچستان میں یہ عناصر مضبوط ہوں گے تو مقامی اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا۔ معدنیات، زراعت، لائیوسٹاک، فشریز اور سیاحت جیسے شعبے پہلے ہی بے پناہ امکانات رکھتے ہیں، مگر انفراسٹرکچر اور سہولیات کی کمی نے ان امکانات کو محدود کر رکھا تھا۔ BSDI اگر اپنی اصل روح اور معیار کے ساتھ نافذ ہوتا ہے تو یہ بلوچستان کو معاشی سرگرمی کا ایک نیا مرکز بنا سکتا ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ BSDI محض ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ ایک بیانیاتی تبدیلی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ برسوں سے بلوچستان کو محرومی، پسماندگی اور تصادم کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا ہے۔ یہ تاثر بعض سیاسی عناصر اور شدت پسند گروہوں کے لیے فائدہ مند رہا، کیونکہ وہ اسی احساس کو بنیاد بنا کر نوجوانوں کو گمراہ کرتے رہے۔ اگر BSDI کے نتائج زمینی سطح پر واضح ہوئے، اگر عوام نے اپنی آنکھوں سے تبدیلی دیکھی، تو محرومی کا یہ بیانیہ اپنی کشش کھو دے گا۔ جب ترقی نظر آئے گی تو شکایت کی جگہ امید لے لے گی، اور یہی امید ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے کم کرنے کا ذریعہ بنے گی۔

آخرکار، بلوچستان خصوصی ترقیاتی اقدام کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ اسے تسلسل، شفافیت اور خلوصِ نیت کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔ اگر یہ منصوبہ واقعی عوامی ضرورتوں اور طے شدہ معیار کے مطابق مکمل ہوا تو یہ نہ صرف بلوچستان کے انفراسٹرکچر کو بدل دے گا بلکہ اس تاثر کو بھی تبدیل کر دے گا کہ بلوچستان ہمیشہ محرومی کا شکار رہے گا۔ یہ اقدام اس بات کا ثبوت بن سکتا ہے کہ ترقی، شمولیت اور مواقع ہی وہ راستہ ہیں جو شدت پسندی، بے چینی اور منفی سیاست کا مؤثر جواب دے سکتے ہیں۔ BSDI اسی سمت میں ایک امید افزا اور فیصلہ کن قدم ہے، جو بلوچستان کو ماضی کے سائے سے نکال کر ایک بہتر، پُرامن اور خوشحال مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *