تحریر ڈیرہ غازی خان چوھدری احمد سے
”وہ بچھڑا اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا”
کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کے رخصت ہو جانے سے صرف ایک گھرانہ نہیں بلکہ پورا معاشرہ، برادری اور علاقہ یتیم ہو جاتا ہے۔ یارو کھوسہ کی مٹی کا وہ سپوت، جس کی گفتگو میں شہد کی مٹھاس اور لہجے میں عاجزی تھی، قنقن شکن کے لیے رعب دبدبہ۔ آج ہم میں نہیں رہا۔ لیکن اس کی چھوڑی ہوئی یادیں، اصول اور روایات آج بھی مشعلِ راہ ہیں۔
شرافت اور مہمان نوازی کا استعارہ
حاجی محمد مسو خان عمرانی (دفعدار بی ایم پی فورس) صرف ایک سرکاری افسر کا نام نہیں تھا، بلکہ وہ عمرانی برادری کا مان اور وسیب کی شان تھے۔ نرم مزاجی، خوش اخلاقی اور مہمان نوازی ان کی شخصیت کا خاصہ تھی۔ وہ ہر ملنے والے سے اس تپاک سے ملتے کہ سامنے والا ان کا گرویدہ ہو جاتا۔ دوسروں کی مدد کرنا، ہمدردی کا جذبہ رکھنا اور ہر چھوٹے بڑے کی عزت کا خیال رکھنا ان کی فطرت میں شامل تھا۔
جرات اور فرض شناسی: بی ایم پی فورس کا جانباز آفیسر
بارڈر ملٹری پولیس (BMP) کے ٹرائیبل ایریا میں اپنی خدمات سرانجام دیتے ہوئے انہوں نے ہمیشہ حق اور سچ کا ساتھ دیا۔ ایک جانباز آفیسر کے طور پر انہوں نے:
جرائم کا خاتمہ: اپنے عہدے کے رعب کے بجائے اپنے اخلاق اور بہادری سے جرائم کا قلع قمع کیا۔
عدل و انصاف: ہمیشہ میرٹ کو ترجیح دی اور مظلوم کی داد رسی کی۔
عزت و وقار: محکمہ کے افسران ہوں یا ساتھی اہلکار، ہر کوئی انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔
خاندانی اقدار اور تربیت
آپ اپنے والدِ محترم، سابق چیئرمین اور عوامی لیڈر حاجی موسیٰ خان مرحوم کے نقشِ قدم پر چلے۔ والد کی بے پناہ عزت اور بھائیوں و عزیزوں سے والہانہ محبت ان کا شیوہ رہا۔ وہ دکھ سکھ میں سب کے شریک ہوتے، یہی وجہ ہے کہ ان کی زندگی ایک روشن چراغ کی مانند تھی جس سے پورا وسیب فیض یاب ہوتا تھا۔
ایک خلا جو کبھی پُر نہ ہو سکا
دورانِ ملازمت جگر کے عارضے نے انہیں آ لیا۔ بہت علاج معالجہ ہوا، مگر مشیتِ ایزدی کچھ اور ہی تھی۔ اللہ پاک اپنے پیاروں کو جلد اپنے پاس بلا لیتا ہے۔ ان کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ برسوں گزرنے کے باوجود پُر نہیں ہو سکا۔ آج ان کے بھائی اور بیٹے ان کے مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں، لیکن مسو خان جیسا قد آور اور سحر انگیز انسان صدیوں میں پیدا ہوتا ہے۔
حرفِ آخر
حاجی محمد مسو خان عمرانی جسمانی طور پر ہم سے جدا ہوئے کئی برس بیت گئے، لیکن وہ آج بھی دوستوں، احباب اور اپنوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ مردِ مومن کی پہچان ہی یہی ہے کہ اس کے جانے کے بعد اس کا نام احترام سے لیا جائے۔خراج تیحسن پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھ ناچیز پر بھی مہربانیاں کیں ۔ان کی بدولت میں آج کچھ الفاظ لکھ رہا ہوں ۔ان کے دعا کرتا ہوں ۔مجھ پر ان کے احسان ،محبت ،شفقت رہی ہے
دعا ہے کہ اللہ پاک ان کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ (آمین)



