
قسط 1
تحریر۔نظام الدین
پاکستانی حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ نے کبھی سوچا ہے اگر امریکہ بلوچستان خریدنے کی کبھی فرمائش کرے جیسا کہ وہ گرین لینڈ کے لیےکررہا ہے تو ؟؟؟
اس سوال کو یہاں روک کر بیس سال پرانے سفر کی جانب چلتے ہیں، گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک کے ایئرپورٹ پر جب اتراتو دوپہر میں برف باری انتہا کو چھو رہی تھی اس یخ بستہ سردی میں میرے دل نے سوچا کیوں نہ یہاں سے ہی واپس ہولیا جائے، مگر پھر اسی دل نے سوچا یہاں بھی تو انسان بستے ہیں، ہوسکتا ہے یہاں کے باشندوں کی کہانی ایشیائی باشندوں سے مختلف ہو؟ گرین لینڈ کا دارالحکومت نوک ڈنمار ک سے میلوں دور ہونے کے باوجود ماضی میں کورٹ آف انٹرنیشنل جسٹس نے کنیڈا کے اس پر دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ڈنمارک کے ہی حوالے کر دیا تھا۔یہ آرکٹک جزیرہ اٹھارویں صدی میں ڈینش کی کالونی تھا،جو یورپ سے منسلک مگر محل وقوع کے حساب سے شمالی امریکی کے قریب واقع ہے،اس جزیرہ کی برفانی تہوں میں اندازا دس ارب بیرل تیل،دنیا کے چالیس فیصد گیس کے ذخائر، اور جدید ایٹمی ٹکنالوجی کے لیے ضروری نایاب معدنیات چھپے ہوئے ہیں۔گویاڈنمارک کے تحت یہ ایک نیم خود مختار علاقہ ہے، مگر آبادی کی اکثریت اس قبضے کو بیسیوں صدی کی نوآبادیاتی ذہنیت کی پیداوار سمجھتی ہے۔ شاید اس جزیرہ کی سخت زندگی کی وجہ سے ڈنمارک مقامی آبادیاتی تشخص یا ڈیمو گرافی بدلنے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔ گرین لینڈ میں درجہ حرارت پچاس منفی ڈگری تک پہنچنے کی وجہ سے وسائل کے نکالنے کی لاجسٹک مشکلات نے تجارتی استعمال کو سست کیا ہوا تھا مگر موجودہ دورکے موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پگھلنے والی برف کے نیچے کے قیمتی زخائر عیاں ہونا شروع ہوگئے ہیں، یہاں چین کے بڑھتے ہوئے اثرات کے ردعمل پر امریکا نے سرد جنگ کا دوسرا گریٹ گیم شروع کیا ہے،اور اس کا نشانہ اب چین ہوسکتا ہے کیونکہ سالوں سے چینی وفود کا اس جزیرے پر استقبال کیا جارہا ہے،گرین لینڈ کے ایک وزیر ڈنمارک کی حکومت کے اجازت کے بغیر بیجنگ کا دورہ کرتے ہوئے بول چکے ہیں کہ ہمارے دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون اور تجارتی تعلقات صرف ڈنمارک کے ذریعے جاری نہیں رہ سکتے۔ دو ہزار بارہ سے گرین لینڈ کی قیادت کرنے والے ایگڈے، جو آزادی کی حامی پارٹی کمیونٹی آف دی پیپل کے سربراہ ہیں، نے اشارہ دیا تھا کہ آنے والے انتخابات کے ساتھ آزادی پر بھی ریفرنڈم کرایا جائے؟ انہوں نے کہا گرین لینڈ کو ایک خودمختار ملک کے طور پر تسلیم کروانے کے فریم ورک پر پہلے ہی کام شروع ہو چکا ہے۔ادھر امریکہ بھی ایک طویل عرصے سے گرین لینڈ کو ایک اہم اسٹریٹجک اثاثہ سمجھتا آیا ہے۔ سرد جنگ کے دوران، امریکہ نے گرین لینڈ میں تھولے ایئر بیس قائم کی، جو اس کے میزائل دفاعی نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔ڈنمارک کی عوامی رائے کا کہنا ہے کہ امریکہ ہی دراصل گرین لینڈ میں پس پردہ آزادی کی حمایت کرتا آرہا ہے یہ بات تو اب طے ہے کہ آرکٹک ایک دور دراز سرحد نہیں رہا ہے۔ بلکہ عالمی سیاست کا ایک اہم میدان بن چکا ہے۔اب جیسے جیسے گرین لینڈ کے وسائل اور اس کی اسٹریٹجک اہمیت نمایاں ہو رہی ہے،گرین لینڈ اور ڈنمارک اپنے تعلقات کو دوبارہ متعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔سال دو ہزار تیئیس میں گرین لینڈ کی وزیر خارجہ ویوین موٹسفیڈٹ نے چین کا دورہ کیا، جس میں جزیرے کی شراکتوں کو متنوع بنانے کی کوششوں پر بات چیت ہوئی۔انہوں نے اپنے دورے کے دوران، اقتصادی تعلقات، تجارت، اور آرکٹک تعاون کو مضبوط کرنے پر بات چیت کی ۔سال دوہزا اکیس میں تو ایک چینی کارگو سمندری جہاز نے نیدر لینڈ کے روٹر ڈم اور پھر ناروے کے ساحل سے ساز و سامان لادکر بحر اوقیانوس کی طرف پیش قدمی کرنے کے بجائے الٹی سمت بحر منجمد شمالی کی برفانی تہوں سے راستہ بناکر قطب شمالی کو پار کرکے ایشیاء کی طرف روانہ ہوگیا تھا۔ جو ایک حیرت انگیز واقعہ تھا۔
جاری ہے ،،،