وفاقی حکومت کی طرف سے کراچی کی عوام کے لئے بنایا گیا گرین لائن بس سروس منصوبہ سندھ حکومت کے سپرد کرتے ہی بے قاعدگیوں کا شکار ہونا شروع ہو گیا ۔۔۔
تفصیلات کے مطابق گرین لائن بس کی کارڑ سروس بری طرح متاثر ہے۔۔
عبداللہ موڑ پہلے ہی اسٹاپ پر کارڈ اسکین کی مشینیں کئی ماہ سے خراب ہونے کی وجہ سے اسکول کالج جانے والے طلبہ اور طالبات کو اضافی کرایہ ادا کرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے والدین پہ بھی اضافی بوجھ پڑگیا ہے اور طلبہ کو ٹکٹ لینے کے لئے لمبی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے ۔۔۔ گرین لائن کی انتظامیہ سے رابطہ کرنے پہ کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملتا بس اتنا کہ دیا جاتا ہے کہ سندھ حکومت کو درخواست دی ہوئی ہے کب کام شروع ہوگا کچھ پتہ نہیں ۔۔۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب تک نظام وفاق کے پاس تھا تو بہتر سروس مل رہی تھی لیکن جب سے سندھ حکومت کے کنٹرول میں دیا گیا اسی طرح کی لاپرواہی معمول بن گیا ہے۔۔انتظامیہ سے روزانہ عوام کی تکرار معمول بن گی ہے ۔۔
گرین لائن بس سروس بھی سندھ حکومت کے رحم و کرم پر ۔۔۔