تحریر : محمد منصور ممتاز سے
ایندھن مہنگا ہو تو…
مسئلہ صرف گاڑی کا نہیں ہوتا…
مسئلہ انسان کا ہو جاتا ہے۔
یہ سڑکیں تو ویسی ہی رہتی ہیں…
راستے بھی وہی ہوتے ہیں…
مگر بدل جاتا ہے تو صرف ایک عام آدمی کا دل…
وہ جب گھر سے نکلتا ہے،
تو جیب میں پیسے نہیں…
فکروں کا بوجھ ہوتا ہے۔
ایک لیٹر پٹرول…
چند کلومیٹر کا سفر…
اور اس کے بدلے میں
گھنٹوں کی محنت، پسینہ، اور ادھوری خواہشات…
کبھی سوچا ہے؟
وہ شخص جو صبح امید لے کر نکلتا ہے،
جب شام کو خالی ہاتھ لوٹتا ہے…
تو اس کے قدم ہی نہیں،
اس کا حوصلہ بھی لڑکھڑا جاتا ہے۔
گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر
وہ ایک لمحہ رُکتا ہے…
سوچتا ہے…
آج بچوں کو کیا جواب دوں گا؟
بیوی کی آنکھوں میں سوال ہوتے ہیں…
بچوں کے چہروں پر امید…
ماں باپ کی آس۔۔۔
اور اُس کے پاس…
صرف خاموشی ہوتی ہے۔
ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو…
چولہا بھی مہنگا ہو جاتا ہے…
رشتے بھی بوجھ لگنے لگتے ہیں…
اور ہنسی… کہیں کھو جاتی ہے۔
یہ صرف پٹرول کی قیمت نہیں بڑھتی…
یہ انسان کے صبر کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے…
اور جب صبر مہنگا ہو جائے…
تو غصہ سستا ہو جاتا ہے۔
اور دوسری طرف…
وہی سڑکیں، وہی شہر…
مگر کچھ گاڑیاں بغیر فکر کے چلتی رہتی ہیں…
جنہیں نہ قیمت کا احساس ہے… نہ تکلیف کا…
کیا کبھی کسی نے سوچا…
کہ ایک عام آدمی کب تک یہ بوجھ اٹھائے گا؟
حل مشکل نہیں…
صرف نیت چاہیے…
اگر حکمران سادگی اپنائیں…
اگر وسائل کا صحیح استعمال ہو…
اگر درد کو محسوس کیا جائے…
تو شاید…
زندگی پھر سے آسان ہو جائے…
کیونکہ سچ یہی ہے…
ایندھن مہنگا ہو تو…
سفر نہیں…
جینا مشکل ہو جاتا ہے…