کائیٹ مینوفیکچرنگ، ہوٹل، ریسٹو رنٹ بک ہوچکے ہیں، کسی کو سزا نہیں دینا چاہتے لیکن عوام کے تحفظ کیلئے قانون کا نفاذ ضروری ہے، وزیراعلیٰ مریم نواز کی بسنت پر حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی اپیل
لاہور ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 03 فروری 2026ء ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بسنت کی خوشیاں منانے کے لئے شاندار ردعمل دینے پر عوام کا شکریہ ادا کیاہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے عوام سے بسنت کے دوران حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی اپیل کی ہے۔وزیراعلی مریم نوازشریف نے کہا کہ صرف لاہور میں 6, 7 اور8 فروری کو بسنت کی اجازت دی گئی ہے، باقی پنجاب میں پتنگ بازی پر بدستور پابندی ہے۔
بسنت پر ہماری توقع سے زیادہ رسپانس آیا، بسنت کے پائلٹ پراجیکٹ کی کامیابی کے بعد دیگر شہروں میں جائزہ لیا جائے گا۔ بلوچستان کے بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں، دعا ہے بلوچستان اور کے پی کے میں امن و سکون ہو۔ بسنت پنجاب کا تہوار ہے، اسے خوشی سے منانا چاہیے۔
پنجاب کے کلچر کو اپنائیں، سنبھالیں اور فخر محسوس کریں۔ انہوں نے کہا کہ1250ء میں شروع ہونے والا تہوار،بسنت بہار کی آمد کی نمائندگی کر تی ہے۔
خوشی منائیں مگر اپنی سلامتی کا بھی خیال کریں، آس پاس کے لوگوں کا تحفظ بھی ملحوظ خاطر رکھیں۔ پنجاب میں بسنت کو فول پروف بنانے کے لئے ہر ڈیپارٹمنٹ نے بھرپور کوشش کی۔ تفکرات کو ذہن سے نکالیں، پریشانیاں بھول کر بھرپور خوشی منائیں۔ ہر روٹ پر ٹرانسپورٹ مفت ہوگی، بائیک کی بجائے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں۔ بسنت کے تہوار پر عوام کو60ہزار سے زائد رائیڈز مہیا کریں گے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ 419بسیں، میٹروبس،اورنج لائن ٹرین اور 6 ہزار یانگو رکشے پر سفر بالکل مفت ہوگا۔ لاہور میں 7 لاکھ سے زائد بائیکس پر سیفٹی راڈ لگ چکے ہیں۔ گڈے کا سائز 40 ضرب 34انچ ہوگا،پتنگ کا سائز 35 ضرب 30 انچ ہوگا۔ صرف نو دھاگوں پر مشتمل کاٹن کی ڈور کا پنا استعمال ہوگا، چرخی، دھاتی تار، تندی اور بلٹ پروف میٹریل وغیرہ منع ہے۔
ممنوعہ اشیاء کے استعمال پر قانون حرکت میں آئے گا۔ انہوں نے کہاکہ لاہور میں ضرورت کے تحت باہر سے بھی پتنگیں اور ڈور منگوانے کی اجازت دی گئی ہے۔ سول ایوی ایشن ایریاز میں پتنگ بازی کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ مفت سیفٹی راڈ مہیا کرنے کے لئے کیمپ قائم ہیں، 7 لاکھ راڈ لگ چکے ہیں۔سیفٹی راڈ لگواکر بائیک سوار نقصان اور جرمانے سے بچ سکتے ہیں۔
سیفٹی راڈ کی پابندی کا اطلاق موٹر سائیکل رکشے اور لوڈر رکشے پر بھی ہوگا۔ رجسٹرڈ مینو فیکچرز، سیلر، ٹریڈرز اور ایسوسی ایشن ہی کیو آر کوڈ سے مزین پتنگیں اور ڈور وغیرہ مہیا کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کے لئے 90ہزار شورٹی بانڈ لیے گئے ہیں۔ہر ایریا میں تھرمل ڈرون سرویلنس ہورہی ہے، رات کو بھی نگرانی کریں گے۔
لاہور میں بوسیدہ اورخطرناک عمارتوں کا سروے مکمل ہوچکا ہے، سب سے فٹنس سرٹیفکیٹ لیے گئے ہیں۔کھلی چھت پرچار دیواری نہیں ہوگی تو سیفٹی کے لئے پتنگ بازی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ہر چھت کو چاروں طرف سے نائیلون کی رسی سے محفوظ بنایا جائے۔ پتنگیں لوٹنے والے بچوں کا بھی خیال رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کی ہرتحصیل میں اسسٹنٹ کمشنر کی سربراہی میں 15رکنی کوئیک رسپانس ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔
ایمرجنسی کی صورت میں 51 ایمبولینس، 30 فائر بریگیڈ اور300 موٹرسائیکل ایمبولینس موجود ہوں گی۔ منسٹری آف واٹر اینڈ پاور سے اپیل کرتی ہوں کہ لٹکتے ہوئے تاروں کے گچھے ہٹانے کا انتظام کریں۔بھاٹی گیٹ، موچی گیٹ، فورٹ روڈ، شیرانوالہ گریڈ سٹیشن پر حفاظتی اقدمات مکمل کر لیے گئے ہیں۔لاہور میں ہر ایک کو سیف سٹی کیمروں سے دیکھا جارہا ہے۔ پتنگ بازی قوانین کی پابندی نہ کرنے والوں کے خلاف کال کرکے یا پورٹل پر وسل بلوئیر / مخبری یا اطلاع دینے کا نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔
دھاتی ڈور بنتی، بکتی یا استعمال ہوتے دیکھیں تو فوراً کال کریں۔ انہوں نے کہا کہ سزا نہیں دینا چاہتے لیکن عوام کے تحفظ کے لئے قانون کا نفاذ ضروری ہے۔ہر پتنگ اور ڈور کے پنے پر کیو آر کوڈ درج ہے، رئیل ٹائم مانیٹرنگ کی جائے گی۔ پنجاب ریگولیشن آف کائیٹ فلائننگ ایکٹ رولز ریگولیشن اور نوٹیفکیشن جاری ہوچکا ہے۔ رولز کی خلاف ورزی پر پانچ سے سات سال قید، اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ لاہور کو تین زونز میں تقسیم کیا گیاہے،ہائی رسک زون میں 48، ییلو زون میں 32 اور گرین زون میں 20کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔داخلی اور خارجی راستوں کی ڈیجیٹل مائپنگ کی جارہی ہے، 10 ہزار سے زائد پولیس اہلکار اور 2342 ٹریفک پولیس تعینات ہے۔ لبرٹی راؤنڈ اباؤٹ پر سب سے بڑی پتنگ اور لیزر لائٹس وغیر ہ کا شو ہوگا۔ محفوظ پتنگ بازی کا موقع دیا گیاہے تو ذمہ دار شہری کے طور پر اپنے فرائض سرانجام دیں۔
حکومت پنجاب نے عوام کی حفاظت کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لوگ محفوظ ہوں گے تو مجھے خوشی ہوگی،بائیک والے ہیلمٹ پہن رہے ہیں اور ریڈ لائن پر ٹریفک رک جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 90فیصد موٹر سائیکل پر سیفٹی راڈ لگے ہوئے تھے، سب قیاس آرائیاں غلط ثابت ہوگئیں۔ گٹر کے ڈھکن چوری نہیں ہونے چاہئیں، لگاتار کھلے مین ہول کور کرنے پر زور دیا۔ رات گئے لوگ گدھا گاڑیوں پر گٹروں کے ڈھکن چوری کرنے آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قانون سازی کررہے ہیں، گٹر کے ڈھکن چوری کرنے والے، بیچنے اور خریدنے والے کو ایک سے 10سال قید اور جرمانہ ہوگا۔ گٹر کا ڈھکن نہ ہونے سے کوئی ڈیتھ ہوئی تو ذمہ دار کو دس سال قید اور 30لاکھ جرمانہ ہوگا۔ پانی کے ہر گندے جوہڑ پر چار دیواری بنانا آسان نہیں، والدین کو بچوں کا خیال رکھنا پڑے گا۔ عوام کو بہتر تبدیلی مل رہی ہے، اب چھوٹے بیانیہ کے ساتھ نہیں بلکہ پرفارمنس کے ساتھ ہیں۔
بنیان مرصوص میں لوگوں نے فتح کا جشن منایا، دلوں میں ملک کے لئے محبت ہے۔ بسنت میں اربوں کی معاشی سرگرمیاں بڑھیں، کائیٹ مینوفیکچرنگ، ہوٹل، ریسٹو رنٹ بک ہوچکے ہیں۔ پنجاب سے پتنگ بازی کی ڈیمانڈ پوری نہیں ہوسکی تو باہر سے لانے کی اجازت دے دی۔ لوگ کے پی کے سے آکر پتنگیں وغیرہ بیچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بسنت کو محفوظ ماحول میں منانا چاہتے ہیں، دنیا بھر سے لوگ بسنت منانے کے لئے آرہے ہیں۔
نوجوانوں کو پنجاب کے ثقافتی ورثے سے متعارف کرانا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنی زبان اور ثقافت پر فخر محسوس کریں۔ پنجاب کی اپنی خوبصورت اقدار ہیں، پنجابی شاندار زبان ہے، ہم نے جگہ جگہ پنجابی زبان کے بورڈ لگائے۔ بسنت ملکی یا صوبائی سطح کا تہوار نہیں بلکہ انٹرنیشنل فیسٹیول بن چکا ہے۔ پنجاب کے کلچر کو متعارف کرواکر پاکستان کی بہترین تصویردکھانا چاہتے ہیں۔
کئی دہائیوں سے سن رہے تھے ملک نازک اور خطرناک حالات سے گزررہا ہے۔ اب ملک آگے بڑھ رہا ہے، پنجاب ترقی کررہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب کی ماں، بہن اور بیٹی ہوں،سب کے لئے آسانیاں اور سکھ چاہتی ہوں۔ پنجاب میں سوا لاکھ سے زائد لوگوں کو اپنا گھر مل گیا، ہزاروں کلو میٹر سڑکیں بن گئیں۔ اربوں روپے کی گرین بسیں آرہی ہیں، فیصل آباد اور گوجرانوالہ میں بھی میٹرو بس بن رہی ہے۔
محمد نواز شریف کے دور میں بسنت زور و شور سے منائی جاتی تھی، انہوں نے بسنت تہواربحال کرنے کا کہا۔ لاہوروالے ایسے خوشی منارہے ہیں جیسے عید کا چاند نظر آگیا ہو۔علاقائی زبانیں بھی بچوں کو سیکھائیں، یہ شرمندگی نہیں فخر ہے۔ پنجاب میں بیوٹیفکیشن کے سینکڑوں پراجیکٹ چل رہے ہیں۔ پہلے کہتے تھے، پرفارمنس نہیں بیانیہ ہونا چاہیے، اس سوچ کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ لاہور کے تین تین چکر لگا کر چلے گئے، کسی نے بات نہیں سنی، پختونوں کے علاقے میں بھی گئے کوئی باہر نہیں آیا۔اب نیا سال ہارس اینڈ کیٹل شو، میلہ چراغاں کوتہوار کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اب لوگ جلاؤ گھیراؤ کی کال پر کان نہیں دھرتے، لبرٹی چوک کبھی بد تہذیبی کا مرکز تھا، اب کلچرل سنٹر ہے۔ جیل کے باہر ضرور بیٹھیں مگر کے پی کے کے کروڑوں لوگوں کا بھی خیال کریں۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں خوف و ہراس سے فائدہ صرف دشمن ملک ہی اٹھاتا ہے۔ لوگ روزگار اور پریشانیوں میں الجھے ہوئے ہیں،خوشی کا بھی وقت ملنا چاہیے۔ہرگھر میں باغ نہیں ہوتا اس لیے ہر شہر میں فیملی پارک بنائے جارہے ہیں۔ مریم نواز شریف نے کہا کہ کہتے تھے جو ہمارے ساتھ ہے وہ نیک ہے اور باقی سب چور اور ڈاکو ہیں۔ یہ لوگ املاک کو جلانا سیاست سمجھتے ہیں،گلی محلے میں منفی سوچ پھیلاکر عوام کو سٹریس کا شکار کیا گیا۔
لوگوں کو آگ لگانے، نشانہ بنانے اور آوازیں کسنے کا درس دیا گیا، اپنے بچے باہر بیٹھے تھے، دوسروں کے بچوں کو توڑ پھوڑ سکھائی۔ ہر وقت امن وامان اور برے حالات کا رونا رویا جائے تو ملک دشمن خوش ہوں گے۔ لوگ سرمایہ کاری کے لئے آنا چاہتے ہیں، ہمیں مثبت تصویر پیش کرنی چاہیے۔وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب ٹیکنالوجی اور اے آئی میں لیڈ کررہا ہے۔
لاہور کے ہوٹل میں آتشزدگی کا واقعہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے خود مانیٹرکیا۔پنجاب کا ہر شہر سی سی ٹی وی مانیٹرنگ کی وجہ سے سیف سٹی بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اوبر چلانے والی بچی نے کہا اتنے محفوظ ماحول کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی، یہ میرے لیے میڈل ہے۔ امن وامان کی صورتحال میں 70 فیصد بہتری آچکی ہے۔ہر گلی محلہ صاف کررہے ہیں، دروازے پر جاکر دوائیاں دیتے اور علاج کرتے ہیں۔پنجاب میں مختصر عرصے کے دوران 10ہزار بچوں کی ہارٹ سرجری ہوچکی ہے۔ ٹریفک رولز کا نفاذ کیا تو شور اٹھا یہ کسی ایک کی نہیں، ہم سب کی بہتری کے لئے ہیں۔حکومت عوام کی بہتری کے لئے قوانین نافذ کرتی ہے۔