بیس فروری سماجی انصاف کا عالمی دن

تحریر۔عمرخطاب

ہر سال بیس فروری کو دنیا بھر میں سماجی انصاف کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے دو ہزار سات میں منظور کی گئی قرارداد کا نتیجہ ہے، جس کا باقاعدہ آغاز دو ہزار نو سے ہوا۔ اس دن کا بنیادی مقصد غربت کا خاتمہ، صنفی مساوات، روزگار کی فراہمی، اور ایک ایسے معاشرے کی تشکیل ہے جہاں ہر انسان کو اس کے بنیادی حقوق حاصل ہوں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سماجی انصاف کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔

سماجی انصاف کا تصور نیا نہیں، بلکہ انسانیت کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنا کہ انسان خود۔ قدیم میسوپوٹیمیا میں ضابطہ حمورابی سے لے کر قدیم ہندوستان میں چندر گپت موریا اور اشوک اعظم کے ادوار تک، انصاف کی فراہمی کو حکومت کی اولین ترجیح سمجھا جاتا تھا۔ مغل دور میں “عدلِ جہانگیر” اور زنجیرِ عدل کی مثالیں آج بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔ مذاہبِ عالم میں بھی سماجی انصاف کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ خصوصاً پیغمبرِ اسلام ﷺ کا یہ فرمان عدل و انصاف کے علمبرداروں کے لیے مشعلِ راہ ہے کہ قدیم قومیں اس لیے تباہ ہوئیں کیونکہ وہاں طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ قوانین تھے۔ یہ تاریخی اسباق ہمیں سکھاتے ہیں کہ کسی بھی سلطنت کا عروج و زوال سماجی انصاف سے جڑا ہوتا ہے۔

سماجی انصاف محض خیرات یا کسی پر احسان کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک سماجی ذمہ داری اور انسانی حق ہے۔ اس کا مطلب معاشرے میں وسائل، مواقع اور مراعات کی منصفانہ تقسیم ہے تاکہ کسی بھی تعصب کے بغیر ہر شہری کو ترقی کے یکساں مواقع میسر آئیں۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق، صرف “غربت کے خاتمے” پر توجہ دینا کافی نہیں ہے، کیونکہ اکثر اس کا مقصد غریبوں کو صرف زندہ رکھنے کے لیے کم از کم خوراک فراہم کرنا ہوتا ہے، جیسا کہ کسی جانور یا غلام کی ضرورت پوری کی جاتی ہے۔ حقیقی سماجی انصاف یہ ہے کہ غریب طبقے کو پیداواری عوامل کا شریک مالک بنایا جائے تاکہ وہ معاشی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔

سال دو ہزار چھبیس کے لیے اس دن کا موضوع “ایمپاورنگ انکلوژن: برجنگ گیپس فار سوشل جسٹس” یعنی “شمولیت کو بااختیار بنانا: سماجی انصاف کے لیے خلیج کو ختم کرنا” رکھا گیا ہے۔ اس کا سیدھا سادہ مقصد معاشرے میں شامل تمام افراد، خاص طور پر پسماندہ اور کمزور طبقات کو بااختیار بنانا اور ان کے درمیان موجود سماجی، معاشی، اور سیاسی خلیج کو ختم کرنا ہے تاکہ سماجی انصاف قائم ہو سکے۔ اس میں یہ تصور شامل ہے کہ ہر شخص کو یکساں مواقع اور حقوق ملنے چاہئیں، اور کسی بھی قسم کی تفریق یا ناانصافی کو ختم کیا جانا چاہیے۔ اس طرح، معاشرے میں ہم آہنگی اور انصاف کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے مطابق، آج دنیا کو “دیواروں والے قلعوں” کی نہیں بلکہ ایسی خوش آمدید کہنے والی سوسائٹیز کی ضرورت ہے جو سماجی ہم آہنگی، تعلیم، اور مہارتوں میں سرمایہ کاری کریں۔ وہ خبردار کرتے ہیں کہ ہمارے پاس دو ہی راستے ہیں: شمولیت یا تنہائی، تجدید یا زوال۔

آج کے دور میں سماجی انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹیں کرپشن، معاشی عدم مساوات، اور سیاسی مفادات ہیں۔ دنیا کی ساٹھ فیصد آبادی دو ڈالر روزانہ سے کم پر زندگی گزار رہی ہے اور لاکھوں بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں، جو کہ ایک “عظیم اخلاقی اشتعال انگیزی” ہے۔ فلسطین اور کشمیر جیسے حل طلب تنازعات بھی سماجی ناانصافی کی بڑی مثالیں ہیں، جہاں بنیادی انسانی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے۔ یہ مسائل نہ صرف متاثرہ علاقوں کے لیے بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی خطرہ ہیں۔

حدیث شریف کا مفہوم بھی ہے کہ ایک معاشرہ کفر پر قائم رہ سکتا ہے لیکن ظلم پر نہیں، یعنی امن اور ترقی انصاف کے بغیر ممکن نہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ یہ صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے رویوں میں عدل پیدا کرے اور سچ کا ساتھ دے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ انسان صرف غربت مٹانے کے لیے پیدا نہیں ہوا، بلکہ اسے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار اور وقار کے ساتھ جینے کا حق حاصل ہے۔ اگر ہم ایک متحد اور پرامن دنیا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنی مشترکہ انسانیت کو سب سے مقدم رکھنا ہوگا۔ اس کے لیے ہمیں اجتماعی کوششیں کرنی ہوں گی، جہاں ہر فرد اپنا کردار ادا کرے اور سماجی انصاف کے حصول کے لیے کام کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *