جیکب آباد: (اے جی بلوچ)
تحریک تحفظِ آئین پاکستان ضلع جیکب آباد کا اہم اجلاس
تحریک تحفظِ آئین پاکستان ضلع جیکب آباد کا ایک اہم اجلاس مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے صوبائی آرگنائزر علامہ مقصود علی ڈومکی کی زیرِ صدارت جامعۃ المصطفیٰ خاتم النبیینؐ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے ضلعی رہنماؤں نے شرکت کی۔
اجلاس میں سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے ضلعی صدر مقبول حسین لاشاری فدا حسین لکھن، بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر گلاب جان مینگل، پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی صدر صدام حسین کوسو، سلیم احمد سومرو، مجلس وحدت مسلمین جیکب آباد کے ضلعی صدر نظیر حسین جعفری، مولانا منور حسین سولنگی، علامہ حاجی سیف علی ڈومکی سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں، اتوار 8 فروری کو ہونے والی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔
اس موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ تحریک تحفظِ آئین پاکستان آئین کی بالادستی اور شہری حقوق کی بحالی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری کو عوامی مینڈیٹ پر جو ڈاکہ ڈالا گیا، وہ پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے رہنما مقبول احمد لاشاری نے کہا کہ سندھ یونائیٹڈ پارٹی ملک میں آئین کی پامالی، لاقانونیت اور سیاسی کارکنوں کے خلاف جاری پکڑ دھکڑ کی شدید مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ 8 فروری کو ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کے ذریعے اپنے احتجاج کو بھرپور انداز میں ریکارڈ کرائیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی صدر صدام حسین کوسو اور سلیم احمد سومرو نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم عوام کے حقوق اور آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، عوام دشمن فیصلے کسی صورت قبول نہیں کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی خوشنودی کے لیے موجودہ حکومت نے تحریکِ آزادیٔ فلسطین کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے جو ایک ناقابلِ معافی جرم ہے۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر گلاب جان مینگل نے کہا کہ ملک میں آئین و قانون کو پامال کر کے عوام کی آواز کو دبایا جا رہا ہے، جس کے خلاف مشترکہ جدوجہد وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اجلاس کے اختتام پر ایک مشترکہ قرارداد منظور کی گئی جس میں پاکستانی قوم بالخصوص تاجر برادری سے اپیل کی گئی کہ وہ 8 فروری کو رضاکارانہ طور پر شٹر ڈاؤن ہڑتال کر کے ملک میں جاری آئین و قانون کی پامالی، جمہوری اقدار کی پامالی اور عوامی مینڈیٹ کی توہین کے خلاف واضح اور دو ٹوک پیغام دیں۔
قرارداد میں ملک کی تمام سیاسی و جمہوری قوتوں سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ آئین کی بحالی، شہری آزادیوں اور لاقانونیت کے خاتمے کے لیے تحریک تحفظِ آئین پاکستان کی جدوجہد کی بھرپور حمایت کریں۔
مشترکہ قرارداد میں حکومتِ پاکستان اور جعلی وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے نام نہاد امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ شرکاء نے واضح کیا کہ پاکستانی قوم فلسطین اور تحریکِ آزادیٔ فلسطین کے ساتھ کھڑی ہے اور ٹرمپ و نیتن یاہو کو فلسطینی عوام کا قاتل سمجھتی ہے۔ قرارداد میں کہا گیا کہ کسی بھی نام نہاد قبضہ یا امن بورڈ کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ عمران خان سمیت تمام سیاسی اسیران کی فوری رہائی عمل میں لائی جائے، اور عمران خان سے ملاقات کے لیے آنے والی ان کی بہنوں پر حکومتی تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ عمران خان سے ملاقاتوں پر عائد تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں۔
مزید برآں، اجلاس میں سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے ضلعی رہنما زین بھٹو کی گرفتاری کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔
آخر میں شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئین، جمہوریت، عوامی حقوق اور مظلوم اقوام کی حمایت کے لیے جدوجہد ہر صورت جاری رکھی جائے گی۔