سولرصارفین کی پیداواری لاگت صرف 5 روپے ہے، ساڑھے3 کروڑ میں سے صرف ساڑھے4 لاکھ نیٹ میٹرنگ صارفین ہیں، نیپرا کا بنیادی کام بجلی کی قیمتوں میں غیرضروری اضافہ روکنا ہے۔ اویس لغاری
اسلام آباد ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 11 فروری 2026ء ) وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے کہا ہے کہ نیپرا اگر سولرصارفین سے26 روپے فی یونٹ پر بجلی خریدتا ہے تو عام صارفین پر سالانہ 550 ارب روپے کا بوجھ پڑتا ہے۔ انہوں نے جیونیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کا ویژن صاف کلین انرجی کا ہے، اس میں ونڈ اور سولر انرجی شامل ہے، پاکستان میں بجلی کی قیمتیں زیادہ ہونے سے سولر کی طرف صارفین آئے۔آج گرڈ سسٹم میں بنی بجلی میں 5فیصد بجلی کلین انرجی ہے اور صفر فیصد فرنس آئل کا استعمال کیا جاتا ہے۔ 2030تک کلین انرجی کی شرح کو 80فیصد اور 2034تک کلین انرجی کی شرح کو 90فیصد تک لے جائیں گے، پاور سیکٹر میں اصلاحات کی جارہی ہیں۔ ریفارمز کا ہدف سستی اور کلین انرجی ہے۔
بجلی کی چوری کم کرنا اور ریکوری بہتر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم نے دوسرے اقدامات نہیں اٹھانے۔حکومت نئے آئی پی پیز اور نئے پلانٹ کی خریدوفروخت نہیں کرے گی، بلکہ لوگ آپس میں بجلی کی خریدوفروخت کریں گے۔ سولر نیٹ میٹرنک کیوں ختم کرنے کی ضرورت پیش آئی۔سولر نیٹ میٹرنگ سے متعلق ہرفورم پوری بات ہوئی ۔ سولر کنزیومرزصارفین کا جنہوں نے آج تک 6ہزار میگاواٹ بجلی لگائی۔بجلی مہنگی سے خود کو بچانے کیلئے سولر سسٹم لگایا۔وہ بجلی بناتے ہیں اور خود استعمال کرتے ہیں، حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن وافر بجلی کن ریٹس پر خریدیں ، ہمارا اس سے تعلق ہے، سولرصارفین سے ہم 27روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی خریدتے ہیں، اور ان کی پیداواری لاگت صرف 5روپے فی یونٹ ہے، حکومت آئی پی پیز اور دیگر سے 8روپے 31پیسے فی یونٹ کے حساب سے بجلی خرید رہی ہے۔بجلی فی یونٹ 27روپے خریدنے اور سات سال کیلئے کانٹریکٹ تھا، لیکن نیٹ میٹرنگ کانٹریکٹ میں شامل نہیں ہے، سولر نیٹ میٹر صارفین 4لاکھ 60 ہزار ہیں، جبکہ کل صارفین 3کروڑ 50لاکھ سے زیادہ ہیں۔ نیوز ایجنسی کے مطابق وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ سولر نیٹ میٹرنگ ریگولیشن میں تبدیلیاں صارفین کے مفاد میں ہیں۔ سینیٹ میں سولر نیٹ میٹرنگ ریگولیشن میں حالیہ تبدیلیوں کا دفاع کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ یہ اقدامات پالیسی کی بجائے ریگولیٹری نوعیت کے ہیں ،ان کا مقصد بجلی صارفین پر اضافی مالی بوجھ سے بچانا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیپرا کا بنیادی کام صارفین کے مفاد کا تحفظ کرنا اور بجلی کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیپرا نے صارفین کیساتھ پہلے سے طے شدہ کسی شق میں تبدیلی نہیں کی ،موجودہ سات سالہ نیٹ میٹرڈ کنٹریکٹس برقرار ہیں۔اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان سولر ایسوسی ایشن نے حکومت کے اقدامات کی حمایت کی ہے اور اس کے باوجود سولر پاور جنریشن میں 8,000 میگاواٹ اضافہ متوقع ہے۔انہوں نے بتایا کہ 2018-22 کے دوران بجلی کی بلند قیمتوں کی بنیادی وجہ روپے کی تیز شرحِ کمی تھی جس کے اثرات سے موجودہ حکومت نمٹ رہی ہے۔ نیٹ میٹرنگ کا طریقہ کار وفاقی کابینہ نے منظور کیا اور پاکستان نے اپنی پاور مکس میں 55 فیصد صاف توانائی حاصل کرنے کا ہدف حاصل کر لیا ہے۔وزیر توانائی نے کہا کہ فارن آئل کے استعمال کو تقریبا ختم کر دیا گیا ہے اور بین الاقوامی اداروں نے حکومت شہباز شریف کے پاور سیکٹر اصلاحات کی تصدیق کی ہے، آزاد پاور پروڈیوسرز کے معاملات میں حکومت نے معاہدے جائزے اور تقرریاں میرٹ کی بنیاد پر کیں، اور اثر و رسوخ رکھنے والے گروپس کے دبا میں نہیں آئی۔صارفین کے ڈیٹا کے حوالے سے وزیر نے بتایا کہ 34.5ملین بجلی صارفین میں سے صرف 466,000 نیٹ میٹرنگ صارفین ہیں، نیپرا کو 26 روپے فی یونٹ پر بجلی خریدنے کی اجازت دینے سے عام صارفین پر سالانہ 550 ارب روپے کا بوجھ پڑتا۔ اویس لغاری نے تصدیق کی کہ نیپرا کی منظور شدہ شرحوں کے تحت نئے صارفین اپنی سرمایہ کاری تین سال میں واپس حاصل کر سکتے ہیں، اگر ریگولیشنز میں اصلاح نہ کی جاتی تو عام صارفین کے لیے فی یونٹ 5 روپے کا اضافی بوجھ پیدا ہوتا۔