افغانستان سے امن کی ضمانت کا مطالبہ، دہشت گردی کے خلاف دینی قیادت متحد
پشاور، 14 جنوری 2026
گورنر ہاؤس خیبر پختونخوا میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کی جانب سے ایک اہم پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والی دینی قیادت نے شرکت کی۔ صوبہ خیبر پختونخوا کو دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کے باعث اولین ترجیح کے طور پر منتخب کیا گیا۔ اس موقع پر چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ خیبر پختونخوا طویل عرصے سے دہشت گردی کا سب سے بڑا نشانہ رہا ہے، اسی لیے قومی پیغامِ امن کمیٹی نے اپنے پیغام کا آغاز اسی صوبے سے کیا ہے۔
پریس کانفرنس میں تمام مکاتبِ فکر کے علماء نے متفقہ طور پر دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیر اسلامی، غیر انسانی اور ملک و قوم کے خلاف کھلی بغاوت قرار دیا۔ دینی قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ پیغامِ پاکستان آئینِ پاکستان کے بعد سب سے مضبوط قومی اتفاقِ رائے کی دستاویز ہے، جس میں دہشت گردی، خودکش حملوں اور بے گناہوں کے قتل کو واضح طور پر حرام قرار دیا گیا ہے۔
قومی پیغامِ امن کمیٹی نے واضح اعلان کیا کہ اس جمعہ کو ملک بھر میں یومِ پیغامِ پاکستان منایا جائے گا، جس کے تحت مساجد، مدارس اور دینی اجتماعات میں امن، اتحاد اور ہم آہنگی کا پیغام عام کیا جائے گا۔ کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جہاں جہاں امن کی ضرورت ہو گی، قومی پیغامِ امن کمیٹی کے وفود وہاں دورے کریں گے۔
پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور اسلام کو امن، محبت اور انسانی جان کے تحفظ کا دین قرار دیا گیا۔ علماء نے واضح کیا کہ کسی بھی بے گناہ انسان کا قتل حرام ہے اور فتنہ، فساد اور انتشار پھیلانے والوں کے خلاف جدوجہد کو جہادِ اکبر قرار دیا گیا۔
افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے دینی قیادت نے مطالبہ کیا کہ سرحد پار سے پاکستان میں امن کو یقینی بنایا جائے، کیونکہ دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات کے تانے بانے سرحد پار سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس موقع پر ریاستِ پاکستان اور قومی اداروں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے افواجِ پاکستان کو اسلام اور امن کے محافظ قرار دیا گیا اور ان کی حمایت کو دینی فریضہ بتایا گیا۔
مفتی عبد الرحیم نے اپنے خطاب میں دشمنوں کی حمایت کو خوارج سے بھی بدتر عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ خوارج کے خلاف جدوجہد حق اور درست ہے، اور آج کے دور کے فتنہ پرور عناصر اسی فکر کا تسلسل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی ملک میں امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرتی رہے گی۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر دینی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی، انتہاپسندی اور فتنہ کے خاتمے کے لیے متحد ہو کر جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور پاکستان کو امن، اتحاد اور استحکام کا گہوارہ بنایا جائے گا۔