ملک کے نظریاتی کردار کو آئین سے متصادم قانون سازی کے ذریعے مسخ کیا جارہا ہے

لاہور ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 11 فروری 2026ء ) حافظ نعیم الرحمن امیر جماعت اسلامی پاکستان کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں مرکزی مجلس شوریٰ نے ملک کے ہر آن بگڑتے بڑھتے بحرانوں کے گھمبیر ہونے پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہابے کہ ملک کے اسلامی نظریاتی کردار کو قرآن وسنت اور آئین سے متصادم قانون سازی اورانتظامی احکامات کے ذریعے مسخ کیا جارہا ہے، آئین اورعدلیہ کی پامالی سے عوام کو سیاسی، جمہوری انتخابی اور بلدیاتی حقوق سے محروم کرنے کا کھیل بنا دیا گیا ہے۔

سیاسی بحران ہر شعبہ ہائے زندگی میں عدم استحکام کی جڑ ہے،

مرکزی شوریٰ نے متفقہ قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا ہے کہ عورت کے تحفظ کو ریاستی ذمہ داری کے طور پر مؤثر قانون سازی اور فوری و شفاف انصاف کے نظام کے ذریعے یقینی بنایا جائے۔

تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا، بلوچستان میں دہشت گردی اور اسلام آباد میں خودکش دھماکے انتہائی تشویشناک ہیں، دہشت گردی کے پے در پے اورمسلسل واقعات، بیرونی قوتوں کے آلہ کار دہشت گرد اپنے ا ہداف حاصل کر رہے ہیں جبکہ وفاقی و صوبائی حکومتیں اور سیکورٹی فورسز بے بس اور عوام کو جان مال عزت کا تحفظ دینے میں ناکام ہیں،معاشی حالات کی بہتری کے حکومتی دعوے سفید جھوٹ ہیں جبکہ غریب، بے روزگار اور معاشی حالات سے تنگ افراد کی خودکشیاں، نوجوانوں کو ملک چھوڑنے کے ہتھکنڈے اور جرائم و منشیات کی دُنیا میں دھکیلنے کامکروہ دھندہ عروج پرہے۔

سود،رشوت،کرپشن، قومی خزانہ کی لوٹ مار اور عیاشیاں، غیر ترقیاتی اخراجات میں بے دریغ اضافہ قومی معیشت کے لئے کینسر بن گیا ہے۔

 2024ئ کے قومی انتخابات میں انتخابی نتائج کی انجینئرنگ، عوامی مینڈیٹ کو تبدیل کر دینے کے لئے فارم 47 کا فراڈ قومی سلامتی کے لیے خطرناک شکل اختیار کر گیاہے،معرکہ ¿ حق میں عظیم کامیابی ملک کے اندرونی استحکام کا ذریعہ بننے کی بجائے طاقت کے زور پر’’ہائبرڈ نظام‘‘بڑی خرابیوں کا باعث بن گیا ہے۔

ملک وملت کو درپیش بحرانی صورت حال کاتقاضہ ہے کہ سیاسی، جمہوری، ریاستی قیادت سنجیدگی سے بحرانوں کے خاتمہ کے لئے اقدامات کرے، حکومت میں شامل جماعتیں چونکہ دھاندلی زدہ انتخابی نتائج کی ذلت میں ڈوبنے کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی بنی ہوئی ہے، عوام پر تاریخ کا بدترین جبر مسلط ہے اور شہریوں کو بااختیار بلدیاتی مقامی حکومتوں کے نظام سے بھی محروم کردیا گیا ہے، جو سنگین آئینی جرم ہے۔

مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس نے حکومت کے کشمیروفلسطین مسئلہ پر قومی امنگوں سے انحراف پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے’بورڈ آف پیس‘ کا حصہ بننا پاکستان کے اصولی موقف اور بانی پاکستان قائد اعظم کی اصولی پالیسی سے صریحاً انحراف ہے جبکہ امریکہ کا واضح ہدف فلسطینیوں کو ان کے حق سے محروم کرنا اور اسرائیل کے ناجائز وجود کو تحفظ دیناہے۔

وزیراعظم نے اس اہم ترین اقدام اور پاکستان کے لیے دوررَس اثرات کے حامل فیصلہ پر قومی اتفاق رائے پیدا نہیں کیا۔ جماعت اسلامی امریکی صدر ٹرمپ کے ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے ڈھونگ کو مسترد کرتی ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ فلسطین وکشمیر پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز پر مبنی قومی کانفرنس طلب کی جائے، حکومت بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ واپس لے کیونکہ یہ حکومت ایک غیر نمائندہ و ناجائز حکومت ہے۔

جسے اتنے بڑے اور بنیادی فیصلے کاکوئی حق حاصل نہیں ۔

مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس نے ملک کو سیاسی، آئینی، عدالتی، جمہوری اور امن عامہ کے بحرانوں سے نجات دلانے کے لئے قومی ایجنڈا تجویز کیا ہے۔ سیاسی استحکام کے لئے تجویز کردہ قومی ایجنڈا کے اہم نکات کی روشنی میں جماعت اسلامی تمام سیاسی، ریاستی، سول سوسائٹی کے تمام اسٹیک ہولڈرز سے رابطہ کرے گی۔

شوریٰ کی متفقہ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئین پاکستان کی حفاظت اور پابندی کی جائے، متفقہ قومی دستاویز دستورِپاکستان میں 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کو ختم کرنے پر اتفاق کیاجائے۔عدلیہ کی آزادی اور غیر متنازع حیثیت کی بحالی یقینی بنائی جائے۔ شفاف اور غیرجانبدارانہ انتخابات کو یقینی بنایا جائے، کوئی بھی سیاسی جمہوری پارٹی اقتدار کے حصول کے لئے اسٹیبلشمنٹ کے غیر آئینی ہتھکنڈوں کا آلہ کار نہ بنے، الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بااختیار بنایاجائے اور تما م جماعتیں جو انتخابات میں حصہ لیں وہ عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم کریں۔

نیز جمہوریت اور پارلیمانی نظام کو بااعتماد ومستحکم بنانے کے لئے متناسب نمائندگی کے طرز انتخاب پر اتفاق کیاجائے۔

وفاق اور صوبے عوام کو بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام دیں۔کراچی میں ناجائزبنیادوں پر میئر شپ پر سندھ حکومت کا قبضہ کراچی کے عوام کی تذلیل اور پریشانیوں کا سبب بن گیا ہے۔سیاسی جمہوری جماعتیں نوجوانوں کو جمہوری اعتماددینے کے لئے طلبہ یونینز کی بحالی پر اتفاق کریں۔

بلوچستان، خیبر پختونخوا کی صورت حال مسلسل دہشت گردی کے واقعات ملکی سلامتی کے نقطہ نظر سے انتہائی تشویشناک ہیں اور سندھ میں انتہائی بری گورننس ،کرپشن اوربدامنی بڑا المیہ ہے،بلوچستان کے 12اضلاع میں بیک وقت بی ایل اے کا اعلانیہ حملہ ،لوٹ مار،قتل و غارت گری اور  اسلام آباد میں خود کش دھماکوں کے المناک واقعات عوام میں گہرا تذبذب اور شکوک و شبہات پیدا کررہے ہیں کہ اندرونی سیکورٹی دہائیوں سے فوج کے ہاتھ میں ہے جس کے نتیجے میں فوج کی پیشہ وارانہ صلاحیتیں بُری طرح متاثر ہوتی رہی ہیں ۔

ناراض عوام اور نوجوانوں کو قومی دھارے میں لانے کے لیے از سر نو قومی ایکشن پلان پر قومی اتفاق رائے پیدا کیاجائے۔ سیاسی استحکام اورمعاشی استحکام لازم وملزوم ہیں، قومی معیشت کے لئے قرضے، سود،کرپشن، سرکاری اداروں کی مفت خوری اور اندھے ناجائز غیر ترقیاتی اخراجات نیز پیداواری لاگت کا ناقابل برداشت بوجھ معاشی نظام کے لئے کینسر بن گئے ہیں، تمام اسٹیک ہولڈرز خود انحصاری، خود داری، امانت ودیانت کے ساتھ اسلامی معاشی نظام بالخصوص وفاقی شرعی عدالت کی مدد سے سود سے پاک معیشت پر فیصلہ پر عملدرآمد کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز اتفاق کریں۔

آزادی صحافت کو یقنی بنانے کے لئے ریاست اور صحافت کے درمیان بااعتماد تعلقات کی بحالی، پیکا جیسے کالے قوانین کوختم کرنے کے لئے ذمہ دار بااعتماد نظام بنانے پر اتفاق کیاجائے۔ عوام کے بنیادی انسانی حقوق کاتحفظ آئین پاکستان اور اقوام متحدہ کے بنیادی حقوق چارٹر کے مطابق لازم ہے، ناجائز بنیادوں پرقید سیاسی قیدیوں کی رہائی اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے آئین اور قانون کے مطابق فریم آف ورک بنانے کے اقدام کیے جائیں۔

حکومتوں اور سیکورٹی اداروں کی طرف سے سیاسی جماعتوں اور سیاسی کارکنان کی ہراسانی، گرفتاریاں، فوجی عدالتوں سے  فیصلوں کے سدباب کے لئے اسٹیک ہولڈرز اپنا کردار ادا کریں۔وفاق اور صوبوں کے درمیان تمام تعلقات اور تنازعات کو آئینی حدود کا پابند بنایا جائے، کسی بھی تنازع کے حل کے لئے آئینی ادارے ’مشترکہ مفادات کونسل‘ کو ذریعہ بنایا جائے، معدنیات اور صوبوں کے وسائل پر حق ملکیت تسلیم کیاجائے،کمزور معیشت کی آڑ میں ملکی  معدنیات، وسائل پر استعماری قبضہ کاسدّباب قومی قیادت کا قومی فرض ہے۔

اجلاس ٹی۔20ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کے خلاف آئی سی سی کا انڈیا کے حق میں جانبدارانہ اقدام کی مذمت کرتا ہے اور پاکستان کرکٹ بورڈ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کی ہر طرح سے تائید و حمایت کی پوزیشن اختیارکرے جو بنگلہ دیش اور پاکستان کے عوام کے جذبات کے عین مطابق ہوگا۔ اجلاس نے زور دیا کہ خطہ میں بااعتماد پائیدار امن اور ترقی کے لیے حکومت پاکستان،چین ، ترکی، ایران، افغانستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ مضبوط تعلقات کو کلیدی حیثیت دے، تمام اسٹیک ہولڈرز نئی عالمی صف بندی اور بدلتے حالات میں پانچوں ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات کی بحالی کے لئے دینی ،سیاسی اور قومی کردار ادا کرے۔

دریں اثنا مجلس شوریٰ کی خواتین سے متعلق قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی خواتین، بالخصوص نوجوان لڑکیاں، ملک کی آبادی کا نصف سے زائد حصہ ہیں اور 2026 میں وہ تعلیمی، سماجی، معاشی، ڈیجیٹل اور اخلاقی وسائل کی صورت میں ایک عظیم قومی طاقت بن سکتی ہیں، بشرطیکہ انہیں اسلامی اقدار، آئینی حقوق اور قومی ترجیحات کے مطابق مواقع فراہم کیے جائیں۔

جماعتِ اسلامی پاکستان خواتین کو نہ کمزور طبقہ سمجھتی ہے، نہ استحصالی نظام کا ایندھن، بلکہ انہیں ایک باوقار، باصلاحیت اور ذمہ دار شہری کے طور پر دیکھتی ہے، جو خاندان، تعلیم، معیشت، صحت، سیاست اور سماجی تعمیر میں اسلامی حدود کے اندر رہتے ہوئے فعال کردار ادا کر سکتی ہے۔ 

حالیہ عرصے میں عالمی سطح پر سامنے آنے والی ایپسٹین فائلز نے بین الاقوامی ضمیر کو ایک سنجیدہ اخلاقی اور قانونی سوال سے دوچار کر دیا ہے۔

یہ انکشافات اس امر کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ جب طاقت، دولت اور سیاسی اثر و رسوخ قانون پر حاوی ہو جائیں تو عورتوں اور بچوں جیسے کمزور طبقات کس طرح منظم استحصال کا شکار بنتے ہیں، اور عالمی نظامِ انصاف کی ساکھ شدید متاثر ہوتی ہے۔ مرکزی شوریٰ اس صورتحال کو محض ایک فرد یا واقعے تک محدود نہیں سمجھتی بلکہ اسے ایک عالمی ناکامی قرار دیتی ہے ۔

مرکزی شوریٰ اس امر پر زور دیتی ہے کہ عورت اور بچوں کا تحفظ ریاستوں کی داخلی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ایک بین الاقوامی قانونی و اخلاقی فریضہ ہے۔ انسانی اسمگلنگ، جنسی استحصال اور منظم جرائم کے خلاف عالمی قوانین کے مؤثر نفاذ، سرحد پار تعاون، شفاف تحقیقات اور طاقتور ملزمان کے بلا امتیاز احتساب کے بغیر انصاف کا دعویٰ ادھورا رہے گا۔

جماعت اسلامی واضح طور پر اس اصولی موقف کا اعادہ کرتی ہے کہ عورت اور بچے کا وقار ناقابلِ سمجھوتہ ہے، اور اس کے تحفظ کے بغیر نہ عالمی انصاف معتبر ہو سکتا ہے اور نہ ہی کوئی ریاست یا عالمی نظام خود کو مہذب کہلوانے کا حق رکھتا ہے۔

جماعت اسلامی پاکستان کی پالیسی کے مطابق خواتین کے لیے ایسا تعلیمی و تربیتی نظام ناگزیر ہے جوکردار سازی،دینی و اخلاقی تربیت،جدید سائنسی و فنی مہارت کو یکجا کرے، تاکہ خواتین محض ملازمت کی دوڑ کا حصہ نہیں بلکہ قوم کی معمار بن سکیں۔

خواتین کے لیے محفوظ، باوقار اور شریعت کے مطابق روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں، خصوصاً: ہوم بیسڈ بزنس،آن لائن فری لانسنگ،تدریس، صحت اور سوشل سروسزتاکہ وہ خاندان اور معاشرے دونوں میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔ 

جماعت اسلامی خواتین کے خلاف ہر قسم کے تشدد، استحصال، ہراسمنٹ اور ناانصافی کی سخت مخالف ہے۔ خواتین سے متعلق تمام پالیسیز   میں اسلامی خاندانی نظام، حیا، عفت، اور معاشرتی توازن کو بنیادی ستون تسلیم کیا جائے۔

2026 میں خواتین کے لیے تعلیم، اسکل ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل لٹریسی، اور گھریلو و معاشی خود کفالت پر مبنی قومی سطح کے منصوبے شروع کیے جائیں،

مرکزی شوریٰ اس قرارداد کے ذریعے درج ذیل مطالبات پیش کرتی ہے

 ڈیجیٹل وقار اور سائبر تحفظ: آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ، ڈیپ فیک ٹیکنالوجی اور کردار کشی کے تدارک کے لیے جدید قوانین، خصوصی سائبر یونٹس اور سخت عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

سوشل میڈیا اور AI کے دور میں نوجوان نسل بالخصوص نوجوان لڑکیاں شدید فکری انتشار، اخلاقی دباؤ اور شناختی بحران کا شکار ہیں۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر آزادی کے نام پر فحاشی، جسمانی نمائش، ذہنی استحصال اور ڈیٹا کے ناجائز استعمال نے نئی نسل کو عدمِ تحفظ کی طرف دھکیل دیا ہے۔ جماعتِ اسلامی کا حلقہ خواتین اس بات کا عزم رکھتا ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی، AI ٹولز اور ڈیجیٹل ذرائع کو اسلامی اقدار، فکری رہنمائی اور مثبت کردار سازی کے لیے استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں کے دل و دماغ تک رسائی حاصل کرے، تاکہ وہ مغربی بیانیے کے بجائے ایک باوقار، مقصدی اور اخلاقی زندگی کا انتخاب کر سکیں۔

معیاری تعلیم اور جدید مہارتیں:لڑکیوں کی معیاری تعلیم، ڈیجیٹل اسکلز، تحقیق اور باوقار روزگار تک مساوی رسائی فراہم کی جائے تاکہ عورت معاشی خود کفالت کے ساتھ قومی ترقی میں فعال کردار ادا کر سکے۔ تعلیمی نصاب، میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں خاندانی اقدار، حیا، رضامندی اور اخلاقی حدود کے اسلامی و انسانی تصورات کو فروغ دیا جائے۔

خواتین کی تعلیم، صحت، روزگار اور خاندانی استحکام کے لیے ایسے اقدامات کیے جائیں جو انہیں مغربی ماڈلز کا محتاج بنانے کے بجائے اپنی تہذیب اور اقدار کے ساتھ باوقار خودمختاری فراہم کریں۔

 خاندانی نظام کا تحفظ:خاندان کو پالیسی سازی کی بنیاد تسلیم کرتے ہوئے ماں کے کردار، گھریلو ذمہ داریوں اور خاندانی استحکام کو معاشی و سماجی سطح پر قدر دی جائے۔

 صحت اور ذہنی سکون:عورت کی جسمانی و ذہنی صحت، زچہ و بچہ کی سہولیات اور نفسیاتی معاونت کو قومی صحت پالیسی کا لازمی حصہ بنایا جائے۔

قیادت اور فیصلہ سازی میں شمولیت:تعلیم، بلدیاتی اداروں، پارلیمان اور پالیسی فورمز میں خواتین کی بامقصد اور باوقار نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔ خواتین سے متعلق پالیسی سازی میں نظریاتی و سماجی تنظیموں، خصوصاً دینی و اصلاحی اداروں کی مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔

میڈیا اور نصابی اصلاحات:میڈیا، اشتہارات اور تعلیمی نصاب میں عورت کو بطور شے نہیں بلکہ باوقار شخصیت کے طور پر پیش کیا جائے۔ AI، ڈیجیٹل کانٹینٹ اور سوشل میڈیا پالیسیز میں خواتین کے تحفظ، ڈیٹا پرائیویسی اور آن لائن عزتِ نفس کے لیے واضح اور موثر ضوابط بنائے جائیں۔ سماجی تحفظ اور قانونی معاونت:بیوہ، یتیم، معذور اور کمزور خواتین کے لیے مؤثر سماجی تحفظ، قانونی مدد اور ہنگامی معاونت کے جامع نظام کو فعال کیا جائے۔

ان تمام اقدامات کے لیے واضح ٹائم لائن، بجٹ، ڈیٹا پر مبنی مانیٹرنگ اور سالانہ رپورٹنگ کو لازمی قرار دیا جائے تاکہ یہ قرارداد محض تحریر نہ رہے بلکہ عملی حقیقت بنے۔

مرکزی شوریٰ اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ عورت کے وقار، تحفظ اور اختیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ جماعتِ اسلامی ایسی نسوانیت پر فخر کرتی ہے جو ایمان سے جڑی، علم سے مسلح اور خاندان و معاشرے کے استحکام کی ضامن ہو۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ جب عورت محفوظ، باوقار اور باخبر ہوگی تو خاندان مضبوط، معاشرہ متوازن اور ریاست حقیقی معنوں میں فلاحی ریاست بنے گی۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *