تاجر برادری کی آواز

تحریر؛ نعمان احمد دہلوی
کراچی، پاکستان کا اقتصادی دل، آج کل ایک سنگین بحران سے دوچار ہے۔ شہر میں بھتہ خوری اور بدامنی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے تاجر اور کاروباری طبقہ اپنے کاروبار چھوڑنے پر مجبور ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف مقامی معیشت کو متاثر کر رہی ہے بلکہ پورے ملک کی اقتصادی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے سیکیورٹی کے ناقص انتظامات پر تاجروں نے شدید تنقید کی ہے، اور یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے کہ کیوں قانون نافذ کرنے والے ادارے اس مسئلے کو روکنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ کراچی کو پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے، اور ایک مشہور مقولہ ہے کہ “کراچی چلتا ہے تو پاکستان پلتا ہے”۔ اگر یہ صورتحال جاری رہی تو آنے والے دنوں میں ملک کو شدید معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حال ہی میں، ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (ABAD) کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے بتایا کہ پچھلے پانچ مہینوں میں بھتہ خوری کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، اور کم از کم 10 اراکین کو دھمکیاں ملی ہیں۔ بلڈرز نے الزام لگایا ہے کہ یہ دھمکیاں غیر ملکی گینگز کی جانب سے آ رہی ہیں، جن میں دبئی اور ایران سے کالز شامل ہیں۔ انہوں نے حکومت کو ایک ماہ کا الٹی میٹم دیا ہے کہ اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو شہر بھر میں تعمیراتی کام بند کر دیں گے۔ اسی طرح، تاجروں کو دھمکی آمیز نوٹس مل رہے ہیں، یہ واقعات صرف بلڈرز تک محدود نہیں عام تاجر، دکاندار اور صنعت کار بھی متاثر ہیں۔ بہت سے تاجروں نے کاروبار بند کر دیے ہیں یا شہر چھوڑنے کا سوچ رہے ہیں، کیونکہ مسلسل دھمکیوں اور حملوں نے ان کی زندگیاں اجیرن کر دی ہیں۔
سندھ حکومت کی سیکیورٹی پالیسیاں شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے ایک وسیع آپریشن شروع کیا ہے اور 50 بھتہ خوروں کو گرفتار کر کے جیل بھیجا ہے۔ تاہم، تاجر برادری اسے ناکافی قرار دے رہی ہے۔ سندھ کے چیف منسٹر مراد علی شاہ نے مجرموں اور بھتہ خوروں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیا ہے، لیکن یہ حکم عملی طور پر کتنا موثر ثابت ہوگا، یہ دیکھنا باقی ہے۔
کراچی پاکستان کی معیشت کا مرکز ہے۔ یہ شہر ملک کی جی ڈی پی کا تقریباً 20 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے، اور یہاں کی بندرگاہ، صنعتیں اور کاروباری مراکز ملک کی اقتصادی ترقی کی بنیاد ہیں۔ اگر تاجر کاروبار چھوڑنے پر مجبور ہوئے تو یہ نہ صرف بے روزگاری میں اضافہ لائے گا بلکہ ٹیکس ریونیو میں کمی اور سپلائی چین کی رکاوٹوں کا سبب بنے گا۔ کراچی کی معیشت اگر کمزور ہوئی تو لاہور، اسلام آباد اور دیگر شہروں پر بھی اثر پڑے گا۔ ایک رپورٹ کے مطابق، بھتہ خوری کی وجہ سے پچھلے سالوں میں کئی کاروبار بند ہو چکے ہیں، جس سے لاکھوں نوکریاں متاثر ہوئیں۔ اب 2025 میں یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کر رہا ہے، اور تاجر کریپٹو کرنسی میں بھتہ مانگنے والوں سے بھی پریشان ہیں۔
اگر یہ صورتحال جاری رہی تو آنے والے وقت میں مزید مسائل جنم لیں گے۔ بے روزگاری بڑھے گی، جرائم میں اضافہ ہوگا، اور معاشی بحران ملک کو گھیر لے گا۔ حکومت کو فوری طور پر موثر اقدامات اٹھانے چاہئیں، جیسے سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی، انٹیلی جنس کی بہتری اور تاجروں کے ساتھ تعاون۔ بین الاقوامی مدد، جیسے انٹرپول کی معاونت، بھی حاصل کی جا سکتی ہے جیسا کہ وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے۔ تاجر برادری کو تحفظ دینا حکومت کی ذمہ داری ہے، ورنہ کراچی کا یہ بحران پورے پاکستان کو لے ڈوبے گا۔
اس مسئلے کا حل صرف حکومت کے ہاتھ میں نہیں؛ عوام، میڈیا اور سول سوسائٹی کو بھی آواز اٹھانی چاہیے۔ کراچی کی بحالی پاکستان کی بحالی ہے۔ اگر اب نہ سنبھالا گیا تو کل بہت دیر ہو جائے گی۔ اللہ تعالی پاکستان کی حفاظت فرمائیں۔ آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *