“کووِڈ-19 کے تجربات ہمیں بہتر تیاری کا راستہ دکھاتے ہیں” ڈاکٹر شبیر احمد
لاہور (محمد منصور ممتاز سے )
کووِڈ-19 کے بعد دنیا بھر کے نظامِ صحت ابھرتی ہوئی متعدی بیماریوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہی خطرات میں شامل نِپاہ وائرس ایک نایاب مگر انتہائی خطرناک وائرس ہے، جس کے جنوبی ایشیا کے بعض ممالک میں سامنے آنے والے کیسز نے خطے میں تشویش پیدا کی ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں اس وقت کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، تاہم آگاہی اور پیشگی تیاری وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ایک خصوصی گفتگو میں فارماسیوٹیکل اور پبلک ہیلتھ کے ماہر ڈاکٹر شبیر احمد (RPh) نے کہا کہ اس بیماری سے متعلق خوف پھیلانے کے بجائے درست معلومات اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا زیادہ ضروری ہے۔
“نِپاہ وائرس کوئی نئی بیماری نہیں، مگر طبی طور پر بہت سنجیدہ ہے۔ پاکستان کو گھبراہٹ نہیں بلکہ شعور، تیاری اور ذمہ دارانہ رویے کی ضرورت ہے — بالکل وہی سبق جو کووِڈ-19 نے ہمیں سکھایا۔”
نِپاہ وائرس کیا ہے؟
ڈاکٹر شبیر احمد کے مطابق نِپاہ وائرس ایک زونوٹک بیماری ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ اس وائرس کا قدرتی میزبان پھل کھانے والی چمگادڑیں ہیں۔
ان کے مطابق وائرس کی منتقلی کے اہم ذرائع یہ ہو سکتے ہیں:
چمگادڑوں کے براہِ راست رابطے سے
آلودہ پھل یا خوراک کے استعمال سے
مریض کے جسمانی رطوبات سے قریبی رابطے کے ذریعے
انہوں نے وضاحت کی کہ:
“کووِڈ-19 کے برعکس یہ وائرس فضا میں آسانی سے نہیں پھیلتا، مگر قریبی رابطہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔”
علامات: عام بخار سے دماغی سوزش تک
ڈاکٹر شبیر احمد کے مطابق ابتدائی علامات عام وائرل بخار جیسی ہوتی ہیں، جن میں شامل ہیں:
تیز بخار
سر درد
جسم میں درد اور شدید تھکن
قے
تاہم کئی مریضوں میں بیماری تیزی سے سنگین شکل اختیار کر سکتی ہے، جس میں:
سانس لینے میں دشواری
دماغ کی سوزش (انسیفلائٹس)
ذہنی الجھن اور دورے
بے ہوشی یا کوما
“جب وائرس دماغ پر حملہ کرتا ہے تو علاج نہایت مشکل ہو جاتا ہے، اسی لیے بروقت تشخیص اور علیحدگی بے حد اہم ہے۔”
متاثرہ ممالک اور علاقائی صورتحال
ڈاکٹر شبیر احمد کے مطابق ماضی میں اس وائرس کے کیسز زیادہ تر:
بنگلہ دیش
بھارت
ملائیشیا
سنگاپور
میں رپورٹ ہوئے، جہاں مؤثر اقدامات کے ذریعے وباؤں کو قابو میں رکھا گیا۔
“پاکستان اس وقت محفوظ ہے، مگر علاقائی قربت کے باعث نگرانی اور احتیاط ضروری ہے۔”
شرحِ اموات اور کووِڈ-19 سے فرق
ماہرین کے مطابق نِپاہ وائرس کی شرحِ اموات 40 سے 75 فیصد تک رپورٹ ہوئی ہے، جو اسے طبی لحاظ سے انتہائی خطرناک بناتی ہے۔
ڈاکٹر شبیر احمد کہتے ہیں:
“کووِڈ-19 تیزی سے پھیلنے والا وائرس تھا، مگر نِپاہ وائرس کم پھیلتا ہے اور زیادہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ:
کووِڈ-19 کے لیے ویکسین اور مخصوص علاج دستیاب ہیں
نِپاہ وائرس کے لیے فی الحال کوئی ویکسین یا مخصوص علاج موجود نہیں
علاج زیادہ تر علامتی اور معاون نوعیت کا ہوتا ہے
پاکستان کے لیے احتیاطی اقدامات
ڈاکٹر شبیر احمد نے کہا کہ پاکستان کووِڈ-19 کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سادہ مگر مؤثر اقدامات جاری رکھ سکتا ہے:
✔ متاثرہ علاقوں سے آنے والے مسافروں کی اسکریننگ
✔ محفوظ خوراک کے استعمال سے متعلق آگاہی
✔ جنگلی جانوروں اور چمگادڑوں سے غیر ضروری رابطے سے گریز
✔ بخار کے ساتھ اعصابی علامات کی صورت میں فوری ڈاکٹر سے رجوع
“یہ اقدامات سادہ، مؤثر اور بغیر خوف کے قابلِ عمل ہیں۔”
محکمۂ صحت کی ذمہ داریاں
ان کے مطابق صحت کے اداروں کو درج ذیل امور پر خصوصی توجہ دینی چاہیے:
اسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول تربیت
آئسولیشن سہولیات کی دستیابی
لیبارٹری تشخیصی صلاحیت میں اضافہ
فوری ردعمل اور کانٹیکٹ ٹریسنگ ٹیمیں
“صحت کے عملے کا تحفظ دراصل پوری قوم کا تحفظ ہے۔”
عوامی تعاون کیوں ضروری ہے؟
ڈاکٹر شبیر احمد نے عوامی شعور کو کلیدی عنصر قرار دیتے ہوئے کہا:
“درست معلومات، افواہوں سے اجتناب اور سرکاری ہدایات پر عمل ہی جانیں بچاتا ہے۔ کووِڈ-19 نے ہمیں یہ سبق دیا اور یہی اصول یہاں بھی لاگو ہوتا ہے۔”
نتیجہ: خوف نہیں، دور اندیشی کی ضرورت
نِپاہ وائرس ایک سنگین مگر قابلِ انتظام خطرہ ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان بہتر نگرانی، صحت کے مضبوط نظام اور عوامی تعاون کے ذریعے ایسے خطرات سے مؤثر طور پر نمٹ سکتا ہے۔
آخر میں ڈاکٹر شبیر احمد نے کہا:
“تیاری خوف نہیں، دور اندیشی ہوتی ہے۔ درست حکمتِ عملی کے ساتھ پاکستان آئندہ صحت کے چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کر سکتا ہے۔”