دنیا بھر میں آج صحت کی سستی، معیاری اور بہتر سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ اس دن کا مقصد نہ صرف صحت عامہ کی اہمیت اجاگر کرنا ہے بلکہ دنیا بھر کی حکومتوں کو یہ احساس دلانا بھی ہے کہ ترقی کا حقیقی پیمانہ وہ ریاستیں ہیں جہاں ہر شہری کو بنیادی طبی سہولت بلا امتیاز دستیاب ہو۔پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں صحت کا شعبہ ہمیشہ ہی شدید مسائل کا شکار رہا ہے۔ آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے لیکن ہسپتال، ڈاکٹر، نرسیں، لیبارٹریاں اور بنیادی صحت مراکز اسی رفتار سے نہیں بڑھ سکے۔ دیہی علاقوں میں آج بھی لاکھوں افراد ایسے ہیں جو معمولی بیماریوں کے علاج کے لیے کئی کئی کلومیٹر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کی حالت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ گنجائش سے زیادہ مریض، پرانی مشینری، ناکافی ادویات، کم عملہ اور غلط نظام حکمرانی—یہ سب عوامل پاکستان کے صحت کے ڈھانچے کو کمزور کرتے ہیں۔ دنیا جدید ترین میڈیکل ٹیکنالوجی، روبوٹک سرجری اور ڈیجیٹل ہیلتھ کے دور میں داخل ہو چکی ہے جبکہ پاکستان کے کئی ہسپتال اب بھی صفائی اور ادویات کی بنیادی فراہمی تک سے محروم ہیں۔اگر عالمی معیار کو دیکھا جائے تو پاکستان ہیلتھ کیئر سسٹم انڈیکس میں ہمیشہ نچلی سطح پر ہی رہتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے بجٹ میں صحت کو ہمیشہ کم ترجیح دی گئی۔ ترقی یافتہ ممالک اپنی مجموعی قومی آمدنی کا تقریباً دس فیصد صحت پر خرچ کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں یہ شرح آج بھی نہایت کم ہے۔ سستی اور معیاری طبی سہولتیں وہاں ممکن ہوتی ہیں جہاں حکومت صحت کو اپنا بنیادی فریضہ سمجھ کر فنڈ فراہم کرے۔ دنیا نے اس حقیقت کو وبا کے دنوں میں شدت سے محسوس کیا کہ مضبوط صحت کا نظام نہ صرف بیماریوں کا علاج کرتا ہے بلکہ معیشت کو بھی سہارا دیتا ہے۔
عام آدمی کے لیے علاج کروانا ایک مسلسل جدوجہد بن چکا ہے۔ مہنگائی کی موجودہ صورتحال میں نجی ہسپتالوں کے بھاری بل ادا کرنا ہر کسی کے بس میں نہیں۔ مریض علاج کی سہولت کے حصول میں جس ذہنی اور جسمانی اذیت سے گزرتے ہیں وہ ہمارے اجتماعی ضمیر کا سوال بن چکا ہے۔ غریب آدمی صرف بیماری نہیں بھگتتا، اس کے ساتھ غربت، لاچاری اور بے بسی بھی جڑی ہوتی ہے۔
پاکستان میں صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومتی بجٹ میں اس شعبے کو ترجیح دی جائے۔ بنیادی صحت مراکز کو فعال کیا جائے، طبی عملے کی تربیت کی جائے، ہسپتالوں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھایا جائے اور ادویات کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔ دنیا کے وہ ممالک جنہوں نے صحت کے شعبے میں ترقی کی ہے، انہوں نے اسے سرمایہ کاری سمجھا ہے—پاکستان کو بھی یہی سوچ اپنانا ہوگی۔
صحت کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ صحت کسی فرد نہیں، پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم اپنے عوام کو معیاری اور سستی علاج کی سہولت دینے میں ناکام رہتے ہیں تو ترقی کے تمام دعوے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان صحت کو ترجیح دے، کیونکہ صحت مند قوم ہی مضبوط قوم ہوتی ہے۔
صحت کا عالمی دن — پاکستان میں علاج، امید اور چیلنجز