کراچی میں سردی کا زبردست حملہ

تحریر: نعمان احمد دہلوی
کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی مرکز، عام طور پر اپنے گرم اور مرطوب موسم کے لیے جانا جاتا ہے۔ تاہم، سردیوں کے موسم میں، خاص طور پر جنوری اور فروری میں، شہر میں درجہ حرارت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ حال ہی میں، جنوری 2026 میں، کراچی میں سرد لہر کی وجہ سے کم سے کم درجہ حرارت سنگل ڈجٹ تک گر گیا ہے، جو 6-7 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ سردی بلوچستان سے آنے والی ٹھنڈی ہواؤں کی وجہ سے مزید شدت اختیار کر رہی ہے، جس سے شہریوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ پاکستان میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ (پی ایم ڈی) کے مطابق، یہ سردی کا دورانیہ چند دنوں تک جاری رہ سکتا ہے، اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
کم درجہ حرارت کے اثرات شہر کی آبادی پر کئی طریقوں سے مرتب ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے، صحت کے مسائل نمایاں ہوتے ہیں۔ سرد موسم میں سانس کی بیماریاں بڑھ جاتی ہیں، جیسے نزلہ، زکام، نمونیا اور سینے کے انفیکشن۔ خاص طور پر بچوں میں یہ بیماریاں تیزی سے پھیلتی ہیں، کیونکہ ان کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے۔ بوڑھے افراد میں سٹروک کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے، کیونکہ سردی خون کی نالیوں کو سکڑتی ہے اور دل پر دباؤ بڑھاتی ہے۔ اس کے علاوہ، کراچی کی خشک اور دھول آلود ہوا سردی میں سموگ اور دھند کا سبب بنتی ہے، جو الرجی، کھانسی اور سانس لینے میں دشواری پیدا کرتی ہے۔ شہر کی فضائی آلودگی، جو ٹریفک، صنعتوں اور تعمیراتی کاموں سے بڑھتی ہے، سردی میں مزید خراب ہو جاتی ہے، کیونکہ آلودہ ذرات ہوا میں معلق رہتے ہیں۔ نتیجتاً، ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے، جو پہلے ہی کم وسائل والے صحت کے نظام پر بوجھ ڈالتا ہے۔
کراچی کے بہت سے علاقوں میں گیس کی سپلائی کم ہو جاتی ہے، جس سے گھروں میں کھانا پکانا اور گرم پانی کی سہولت متاثر ہوتی ہے۔ لوگ مہنگے ایل پی جی سلنڈرز کا استعمال کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جو غریب خاندانوں کے لیے مالی بوجھ ہے۔ سردی کی وجہ سے اسکول جانے والے بچے اور کام پر جانے والے افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر صبح اور شام کے اوقات میں۔ ٹریفک میں دھند کی وجہ سے حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اور سفر میں تاخیر ہوتی ہے۔ معاشی طور پر، سردی زراعت اور ماہی گیری جیسے شعبوں کو متاثر کرتی ہے۔ کراچی کے آس پاس کے دیہی علاقوں میں فصلیں سردی سے خراب ہو سکتی ہیں، جو خوراک کی قیمتیں بڑھاتی ہیں۔ اس کے علاوہ، غریب اور بے گھر افراد کے لیے یہ موسم جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ وہ مناسب پناہ گاہ اور گرم کپڑوں سے محروم ہوتے ہیں۔ ماحولیاتی طور پر، سردی شہر کی سبز جگہوں کو کم کرتی ہے، اور آلودگی کی وجہ سے ماحول مزید خراب ہوتا ہے۔ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے سرد لہریں زیادہ شدید ہو رہی ہیں، جو مستقبل میں مزید مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔
ان اثرات سے بچنے کے لیے حفاظتی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔ سب سے اہم تدبیر گرم کپڑوں کا استعمال ہے۔ اون کے کپڑے، جیکٹس، مفلر اور دستانے پہن کر جسم کو ٹھنڈ سے بچایا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر بچوں اور بوڑھوں کو گرم رکھنا چاہیے، کیونکہ وہ زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ ہائیڈریشن بھی اہم ہے؛ سردی میں لوگ کم پانی پیتے ہیں، لیکن جسم کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ خون کی گردش بہتر رہے۔ گرم مشروبات جیسے چائے، سوپ اور گرم دودھ کا استعمال فائدہ مند ہے۔ غذائیت سے بھرپور کھانا کھائیں، جیسے پھل، سبزیاں، خشک میوے اور پروٹین سے مالا مال غذائیں، تاکہ مدافعتی نظام مضبوط رہے۔ جنک فوڈ سے پرہیز کریں، کیونکہ یہ الرجی اور بیماریاں بڑھاتا ہے۔
صحت کے لیے، اگر نزلہ یا کھانسی کے علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی مدد حاصل کریں۔ ہسپتالوں میں سردی سے متعلق بیماریوں کے لیے تیاری رکھیں۔ دھول اور سموگ سے بچنے کے لیے فیس ماسک کا استعمال کریں، خاص طور پر باہر نکلتے وقت۔ سفر کے دوران احتیاط برتیں دھند میں گاڑی کی لائٹس استعمال کریں اور رفتار کم رکھیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی ہدایات پر عمل کریں، جو سرد لہر کے دوران الرٹ جاری کرتی ہے۔ گھروں میں ہیٹر یا گیس کے استعمال میں احتیاط کریں تاکہ کاربن مونو آکسائیڈ کی زہریلی گیس سے بچا جا سکے۔
حکومت اور مقامی اداروں کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے۔ گیس کی سپلائی کو بہتر بنانا، عوامی آگاہی مہم چلانا اور غریبوں کو گرم کپڑے تقسیم کرنا ضروری ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے درخت لگانا اور آلودگی کم کرنا طویل مدتی حل ہیں۔
آخر میں، کراچی میں سرد موسم ایک چیلنج ہے، لیکن آگاہی اور احتیاطی تدابیر سے اسے سنبھالا جا سکتا ہے۔ شہریوں کو اپنی اور اپنے پیاروں کی حفاظت پر توجہ دینی چاہیے، تاکہ یہ موسم خوشگوار گزرے۔ اللہ پاک ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ آمین،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *