جیکب آباد کے بائی پاس پر قائم کسٹم چیک پوسٹ، جو اسمگلنگ روکنے اور قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے بنائی گئی تھی، آج خود سنگین الزامات کی زد میں۔

عوامی میڈیا پریس کلب جیکب آباد: (نامه نگار)
جیکب آباد کے بائی پاس پر قائم کسٹم چیک پوسٹ، جو اسمگلنگ روکنے اور قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے بنائی گئی تھی، آج خود سنگین الزامات کی زد میں آ چکی ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ نئے مقرر ہونے والے چوکی انچارج ہریش کمار کی آمد کے ساتھ ہی یہاں تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے اور چیک پوسٹ مبینہ طور پر اسمگلنگ کا مرکز بن گئی ہے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نہ صرف غیر ملکی سامان اور کابلی گاڑیاں بے دھڑک کراس ہو رہی ہیں بلکہ جدید اسلحے کا خطرناک کاروبار بھی جاری ہے۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی…

اطلاعات ہیں کہ جعلی کرنسی کی بھی مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر اسمگلنگ ہو رہی ہے، جو ملکی معیشت اور شہریوں کی محنت کی کمائی پر براہِ راست وار ہے۔

چند روز قبل خیرپور میں پکڑے جانے والے جدید اسلحے اور جعلی کرنسی کے بعد شکوک و شبہات مزید گہرے ہو گئے ہیں، اور لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر چیک پوسٹ سے ہی ایسے غیر قانونی کام جاری رہیں گے تو عوام آخر کس پر اعتماد کرے؟

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر حفاظتی ادارے خاموش رہے تو عوام کی جان، مال اور مستقبل کی ذمہ داری کون اٹھائے گا؟
اب سب کی نظریں اعلیٰ حکام پر مرکوز ہیں… کیا اس سنگین معاملے کا سخت نوٹس لیا جائے گا یا سچ ایک بار پھر پردے کے پیچھے چھپ جائے گا؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *