​ پینگوئن کا سبق اور مسلمانوں کی بقا: منجمد حالات میں زندگی کا راز

​تحریر: چوہدری احمد (احمد راجپوت بیوروچیف ڈیرہ غازی خان ڈیلی جستجو )

​انسان کو ‘اشرف المخلوقات’ بنایا گیا، اسے عقل دی گئی، شعور دیا گیا اور اسے زمین پر اللہ کا نائب مقرر کیا گیا۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ آج کا انسان، بالخصوص مسلمان، ان پرندوں سے بھی پیچھے رہ گیا ہے جو اپنے بقا کے لیے اتحاد کی ایسی مثال قائم کرتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے؟

​منفی 60 ڈگری کا امتحان
​قطبِ جنوبی (Antarctica) کی وہ برستی برف اور منجمد کر دینے والی ہوائیں جہاں درجہ حرارت منفی 60 ڈگری تک گر جاتا ہے، وہاں زندگی کا تصور بھی محال ہے۔ وہاں نہ آگ ہے، نہ چھت، نہ کوئی انسانی سہارا۔ وہاں اگر کوئی پینگوئن اکیلا کھڑا ہو جائے تو چند لمحوں میں برف کا ڈھیر بن جائے۔ لیکن قدرت نے ان پرندوں کو ایک ایسا نظام سکھایا ہے جسے ہم ‘اجتماعی آغوش’ (Huddle) کہتے ہیں۔

​ہزاروں پینگوئن ایک دوسرے سے جڑ کر ایک زندہ دیوار بن جاتے ہیں۔ اس اتحاد کا معجزہ یہ ہے کہ باہر قیامت خیز سردی ہوتی ہے، مگر اس دائرے کے اندر کا درجہ حرارت مثبت 35 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ محض جسمانی قربت نہیں، بلکہ ایک دوسرے پر اعتماد اور ایثار کی انتہا ہے۔

​نظم و ضبط اور ایثار
​پینگوئن کا یہ ہجوم بے ہنگم نہیں ہوتا۔ اس میں ایک خاموش قانون نافذ ہے۔ جو پرندہ باہر کی جانب یخ بستہ ہواؤں کا سینہ تان کر سامنا کرتا ہے، وہ جب تھک جاتا ہے یا اس کا جسم منجمد ہونے لگتا ہے، تو اندر موجود دوسرا ساتھی خاموشی سے اس کی جگہ لے لیتا ہے اور اسے مرکز کی گرمی میں بھیج دیتا ہے۔ یہاں کوئی بڑا چھوٹا نہیں، کوئی خود غرض نہیں، سب کا ایک ہی مقصد ہے: سب کی بقا!

​امتِ مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ
​آج جب ہم غزہ سے لے کر دنیا کے دیگر خطوں تک مسلمانوں پر ہونے والے مظالم دیکھتے ہیں، تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور دیگر ظالم طاقتیں اپنے غرور کے نشے میں انسانیت کو پامال کر رہی ہیں۔ ہم 2 ارب ہونے کے باوجود کیوں بے بس ہیں؟ کیوں ہم ایک طاقتور کے سامنے چپ سادھے بیٹھے ہیں؟

​کیا ان پرندوں کے پاس ہم سے زیادہ فہم و فراست ہے؟ یقیناً نہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پینگوئن نے اپنے خالق کے دیئے ہوئے ‘اتحاد کے سبق’ کو اپنا لیا، اور ہم نے اسے بھلا دیا۔

​”ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت عطا کی، پھر اسے راہ دکھائی۔” (سورۃ طٰہٰ: 50)

​بقاکا راستہ: کندھے سے کندھا
​اگر مسلمان بھی ان پرندوں کی طرح کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہو جائیں، ایک دوسرے کا بوجھ بانٹنا سیکھ لیں اور ذاتی مفاد پر قومی و ملی مفاد کو ترجیح دیں، تو اللہ کی رحمت اور فتح ہمارا مقدر بن سکتی ہے۔ جب ہم ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں گے، تو دشمن کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ زیر ہو جائے گا۔

​نتیجہ فکر:

پینگوئن ہمیں سکھاتے ہیں کہ مشکل ترین حالات میں بھی اگر ہم ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیں، خلوصِ نیت سے اللہ کی رضا کے لیے متحد ہو جائیں، تو موت کو زندگی میں بدلا جا سکتا ہے۔ یاد رکھیے! بقا ہمیشہ صرف طاقتور کی نہیں ہوتی، بلکہ بقا اس کی ہوتی ہے جو “جماعت” کی قدر جانتا ہو)
چوھدری احمد ڈیرہ غازی خان فون،وٹس 03017585808 ،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *