ٹھٹہ ڈسٹرکٹ جیل میں قیدیوں پر تشدد کا سلسلہ جاری، مزید 8 قیدی سول اسپتال منتقل

ٹھٹہ بیرچیف ایم اعجازچانڈیو مھرانوی
ٹھٹہ ڈسٹرکٹ جیل میں قیدیوں پر تشدد کا سلسلہ جاری، مزید 8 قیدی سول اسپتال منتقل، ایک کی حالت تشویشناک
ٹھٹہ ڈسٹرکٹ جیل میں قیدیوں پر مبینہ تشدد کا عمل رک نہ سکا۔ تازہ واقعے میں تشدد کے باعث مزید 8 قیدیوں کی حالت خراب ہونے پر انہیں جیل سپرنٹنڈنٹ کے لیٹر پر سول اسپتال ٹھٹہ منتقل کیا گیا، جہاں ان کا طبی معائنہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ان میں سے ایک قیدی کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ جیل ٹھٹہ میں قید ایک نوجوان قیدی اياز سومرو پر مبینہ طور پر شدید تشدد کیا گیا، جس کے باعث وہ چلنے پھرنے کے قابل نہ رہا۔ اياز سومرو کو وہیل چیئر پر سول اسپتال ٹھٹہ کے ایمرجنسی وارڈ منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد اسے دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
سول اسپتال ٹھٹہ میں طبی امداد کے لیے لائے گئے دیگر قیدیوں میں سکندر کرناڻي، امین ملاح، کھیَم چند گجراتی، یار محمد ملاح، صدیق جت، حيف ملاح اور پیارو پالاری شامل ہیں۔ اسپتال ذرائع کے مطابق قیدی اياز سومرو کی حالت سب سے زیادہ خراب تھی اور وہ خود سے کھڑا ہونے یا چلنے پھرنے کے قابل نہیں تھا، جسے وہیل چیئر کے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا۔
واضح رہے کہ ایک ہفتہ قبل بھی ڈسٹرکٹ جیل ٹھٹہ میں قید قیدی علی بخش ملاح پراسرار طور پر جاں بحق ہو گیا تھا، جس کے بعد اس کے ورثاء کی جانب سے مسلسل احتجاج کیا جا رہا ہے۔ ورثاء کا الزام ہے کہ علی بخش ملاح کو جیل میں تشدد کر کے قتل کیا گیا، تاہم تاحال ذمہ داروں کے خلاف کوئی واضح کارروائی سامنے نہیں آ سکی۔
ڈسٹرکٹ جیل ٹھٹہ میں قیدیوں پر مسلسل تشدد کے واقعات سامنے آنے کے بعد شہریوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور سماجی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ عوامی و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جیل میں ہونے والے مبینہ تشدد کے واقعات کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کا تدارک ممکن ہو سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *