23 دسمبر 2025 کو پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے۔ قومی ایئرلائن کے 75 فیصد حصص کی بولی کے عمل میں تین پری کوالیفائیڈ بولی دہندگان نے سیل بند بولیاں جمع کرائیں۔
بولی دہندگان:
- لکی سیمنٹ گروپ (لکی سیمنٹ، ہب پاور، کوہاٹ سیمنٹ اور میٹرو وینچرز کا کنسورشیم)
- عارف حبیب گروپ (عارف حبیب کارپوریشن، فاطمہ فرٹیلائزر، سٹی اسکولز اور لیک سٹی ہولڈنگز کا کنسورشیم)
- ایئر بلیو (نجی ایئرلائن)
فوجی فرٹیلائزر کمپنی نے بولی کے عمل سے دستبرداری اختیار کر لی، جس کے بعد صرف یہ تین بولی دہندگان باقی رہے۔
اہم تفصیلات:
- بولی کا پہلا مرحلہ صبح 11:15 بجے تک مکمل ہوا، اب معاملہ پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ کے سامنے جائے گا جو ریزرو پرائس (کم از کم قیمت) کا جائزہ لے گا۔
- دوپہر 3:30 بجے بولیاں کھولی جائیں گی، جو براہ راست ٹی وی اور میڈیا پر نشر کی جائیں گی۔
- حکومت 75 فیصد حصص فروخت کر رہی ہے، جبکہ 25 فیصد حصص اپنے پاس رکھے گی (کامیاب بولی دہندہ کو بعد میں 15 فیصد پریمیم پر خریدنے کا اختیار ہوگا)۔
- بولی سے حاصل ہونے والی رقم کا 92.5 فیصد پی آئی اے میں دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے استعمال ہوگا، جبکہ 7.5 فیصد حکومت کے خزانے میں جائے گا۔
- کامیاب بولی دہندہ کو اگلے 5 سالوں میں 80 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرنی ہوگی تاکہ ایئرلائن کو بحال کیا جا سکے۔
- پی آئی اے کے ملازمین کو نجکاری کے بعد ایک سال تک نوکری کا تحفظ دیا جائے گا، پنشن اور دیگر مراعات ہولڈنگ کمپنی کے ذمے ہوں گی۔
- یہ پاکستان کی گزشتہ 20 سال میں سب سے بڑی نجکاری ہوگی، جو آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت معاشی اصلاحات کا اہم حصہ ہے۔
پی آئی اے کی موجودہ صورتحال: ایئرلائن نے حالیہ برسوں میں پہلی بار منافع کمایا ہے، یورپ اور برطانیہ کے روٹس بحال ہو چکے ہیں، اور فلیٹ کو 18 سے 38 طیاروں تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔
نجکاری کمیشن کے چیئرمین محمد علی کے مطابق یہ عمل شفاف اور تاریخی ہے۔ اگلے مراحل میں کابینہ کمیٹی برائے نجکاری منظوری دے گی، اور 90 دن میں تمام قانونی کارروائی مکمل کی جائے گی۔