جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کی جانب سے نئے صوبوں کی سازش کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ

جیکب آباد (رپورٹ: اے جی بلوچ) تحصیل گڑھی خیرو میں
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کی جانب سے نئے صوبوں کی سازش کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ، مارچ اور دھرنا دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق جمعیت علماء اسلام کی جانب سے سندھ کی تقسیم کی سازش کے خلاف ایک بڑا مظاہرہ جے یو آئی سندھ کے پریس سیکریٹری ڈاکٹر اے جی انصاری، جے ٹی آئی کے مرکزی رہنما محکم الدین بروہی، مولانا کریم بخش بروہی، مولانا عبدالوحید بروہی، مولاداد کوسو، مختیار احمد کوسو، منیب الرحمن بروہی، تاج محمد انصاری اور فضل الرحمن مہر کی قیادت میں پلّیج کوسو سے نکالا گیا۔جو مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے مولانا عبیداللہ چوک پہنچا جہاں مظاہرین نے دھرنا دیا اور رہنماؤں نے خطاب کیا۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز تھے جن پر “نئے صوبے نامنظور”، “سندھ کی وحدت پر وار نامنظور”، “سندھ کے وسائل پر قبضہ نامنظور” اور “کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی سازشیں بند کی جائیں” جیسے نعرے درج تھے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اے جی انصاری نے کہا کہ کراچی سندھ کا سر ہے، اسے سندھ سے الگ کرنے کی سازشیں فوری طور پر بند کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم میں کسی قسم کی تبدیلی سندھ دشمن قدم ہوگا، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ نئے صوبوں کا شوشہ دراصل سندھ کی وحدت کے خلاف سازش اور سندھ دشمن ایجنڈا ہے جسے عوامی طاقت سے ناکام بنایا جائے گا۔جے یو آئی کے رہنماؤں نے کہا کہ سندھ میں بدامنی ایک راکاس کی صورت اختیار کر چکی ہے جس نے عوام کی زندگی اجیرن اور غیر محفوظ بنا دی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ڈاکوؤں کے پاس جدید اسلحہ کہاں سے آتا ہے اور کون انہیں فراہم کرتا ہے؟ اس سنگین معاملے کی شفاف تحقیقات اور سخت کارروائی ناگزیر ہے۔
مقررین نے مزید کہا کہ سندھو دریا سندھ کی لائف لائن ہے، اس پر کسی بھی قسم کا قبضہ یا ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ سندھ کی وحدت کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا اور جے یو آئی ہر فورم پر سندھ کے حقوق کا دفاع جاری رکھے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *