تحریر۔ عمرخطاب
پاکستان میں نوجوانوں اور خاص طور پر طلبہ کی موجودہ صورتحال ایک سنگین بحران کی عکاسی کرتی ہے، جہاں تعلیم اب روزگار کی ضمانت نہیں رہی۔ طلبہ میں بڑھتی ہوئی ناامیدی محض ایک جذباتی کیفیت نہیں بلکہ اس کے پیچھے گہرے ساختی، معاشی اور نظام کی ناکامی کے عوامل کارفرما ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف انفرادی سطح پر بلکہ قومی سطح پر بھی تشویشناک ہے، کیونکہ نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔
پاکستان میں بے روزگار افراد کی تعداد میں گزشتہ چار سالوں میں اکتیس فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جو کہ ایک خطرناک رجحان ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ اکتیس فیصد سے زائد پڑھے لکھے گریجویٹس بے روزگار ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر نہیں آ رہے۔ معاشی بحران، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کاروبار کی سکڑتی ہوئی صورتحال نے گریجویٹس کے لیے نوکریوں کے مواقع ختم کر دیے ہیں، جس سے ان کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔ یہ صورتحال نوجوانوں میں مایوسی اور بے چینی کو جنم دے رہی ہے، جو کہ سماجی بے چینی کا سبب بن سکتی ہے۔
پاکستان کا تعلیمی نظام عصرِ حاضر کی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ نصاب زیادہ تر نظریاتی ہے اور اس میں عملی مہارتوں کی شدید کمی ہے۔ اس کی وجہ سے طلبہ کو عملی زندگی میں درکار مہارتیں حاصل نہیں ہو پاتیں۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے مطابق بیس فیصد سے بھی کم پوسٹ گریجویٹ طلبہ انٹرنشپ یا عملی تربیت مکمل کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ زیادہ تر طلبہ کو عملی تجربہ حاصل کرنے کا موقع نہیں ملتا، جو کہ ان کے روزگار کے حصول میں رکاوٹ بنتا ہے۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب اردن اور مونٹی نیگرو کی یونیورسٹیوں میں داخلوں کی تعداد تو بڑھی لیکن وہ لیبر مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ نہ تھی، جس کی وجہ سے گریجویٹ بے روزگاری میں اضافہ ہوا اور یوں وہاں کے نتائج نے ثابت کیا کہ صرف ڈگریاں بانٹنا کافی نہیں بلکہ تعلیم کا صنعت کے ساتھ جڑا ہونا ضروری ہے۔
موجودہ حالت کی ایک بڑی وجہ سیاسی مداخلت بھی ہے، اداروں میں سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر نااہل افراد کی تعیناتی اور میرٹ کو نظر انداز کرنا پڑھے لکھے نوجوانوں کی حوصلہ شکنی کا باعث بنتا ہے۔ جب ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان دیکھتا ہے کہ سفارش اور سیاسی وفاداری قابلیت پر غالب ہے، تو وہ نظام سے مایوس ہو جاتا ہے۔ یہ صورتحال نوجوانوں میں مایوسی اور بے چینی کو جنم دیتی ہے اور ان کے اعتماد کو متزلزل کرتی ہے۔
بے روزگاری اور غیر یقینی مستقبل کی وجہ سے اکتیس فیصد طلبہ شدید ذہنی دباؤ اور سولہ فیصد انتہائی شدید نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں۔ مایوسی کی اس لہر نے “برین ڈرین” کو جنم دیا ہے، جہاں تقریباً سینتیس فیصد پاکستانی اور خاص طور پر پڑھے لکھے نوجوان ملک چھوڑ کر جانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف انسانی سرمائے کے ضیاع کا سبب بن رہی ہے بلکہ قومی ترقی کے لیے بھی خطرہ ہے۔
طلبہ کی اس مایوسی کو ختم کرنے اور انہیں دوبارہ قومی دھارے میں لانے کے لیے ضروری ہے کہ نصاب کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق جدید بنایا جائے۔ ڈگری پروگراموں میں ڈیجیٹل لٹریسی، کمیونیکیشن سکلز اور تنقیدی سوچ جیسے پہلوؤں کو شامل کرنا ضروری ہے۔ اس سے طلبہ کو عملی زندگی میں درکار مہارتیں حاصل ہوں گی اور وہ روزگار کے حصول میں کامیاب ہو سکیں گے۔
جامعات اور صنعتی اداروں کے درمیان مضبوط روابط قائم کیے جائیں تاکہ طلبہ کو دورانِ تعلیم ہی انٹرنشپ اور عملی تربیت کے مواقع میسر آئیں۔ جرمنی کا “ڈوئل ایجوکیشن سسٹم” اس کا بہترین حل پیش کرتا ہے، جہاں طلبہ نظریاتی تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی تربیت بھی حاصل کرتے ہیں۔ اس سے وہ روزگار کے حصول میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور معاشی ترقی میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ووکیشنل ٹریننگ کو سماجی طور پر کمتر سمجھنے کے رجحان کو ختم کیا جائے اور اسے جدید ٹیکنالوجی سے لیس کر کے نوجوانوں کے لیے روزگار کا ایک معتبر ذریعہ بنایا جائے۔ ویتنام اور تھائی لینڈ نے اپنی قومی ترقی کی حکمت عملی میں ووکیشنل ٹریننگ کو صنعت کے ساتھ مربوط کیا، جس سے نہ صرف ان کی برآمدات میں اضافہ ہوا بلکہ معاشی ترقی کی رفتار بھی تیز ہوئی۔
سرکاری اور نجی شعبوں میں بھرتیوں کے عمل کو مکمل طور پر میرٹ پر مبنی بنایا جائے تاکہ باصلاحیت نوجوانوں کا نظام پر اعتماد بحال ہو سکے۔ سنگاپور نے ایک مرکزی نظام اپنایا ہے، جہاں مارکیٹ کا باقاعدہ تجزیہ کیا جاتا ہے اور اسی کی بنیاد پر تعلیمی و روزگار کی پالیسیاں وضع کی جاتی ہیں۔ اس سے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آتے ہیں اور وہ معاشی ترقی میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
تمام تعلیمی اداروں میں پیشہ ورانہ کونسلنگ سینٹرز قائم کیے جائیں جو طلبہ کو ذہنی دباؤ سے نمٹنے اور درست کیریئر کے انتخاب میں مدد فراہم کریں۔ اس سے طلبہ کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق کیریئر کا انتخاب کرنے میں مدد ملے گی اور وہ اپنی زندگی میں کامیاب ہو سکیں گے۔
پاکستان کا مستقبل اس کے نوجوانوں سے وابستہ ہے۔ اگر بروقت تعلیمی اور انتظامی اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ مایوسی نہ صرف انسانی سرمائے کے ضیاع کا سبب بنے گی بلکہ سماجی بے چینی میں بھی اضافہ کرے گی۔ حکومت، جامعات اور نجی شعبے کو مل کر ایک ایسی حکمت عملی بنانی ہوگی جہاں تعلیم کا مقصد محض ڈگری کا حصول نہیں بلکہ باوقار روزگار کی فراہمی ہو۔ اس سے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے اور وہ معاشی ترقی میں کردار ادا کر سکیں گے۔