مذہبی احکامات اورہماراشعور

انحطاطِ شعورجب کسی قوم میں در آتا ہے تووہ بے شعوریوں کو اعلیٰ شعورسمجھنے لگتے ہیں۔ آج کل پاکستان میں شعورپربڑاشورمچاہوا ہے،شایدجس بندے کوشعورکے لفظی معنی بھی نہیں پتاوہ بھی کہتا ہے کہ شعورصرف مجھ میں ہی ہے۔حالانکہ باشعور انسان وہ ہوتا ہے جودوسروں کے شعور سے سیکھتا ہے،شعورجس طرح لفظِ ”بو“ جس کے ساتھ ”خوش“لگایا جائے تواچھی دل کو لگنے والی ”بو“ ہوتی ہے اگراس کے ساتھ”بد“ لگایا جائے تو نفرت اورکراہت والی ”بو“ہوتی ہے۔ایسے ہی شعوراعلیٰ اوراسفل ہوتا ہے اعلیٰ شعورانبیاء ومرسلین سے حاصل ہوتا ہے اوراسفل شعور شیطان کی پیروی سے۔لہذاشعورکااسلامی پیمانہ قران وسنت سے مطابقت کاہونا ہے،ورنہ چاہے وہ کتناہی لوگوں کو بھائے وہ شعورنہیں شیطانی جال ہے،جس طرح آج کل اکثرلوگوں کو خوشبوسے الرجی ہوتی ہے،اسی طرح اکثرلوگوں کو اسلامی شعورسے دل میں تنگی اوردماغ میں انتشاراٹھتا ہے،تووہ اس کے خلاف کئی طرح کے دلائل واقعات وکہانیاں بناتے ہیں،اوربڑے بڑے فلاسفراسفل شعورکوبھی صرف شعورکے لفظ کے تحت کہتے ہیں،کہ شعورتوانبیاء نے دیا،حالانکہ شیطان بھی شعورہی دیتا ہے،کہ اللہ تعالیٰ قران میں فرماتے ہیں،ترجمہ ”شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں باتیں ڈالتے ہیں“یعنی شعوردیتے ہیں۔لہذاکسی بھی لفظ کوبغیرکسی سابقہ ولاحقہ کے ایک ہی معنی میں لینا انحطاطِ شعورمیں ڈوبنا ہے۔آمدم برسرِ مطلب رمضان شریف آرہا ہے،ہرطرف ہاہاکارمچی ہوئی ہے کہ رمضان میں زکواۃ وصدقات ہمارے پاس جمع کرائیں، یہاں غریبوں کے لیے کھانے کا بندوبست کیا جاتا ہے، یہاں دین کی تعلیم دی جاتی ہے،یہاں مفت علاج کے لیے ہستال بن رہا ہے،یہاں بیواوں یتیموں کو رمضان پیکج دیا جاتا ہے،بلکہ من چلوں نے پچھلے سالوں کراچی کے عوام کے لیے شترمرغ کے گوشت سے افطاریوں کا بندوبست بھی کیا تھا۔کیااسلام نے زکواۃ وصدقات کے لیے یہی شعور دیا ہے؟زکواۃ وصدقات اسلامی حکومت دورنبوی سے وصول کرتی تھی،لیکن وہ تمام مسلمانوں اورغیرمسلم غرباومحتاجوں کی ذمہ داربھی تھی، کسی غریب ومحتاج کودورِ خلافت میں لوگوں سے مانگ کرزندگی بسرکرنے پرنہیں چھوڑاہواتھا،غرباومحتاج سب کے وظائف لگے ہوئے تھے۔لیکن آج حکومت زکواۃ پرہاتھ توصاف کرتی ہے،جوان کی پہنچ میں آ جائے،لیکن وہ اس زکواۃ وصدقات سے چندفی صد غرباکو کچھ اونٹ کے منہ میں زیرہ کی مثال مہینے کے کچھ روپے دے دیتی ہے، باقی وہ بھی اسمبلی ممبران کے علاج،حج وعمرے پرلگادیتی ہے،یا پھراوقاف کے ماتحت اداروں میں کچھ خرچ کردی جاتی ہے۔لیکن غرباومساکین اسی طرح نانِ شبینہ کوترستے رہتے ہیں۔ ہمارے حکمران بھیک مانگنے پرپابندیاں لگاتے ہیں،لیکن کسی نے آج تک بھیک مانگنے والوں کے لیے کوئی ایسا پروگرام نہیں دیا جس سے ان لوگوں کو اس لت سے نکالا جاسکے،اورانہیں قومی دھارے میں لایا جاسکے،چلو یہ توپیشہ وربھکاری پاکستان میں اب ایک انڈسٹری بن چکے ہیں، جس کے اونربڑے بڑے سیٹھ ہیں،اورانہوں نے دہشت گردوں کی طرح اپنے اپنے گینگ بنائے ہوے ہیں۔کہ ان پرہاتھ ڈالناکم ازکم ووٹ کی بھیک مانگنے والوں کے بس کی بات نہیں۔ لیکن دوسری طرف قوم کا ایک سفید پوش طبقہ جو غربت کی لکیرسے نیچے زندگی بسرکرنے والاہے،جس کا اگرکوئی بیمارہوجائے تووہ اس کی تکالیف کو ختم کرنے کے لیے اللہ سے دعاکرتا ہے کہ اے ارحم الراحمین اس پررحم کراوراسے اس زندگی کے عذاب سے نجات دے دے۔ اورگرکسی کا مرجاتا ہے تووہ اسے سپردخاک کرنے کے لیے خودخاک ہوجاتا ہے،کہ محاورہ بن گیا ہے کہ زندگی سے موت مشکل ہوگئی ہے۔لیکن ہمارے شعورِ بے سابقہ ولاحقہ والے اسفل شعورکے تحت اپنے اسلامی احکام کا استحصال کرکے لوگوں کوان کے مددگاربننے کاڈھونگ رچا کراسلامی احکام جو واضح ہیں ان کی آڑ لے کرکھلے شعوروالوں کو اپنے نرغے میں پھنساکرزکواۃ وصدقات اکٹھے کرکے ایسے کاموں میں صرف کرتے ہیں جن میں غریب وامیرسب کے لیے کام ہورہا ہوتا ہے،کیا امیرآدمی پرزکواۃ کا پیسہ خرچ کرنااللہ کے احکام کا انکارنہیں۔لہذاصاحبانِ ثروت سے گزارش ہے کہ اسلامی احکام کے مطابق اگر آپ لوگ زکواۃ وصدقات اپنے غریب ومساکین رشتہ داروہمسائے اورایسے لوگ جنہیں آپ جانتے ہیں،ان کی مدد خودکریں توکیا کوئی غریب ومسکین ایسا رہے گاجسے کسی ngoکی خیرات کی ضرورت رہے گی،جسے کسی ٹرسٹ ہسپتال سے علاج کرانے کی مجبوری ہوگی،جسے کسی یتیم خانے میں بچے بھیجنے کی ضرورت ہوگی،میرے خیال میں نہیں۔جس طرح نمازکے لیے بندے کووضواورپاک جگہ کا اتخاب کرنا ضروری ہے ورنہ نمازنہیں ہوتی، ایسے ہی زکواۃ کے لیے بھی بندے کواحکامِ قرانی کے تحت اپنے اعزاواقارب اپنے اہل محلہ پرخودنظررکھنا ضروری ہے، کہ اللہ نے قرانِ پاک میں فرمایا ہے،ترجمہ ”کہ وہ لوگوں سے لپٹ کرنہیں مانگتے“اس پرتوجہ دیں۔اسلام ایک ایسا دین ہے جس میں مالدارپرلازم ہے کہ وہ غریب ومجبورکو ڈھونڈھ کراس کا حق اسے پہنچائے،لیکن ہم آج جس شعورمیں ہیں یہ لوگوں کو اپنے سامنے ذلیل ہوتادیکھ کرخوش ہوتا ہے۔اوریہی اللہ کی نفرت کا سب سے بڑاسبب ہے، کہ تکبرصرف اس ذاتِ بے ہمتا کے لیے ہی زیباہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں اوربالخصوص پاکستانی مسلمانوں کو شعورِ دین سے نوازے آمین وماعلی الاالبلاغ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *