ٹاؤن میونسپل کارپوریشن نیو کراچی میں وڈیرانہ طرز حکمرانی کی واضح مثال

منور حسین ملاح کی میونسپل کمشنر نیو کراچی تعیناتی پر سنگین انکشافات منظر عام پر

سینئر افسران کی جانب سے اس تعیناتی کو اعلی عدلیہ کے احکامات اور قانون کے برخلاف قرار دے دیا گیا

منور حسین ملاح اس سے قبل میونسپل کمشنر صفورا ٹاؤن تھے جہاں ان کے اور ٹاؤن چیئرمین کے درمیان مختلف امور کو لیکر شدید اختلافات پائے جاتے رہے

منور حسین ملاح کے تعلقات اور رسائی ہونے کے باعث مئیر کراچی مرتضیٰ وہاب سمیت پارٹی کے بااثر حلقوں کی جانب سے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا

منور حسین ملاح کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں درخواست بھی دائر کی گئی تھی جس میں منور حسین کی میونسپل کمشنر کے عہدے پر تعیناتی کو سپریم کورٹ کے احکامات اور قوانین کے برخلاف قرار دیا گیا

واضح رہے کہ میونسپل کمشنر کا عہدہ 19 گریڈ کا ہے اور اس پر 17 گریڈ کا افسر تعینات نہیں کیا جاسکتا

ایک بار پھر منور حسین ملاح کو میونسپل کمشنر نیو کراچی ٹاؤن تعینات کرنا اس بات کی تقویت ہے کہ سندھ حکومت معزز عدلیہ کے احکامات کو مکمل طور پر نظر انداز کررہی ہے

ذرائع کا کہنا ہے کہ منور حسین ملاح کی تعلیمی اسناد بھی جعلی ہیں اور انہیں دستخط بھی کرنا نہیں آتے اس کے باوجود انہیں اہم عہدے سے نوازنا حیران کن ہے

ان پڑھ ناتجربہ کار میونسپل کمشنر کی تعیناتی انتظامیہ کے لیے سنگین مسائل کا باعث بن رہی ہے جس سے نہ صرف کرپشن میں اضافہ ہورہا ہے بلکہ عوامی اعتماد کی کمی بھی پیدا ہورہی ہے

منور حسین ملاح اپنے ساتھ مبینہ دو پرائیوئٹ اشخاص لے کر آئے ہیں جن کا نام آصف اور محمد علی بتایا جارہا ہے۔ ذرائع

آصف دستاویزات کی ہیر پھیر میں ماہر ہیں جبکہ محمد علی کالا دھن سائیڈ لائن لگانے پر مامور ہیں۔ ذرائع

کراچی کے بیشتر ٹاؤن میں ایسے میونسپل کمشنر تعینات ہیں جو گریڈ 16 اور 17 کے ہیں لہٰذا ان سب کو ہٹا کر فوری طور پر گریڈ 19 کے افسر کی تعیناتی یقینی بنائی جائے۔ لیبر یونین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *