تحریر۔نظام الدین
دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا خطہ یا ملک ہو گا جہاں حالات پر امن ہون کہیں دو ممالک کی جنگ میں کئی ممالک اس کی لپیٹ میں آچکے ہیں تو کہیں کرپشن، بدعنوانیوں کے خلاف خانہ جنگی کی کیفیت ہے، کہیں دوستی کی آڑ میں دوست ممالک پر فضائی حملوں میں دشمن کی مدد کی جا رہی ہے اور کہیں عوام کو عام مسائل اور سوال کرنے سے روکنے کے لیے ارباب اقتدار ملک کی عوام پر مظالم ڈھا رہے ہیں۔
اور کہیں صوبائی خودمختاری کی تحریکیں مختلف اشکال میں جاری ہیں کہیں تو علیحدگی کے مطالبات کے نعرے لگائے جارہے ہیں ،
پاکستان کے شہر کراچی کے شہری بھی ایک طویل عرصے سے سندھ حکومت کی عدم توجہ کی وجہ سے بے چینی، اضطراب اور ذہنی دباؤ کی کیفیت سے گزر رہے ہیں ، کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب دل دہلا دینے والی خبریں نہ سنی جاتی ہوں کہیں ڈمپر کے نیچے لوگ کچلے جاتے ہیں کہیں فرضی انکاؤنٹر کی خبر آتی ہے۔ کہیں موبائل چھیننے کے دوران ہلاک ہوئے کا المیہ سامنے آتا ہے، تو کہیں فسادات کی آگ بھڑکتی دکھائی دیتی ہے۔ کبھی سرکاری سرپرستی میں جان و مال کے نقصان کی اطلاعات ملتی ہیں۔ گرفتاریوں اور ہراسانیوں کی خبریں الگ ہیں۔ ایک ایسا لگاتار سلسلہ ہے جس میں خوشی یا اطمینان کی کوئی روشنی دکھائی ہی نہیں دیتی۔
یہ سب دیکھ کر بظاہر لگتا ہے کہ فضا میں مکمل اندھیرا چھایا ہوا ہے، مگر تاریخ کا سبق یہی ہے کہ شدید اندھیروں میں ہی روشنی تلاش کی جاتی ہے،
دنیا میں ایسی بے شمار مثالیں ہیں جب لوگوں کے حقوق پامال ہوئے تو اقوام متحدہ اور اس کی ذیلی شاخوں سے رابطے کیے، مثال کے طور پر جب جرمنی سمیت یورپ کے کئی حصوں میں یہودیوں پر ظلم و ستم اپنے عروج پر تھا۔ ان مظالم کے مقابلے کیلئے یہودیوں کی ایک تنظیم نے لوگوں کو ایک سادہ مگر طاقتور مشورہ دیا، لوگ اپنی یادداشتیں لکھیں ، اپنی ڈائریاں محفوظ کریں اور اپنے حالات و واقعات کو دستاویز کی شکل دیں ۔
لوگوں نے اس مشورے پر عمل کیا۔ انہوں نے اپنے دکھ، اپنے تجربات، اپنے زخم، اپنی گواہیاں قلم بند کرنی شروع کیں۔ بعد ازاں اقوامِ متحدہ میں جب یہ مسئلہ اٹھا، تو بتایا جاتا ہے کہ ٹرکوں کے ٹرک ایسی ڈائریوں اور تحریروں سے بھر کر پیش کیے گئے، جنہوں نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ انہی تحریروں نے انہیں انصاف دلانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔اس کے علاؤہ بھی دنیا میں بےمثالیں موجود ہیں ،
آج کراچی کے شہریوں کی حالت کچھ اسی طرح کے سنگین دور سے گزر رہی ہے۔ ایسے ماحول میں مایوسی میں ڈوبنے کے بجائے ہمیں تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے۔اگر آج سندھ میں انتظامی بنیادوں پر شہری صوبے کی آواز ابھر رہی ہے تو اسے دبانے کی کوشش میں سندھ حکومت طرح طرح کے ہتھکنڈے اختیار کر رہی ہے جبکہ صوبے کے لیے آواز اٹھانا سازش نہیں ریاست کی نئی ضرورت ہے ، اگر سندھ حکومت نے ان مطالبات پر سنجیدگی سے عمل نہیں کیا تو تو یہ مطالبہ مستقبل میں سخت شکل اختیار کرسکتا ہے ، نئے صوبوں سے ریاستیں ٹوٹتی نہیں مضبوط ہوتی ہیں ، جتنے زیادہ اختیارات مقامی سطح پر ہوں گے اتنی ریاست خوشحال ہوگی ، میں اس کالم کی معروف سندھ کے شہریوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ قانون کو ہاتھ میں نہ لیں بلکہ جو لوگ پڑھ سکتے ہیں، لکھ سکتے ہیں، انہیں سامنے آ کر لکھنا چاہیے، اپنی کہانیاں محفوظ کرنی چاہئیں، روزمرہ کے واقعات کو دستاویزی شکل دینی چاہیے۔ لکھنے کا ایک اصول ہے، جو لکھ دیا جائے وہ باقی رہ جاتا ہے، جو نہ لکھا جائے وہ مٹ جاتا ہے۔
ہمارا بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا، ہوتا رہا، یا ہو رہا ہے، ہم نے اسے محفوظ نہیں کیا۔ نہ کتابیں سامنے آئیں، نہ واقعات کی جامع دستاویزیں تیار کی گئیں، اور جو لوگ لکھتے بھی ہیں، انہیں وہ حوصلہ و پذیرائی نہیں ملتی جس کے وہ مستحق ہیں۔ یہ ذمہ داری صرف افراد کی نہیں، بلکہ شہری تنظیموں، اداروں اور سماجی پلیٹ فارمز کی بھی ہے کہ وہ لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کریں، ان سے لکھوائیں، اور ان تحریروں کو منظرِ عام پر لائیں۔ ہر شخص چاہے وہ انگریزی اردو سندھی یا گجراتی میں ،لیکن لکھے ضرور۔ کیونکہ تحریر ہی وہ گواہ ہے جو آنے والی نسلوں اور تاریخ کے سامنے سچائی کو زندہ رکھتی ہے۔ اور ان تحریروں کی کاپیاں پاکستان کے مقتدر اداروں مثلاً سپریم کورٹ وزیر اعظم انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی سطح پر اقوام متحدہ اور اس کے متعلقہ اداروں کو پہنچائیں
ان خطوط میں پاکستان سے علیحدگی بغاوت یا ریاست کے خلاف مسلح کارروائی جیسی بات نہ لکھی جائے کیونکہ یہ آئین کے آرٹیکل( 5) اور پی پی سی کی بعض شقوں کے دائرے میں آسکتی ہیں ، جبکہ پاکستان کا آئین خود شہریوں کو یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ بین الاقوامی فورمز پر انسانی حقوق سے متعلق شکایات کرسکتے ہیں جس میں بے دخلی سیاسی امتیاز آبادیاتی تفریق زبان اور تہذیب پر حملے ریاستی ناانصافی صوبائی سطح پر عدم مساوات جیسی شکایات شہری یا کمیونٹی جمع کرانے کا حق رکھتے ہیں کیونکہ پاکستان نے مختلف بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں پر دستخط کیے ہوئے ہیں،