پولیس ہیڈ کوارٹر آئی ٹی برانچ کی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی

جیکب آباد (نامه نگار)پولیس ہیڈ کوارٹر آئی ٹی برانچ کی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی، شہری دربدر۔
آئی ٹی برانچ شہریوں کے مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئی۔ موبائل فون چوری اور چھیننے کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے بعد آئی ٹی برانچ سے مدد کی امید رکھنے والے شہری مایوسی کا شکار ہو کر رہ گئے۔
شہریوں کی دہائی “صرف طفل تسلیاں مل رہی ہیں”
متاثرہ شہریوں نے میڈیا کو بتایا کہ موبائل فون چوری ہونے کی شکایات درج کروانے کے باوجود آئی ٹی برانچ کی جانب سے کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہیں آ رہی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ شکایت لے کر جانے والے افراد کو گھنٹوں انتظار کروانے کے بعد “جلد سراغ لگا لیا جائے گا” جیسے روایتی دلاسے دے کر رخصت کر دیا جاتا ہے۔
کئی ماہ گزر جانے کے باوجود اکثر شہریوں کو ان کے قیمتی موبائل فونز واپس نہیں مل سکے۔
عملے کا رویہ بھی ہمدردانہ ہونے کے بجائے ٹال مٹول والا ہے۔
ٹیکنالوجی کے دور میں سست روی پر تشویش
شہری سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ جہاں جدید دور میں لوکیشن ٹریسنگ اور آئی ایم ای آئی (IMEI) ٹریکنگ کے ذریعے ملزمان تک پہنچنا آسان ہو چکا ہے، وہیں جیکب آباد پولیس کی آئی ٹی برانچ کی “سست روی” سمجھ سے بالاتر ہے۔ شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آئی ٹی شعبے کی عدم دلچسپی کی وجہ سے چوروں اور موبائل اسنیچرز کے حوصلے مزید بلند ہو رہے ہیں۔
ایس ایس پی جیکب آباد سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔
جیکب آباد کے متاثرہ شہریوں اور معززین نے ایس ایس پی جیکب آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ آئی ٹی برانچ کی کارکردگی کا فوری طور پر آڈٹ کیا جائے۔ اہل اور متحرک افسران کو برانچ میں تعینات کیا جائے تاکہ شہریوں کی شکایات کا فوری ازالہ ہو سکے۔
ریکور کیے گئے موبائل فونز کی رپورٹ عوامی سطح پر جاری کی جائے تاکہ پولیس پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *