تحریر-نظام الدین
“ایف آئی اے”نے
امریکی حکام کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات کی بنیاد پرجون 2024 کوصارم برنی ٹرسٹ پر20 کے قریب بچیوں کو امریکا اسمگلنگ الزام کے تحت کیس درج کیا تو میں نے ان بچیوں سے متعلق اخبار میں کالم لکھنے سے پہلے صارم برنی ٹرسٹ کے وکیل محراج خٹک سے لائنز ایریا کے اس مکان میں ملاقات کی جہاں کچھ دن پہلے ایک خاتون مردہ حالت میں پائی گئی تھی جسے تھانہ برگیڈ کے ایس ایچ او خالد رفیق کی ایماء پر لاوارث قرار دے کر صارم برنی ٹرسٹ کے قبضے میں دیدیا تھااس مکان میں وہ وکیل صاحب رہائش پذیر تھے میں نے ان سے بچیوں سے متعلق سوال کیا کہ وہ ننھی بچیاں جو ابھی کھیلنے ہنسنے اور ماں کی گود میں سونے کی عمر میں تھیں آپ کے ٹرسٹ نے انھیں ایک ایسے ملک پہنچا دیا جہاں کوئی انہیں جانتا تک نہیں؟ کیا آپ اپنی بچی اجنبی ملک میں چھوڑ سکتے ہو ؟وہ میری اس بات پر ناراض ہوگئے اور مجھے میرے سوالات کے جواب دینے کے لیے کل ملنے اور تفصیل بتانے کا وقت دیا اور پھر دوسرے دن وہ اس قبضے والے مکان سے غائب ہوگئے اس مکان میں موجود کچھ خاتون میں سے ایک نے بتایا کہ وہ خیبرپختونخوااپنے گاؤں چلے گئے؟
ان بچیوں سے متعلق مجھے جواب اج تک نہیں ملا؟ مگر 2026 میں امریکا کےجزیرہ ایپسٹین میں کئی دہائیوں سے جاری انسانیت شکن و روح فرساءجرائم کے بارے میں میڈیا پرآنے والی تفصیلات نےجہاں دنیا میں کروڑوں لوگوں کو شدید غم غصے کا شکاراور شاک زدہ کردیا وہاں مجھ سمیت ان گنت نفوس ان شیطانی جرائم کے بارے میں جان کر شدید خوف و تشویش کا شکار ہوگئے”بالخصوص” ان معصوم بچیوں کے بارے میں مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا جنہیں صارم برنی ٹرسٹ نے دنیا کےاس سپر پاؤر ملک میں اسمگلنگ کردیا تھاجو منظم طاقتورافواج اور خفیہ ایجنسیوں کا حامل سمجھاجاتا ہے،وہاں دہائیوں سے معصوم بچیوں کے ساتھ جہنم برپا ہوتا رہا اور کوئی کچھ نہ کر سکا؟دنیا کی کوئی فوج کوئی ایجنسی کوئی ادارہ ان ہزاروں بچوں کو نہیں بچا سکا جو جزیرہ ایپسٹین پر اس شیطانی قوتوں کی سفاکیت و درندگی کا شکار بن گئیں اوران بچوں کا تعلق بھی دنیا کے کئی ممالک سے تھا۔کوئی ملک بھی کچھ نہ کر سکا؟ اپنی ان بچوں کو بچانے کی خاطِر؟
جیفری ایپسٹین کی جیل میں خودکشی نے کئی سوالات کو جنم دیا، مگر سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا اس ایک شخص کے خاتمے سے وہ مکروہ نظام اور دھندہ بھی ختم ہو گیا جس کی وہ آبیاری کر رہا تھا؟حقیقت یہ ہے کہ ایپسٹین محض ایک علامت تھا،اس گندے کھیل کا اصل ڈھانچہ آج بھی کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے۔ایپسٹین کی کہانی صرف ایک”عیاش”شخص کی کہانی نہیں تھی بلکہ یہ طاقت پیسے اور بلیک میلنگ کے اس تکون کی داستان تھی جس میں دنیا کے بااثر سیاست دان سرمایہ کار، فوجی افسران، اور شاہی خاندان کے افراد شامل تھے۔اس کی مبینہ خودکشی نے ان تمام رازوں پر پردہ ڈال دیا جو دنیا کے کئی”بڑے ناموں”کو سلاخوں کے پیچھے پہنچا سکتے تھے، اج بھی دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں، خاص طور پر امریکہ کے مہنگے جزیروں یا پرتعیش فارم ہاؤسز میں، کوئی نہ کوئی ایسا نیٹ ورک کام کر رہا ہوگا جس کی جڑیں اتنی ہی گہری ہوں گی۔کیونکہ جب دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں ہو جائے، تو قانون اکثر ان کی دہلیز پر دم توڑ دیتاہے ایپسٹین مر تو گیا، لیکن اس کے عیاش گاہک اور ظالم سرپرست آج بھی زندہ ہیں دنیا نے دیکھا کہ کس طرح اس کیس سے جڑے اہم ناموں کو بچانے کے لیے نظام نے سستی اور تبدیلی دکھائی۔ یہ اس بات کاثبوت ہے کہ ایپسٹین”ازم” ایک سوچ ہے جو طاقتور لوگوں کو یہ یقین دلاتی ہے کہ وہ انسانیت اور اخلاقیات سے بالاتر ہیں۔موجودہ صورت حال میں آج بھی اگر ہم سرخیوں پر نظرڈالیں تو مختلف نام نہاد پارٹیوں اور نجی اجتماعات کے اسکینڈلز یہ ظاہر کرتے ہیں شکاری تو بدلتے رہتے ہیں مگر جنگل وہاں موجود رہتا ہے جہاں معصوموں کا استحصال کیا جاتا ہے “میری” تحقیق کے مطابق صارم برنی ٹرسٹ کی سرپرستی میں امریکا جانے والی وہ معصوم بچیاں آج تک پاکستان واپس نہیں پہنچی، امریکی ریکارڈاور میڈیا کی سطح تک بھی ان بچیوں کی واضح واپسی سامنے نہیں آئی۔اگر وہ بچیاں پاکستان آئیں ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے پھر بتایا کیوں نہیں جا رہا؟یہ وہ مقام ہے جہاں صارم برنی کیس محض اسمگلنگ نہیں رہتا بلکہ ایپسٹین ماڈل بنتا ہے کہ بچیاں لاؤ، دستاویزات بدلاؤ، قانونی راستوں کا سہارا لو، اور پھر طاقتور طبقے تک خاموشی سے پہنچاؤ۔ یہاں ایک سوال اور بھی ہے کہ پاکستان میں صارم برنی جیل میں ہے، مگر امریکہ میں بچیاں وصول کرنے والوں پر کوئی فوجداری کارروائی سامنے نہیں آئی۔ جبکہ یہ معاملہ بین الاقوامی اسمگلنگ کا ہے بھیجنے والا تو مجرم قرار دیا گیا بچیاں لینے والا معصوم کیوں ہے ؟
جبکہ جرم دونوں طرف یکساں ہے ،
ایپسٹین نے بھی یہ ہی کیا تھا۔وہ خود بچیاں اسمگلنگ نہیں کرتا تھا، وہ سپلائی چین بناتا تھا۔آج سوال یہ نہیں کہ ایپسٹین مر گیا۔سوال یہ ہے
کیا ایپسٹین کا نیٹ ورک نئے ناموں سے زندہ ہے؟صارم برنی ٹرسٹ کیس میں اصل خطرہ یہ نہیں کہ بچیاں امریکا گئیں بلکہ یہ ہے کہ ان کا ریکارڈ غائب ہے حکومتیں خاموش ہیں خاموشی ہمیشہ بے گناہی نہیں ہوتی، اکثر خاموشی سہولت کاری ہوتی ہے۔اگر یہ بچیاں واقعی محفوظ ہیں تو حکومت پاکستان اورامریکہ کو چاہیے کہ بچیوں کی موجودہ حالت بتائیں تحویل کا نظام واضح کریں
اور انہیں وطن واپس لانے کی رپورٹ دیں۔
ورنہ تاریخ یہ لکھے گی ایپسٹین تو مر گیا مگر اس کا ماڈل آج بھی زندہ ہے،جو انسانیت کے ضمیر پر ایک سیاہ داغ ہے ،،