اللّٰہ کی یاد سے غافل لوگوں کو ہی ہمیشہ منزل نصیب نہیں ہوتی۔حضور خواجہ صاحب

اللّٰہ تعالٰی کے ذِکر میں دِلوں کا اطمینان ہے۔القرآن
اللّٰہ کی یاد سے غافل لوگوں کو ہی ہمیشہ منزل نصیب نہیں ہوتی۔حضور خواجہ صاحب
پاکپتن(ڈسٹرکٹ بیورو چیف)تفصیلات کے مطابق درِ فرید رحمة الله علیہ کی عظیم روحانی مزہبی و علمی شخصیت پیرِ طریقت رہبرِ شریعت فخرالعلماء استاذالحُکماء سفیر عشقِ رسول ﷺ حضرتِ علامہ مولانا حکیم خواجہ محمد افضل پیرزادہ چشتی قادری قلندری سُہروردی رحمة الله علیہ کے فرمودات میں ذکرِ الٰہی کی فضیلت بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو سب سے عظیم نعمت عطا فرمائی ہے وہ اپنی یاد ہے جسے ہم ذکر کہتے ہیں۔ ذکر صرف تسبیح کے دانوں کا نام نہیں، بلکہ دل زبان اور عمل سے اللہ کو یاد رکھنے کا نام ہے۔قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْب“۔”خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔”۔آج کا انسان بےچینی، خوف، ڈپریشن اور پریشانی کا شکار ہے، حالانکہ اس کا علاج نہ مہنگی دواؤں میں ہے اور نہ دنیاوی عیش میں، بلکہ اللہ کے ذکر میں ہے۔ جس دل میں ذکر ہوتا ہے، وہ دل زندہ ہوتا ہے، اور جس دل میں ذکر نہیں، وہ دل مردہ ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:”جو شخص اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور جو ذکر نہیں کرتا، ان دونوں کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے۔”۔ذکر کی برکت یہ ہے کہ ذکر گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ذکر رزق میں برکت لاتا ہے۔ذکر شیطان کو دور بھگاتا ہے۔ذکر فرشتوں کو قریب کرتا ہےاور ذکر کرنے والا اللہ کا محبوب بن جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:فَاذْكُرُوْنِيْ اَذْكُرْكُمْ”تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا۔”سوچئے! جب بندہ اللہ کو یاد کرتا ہے تو اللہ خود بندے کو یاد فرماتا ہے، اس سے بڑی عزت اور کیا ہو سکتی ہے۔صاحبزادہ پروفیسر حکیم خوجہ عرفان افضل پیرزادہ قادری فاضلی دامت برکاتہم العالیہ(سجادہ نشیں دربارِ عالیہ حضور خواجہ صاحب) نے کہا کہ آؤ ہم اپنے دلوں کو ذکرِاِلٰہی سے آباد کریں اپنی زبانوں کو تسبیح سے تر رکھیں، اور اپنی زندگیوں کو اللہ کی یاد سے روشن بنائیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں کثرت سے اپنا ذکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا ربّ العالمین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *