امتحانی نظام میں فریش گریجویٹس کی شمولیت: چیلنجز اور اصلاحات


تحریر۔عمرخطاب

فیڈرل بورڈ اور خصوصاً خیبر پختونخوا کے تعلیمی بورڈز کا امتحانی نظام ایک اہم مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں نئے گریجویٹس کو بطور انویجیلیٹر اور سپروائزری سٹاف بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک طرف نوجوانوں کے لیے معاشی اور پیشہ ورانہ مواقع پیدا کر رہا ہے، لیکن دوسری طرف تعلیمی حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔

نئے گریجویٹس کو امتحانی نظام میں شامل کرنے سے انہیں معقول آمدنی حاصل کرنے کا موقع مل رہا ہے، جہاں ایک انویجیلیٹر پندرہ سے بیس دن کی مختصر مدت میں تقریباً بیس ہزار سے تیس ہزار روپے کما سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ ڈیوٹی گریجویٹس کو ایک معتبر سرکاری ادارے کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ فراہم کرتی ہے، جو ان کے ریزیومے اور مستقبل کے کیریئر کے لیے انتہائی مفید ہے۔

تاہم، اس پالیسی پر تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ کچھ اساتذہ تنظیموں کا مؤقف ہے کہ نئے گریجویٹس کی تعیناتی سے نظام کے مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے، کیونکہ ان کے پاس تجربے کی کمی ہے۔ اساتذہ نے محکمہ تعلیم کے ساکھ بچانے کے لیے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے یہ پالیسی واپس نہ لی تو وہ تمام اضافی امتحانی و غیر امتحانی ڈیوٹیوں کا بائیکاٹ کریں گے۔

حکام بالا کا موقف ہے کہ اساتذہ کرام کے امتحانات لینے میں مصروف ہونے سے طلبہ کا وقت ضائع ہو رہا ہے، اس لیے فریش گریجویٹس کی خدمات لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جبکہ اساتذہ کرام اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ نظام تعلیم اس سے مزید خراب ہو سکتا ہے، کیونکہ امتحانات سے پہلے نظام تعلیم میں موجود سقم اور کمزوریوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف امتحانات لینے اور ڈیٹا اکٹھا کرنے سے تعلیم کا معیار بہتر نہیں ہو سکتا جب تک کہ تدریس کے معیار کو بہتر نہ بنایا جائے۔ اساتذہ کو نکالنے یا تبدیل کرنے کے بجائے انہیں جدید تربیت دی جائے تاکہ وہ امتحانی نتائج کو تدریسی بہتری کے لیے استعمال کر سکیں۔

انویجیلیٹر فریش گریجویٹس ہو یا تعلیمی اداروں کے اساتذہ کرام، مگر امتحانی عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تجربہ کار عملے کی تعیناتی، سخت نگرانی، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، اور یکساں قواعد و ضوابط کا نفاذ کلیدی حکمت عملی ہے۔ نقل کی روک تھام، میرٹ پر جانچ پڑتال اور امتحانی مراکز میں پروقار ماحول برقرار رکھنا میرٹ کی پامالی کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔

تجربہ کار عملے کی تعیناتی میں سینیئر فیکلٹی کا کردار اہم ہے، جو انتظامی تجربہ رکھتا ہو۔ تاہم تمام عملے کو امتحانی رازداری، ڈمی نمبرز کے استعمال اور جوابی کاپیوں کی ترتیب و تقسیم کے حوالے سے خصوصی تربیت دی جانی چاہیے۔ ایک کامیاب امتحان کے انعقاد کے لیے امتحانی عملہ، خاص طور پر ایگزامینیشن سپرنٹنڈنٹ، جو امتحانی نظام کی ریڑھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے، کی ذمہ داریوں میں نظم و ضبط برقرار رکھنا، امیدواروں کے شناختی کارڈز اور رول نمبر سلپس کی جانچ پڑتال کرنا، اور امتحانی سافٹ ویئر کی تنصیب شامل ہے۔

سخت نگرانی کے لیے نگران عملے کو امتحان شروع ہونے سے بیس سے تیس منٹ پہلے پہنچنا اور ہال میں مسلسل حرکت میں رہنا ضروری ہے تاکہ نقل کو روکا جا سکے۔ موبائل فون پر پابندی بھی ضروری ہے جو پہلے سے نافذ العمل بھی ہے، لیکن ارباب اختیار سے یہ درخواست کی جاتی ہے کہ اگر ہالز کے اندر جیمرز کی تنصیب کی جائے تو موبائل فون کا مسئلہ خود بخود حل ہو جائے گا۔

علاوہ ازیں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، جیسے سی سی ٹی وی کیمرے، بار کوڈنگ، اور اسکیننگ، انسانی غلطی اور جانبداری کے امکان کو کم کر دیتی ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف نقل کی روک تھام کرتے ہیں بلکہ طلبہ کے اعتماد کو بحال رکھتے ہوئے میرٹ کو فروغ دیتے ہیں۔

بہرحال نئے گریجویٹس کو امتحانی نظام میں شامل کرنا بے روزگاری کے خاتمے اور نظام میں تازہ دم خون شامل کرنے کی طرف ایک اچھا قدم ہے۔ تاہم، اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ان نئے افراد کو کتنی پیشہ ورانہ تربیت دی جاتی ہے اور تجربہ کار اساتذہ کے تحفظات کو کس طرح دور کیا جاتا ہے۔ تعلیمی بورڈز کو چاہیے کہ وہ صرف پیمائش پر توجہ دینے کے بجائے امتحانی نظام کو سیکھنے کے عمل میں تبدیل کریں تاکہ ملک کے تعلیمی مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *