ڈیرہ غازی خان کی سول جج محترمہ ساجدہ محبوب صاحبہ کا انتقال محض ایک افسوسناک خبر نہیں، بلکہ ہمارے پورے نظامِ صحت پر ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جسے اب نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ ایک باوقار سرکاری عہدے پر فائز شخصیت اگر سرکاری ہسپتال میں بروقت طبی سہولیات یا مؤثر علاج حاصل نہ کر سکے اور بالآخر موت کی وادی میں اتر جائے، تو یہ سانحہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے نظام کی ناکامی کا کھلا اعتراف بن جاتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی اور نہایت تلخ سوال جنم لیتا ہے: جب ایک سول جج، جس کے پاس عہدہ، اختیار اور اثر و رسوخ موجود ہوتا ہے، وہ بھی ہسپتال اور محکمہ صحت کو اپنے علاج کے لیے متوجہ نہ کر سکی، تو ایک عام شہری ۔۔۔جس کے پاس طاقت ، سفارش اور نہ ہی کوئی پہچان ہے ۔۔۔ وہ سرکاری ہسپتالوں میں کیسے بہترین طبی سہولیات حاصل کر سکتا ہے؟ اگر اس طبقے کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے، تو عام آدمی کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
مختلف ذرائع کی جانب سے سامنے آنے والے مبینہ الزامات نہایت سنگین ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ہسپتال عملے کی غفلت، لاپرواہی اور انتظامیہ کی بے حسی اس سانحے کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔ بار بار رابطوں کے باوجود متعلقہ انتظامیہ یا عملے کی جانب سے مؤثر ردعمل نہ آنا اس نظام کی بے حسی کی انتہا ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ آخر ایک جان بچانے کے لیے فوری اقدام کیوں نہ کیا گیا؟
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر پنجاب سمیت پورے پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں میں مریض اسی طرح کی مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں ۔۔۔ کہیں ڈاکٹر دستیاب نہیں، کہیں ادویات نایاب، کہیں سہولیات ناکافی، اور کہیں رویہ ایسا کہ مریض خود کو بے یار و مددگار محسوس کرے۔ بعض اوقات یہ غفلتیں قیمتی جانوں کے ضیاع پر منتج ہوتی ہیں، مگر ہر بار چند دن کے شور کے بعد سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔
اصل مسئلہ چند افراد کی کوتاہی نہیں، بلکہ ایک ایسا نظام ہے جو اندر سے کمزور، غیر جوابدہ اور بے حس ہو چکا ہے۔ یہاں احتساب کا فقدان ہے، اور ذمہ داران کو معلوم ہے کہ زیادہ سے زیادہ ایک انکوائری ہوگی، کچھ کاغذی کارروائی ہوگی، اور پھر سب کچھ فائلوں میں دفن ہو جائے گا۔ یہی سوچ اس نظام کو مزید بے رحم بناتی جا رہی ہے۔
اب وقت آ چکا ہے کہ اس سانحے کو محض ایک خبر بنا کر نہ چھوڑا جائے۔ ساجدہ محبوب صاحبہ کی موت کو ایک فیصلہ کن موڑ بنانا ہوگا۔ فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کی جائے، اور اگر غفلت ثابت ہو تو ذمہ داروں کو مثالی سزا دی جائے
۔۔۔ ایسی سزا جو آئندہ کسی بھی افسر یا عملے کو اپنی ذمہ داری سے غافل ہونے کی جرات نہ دے۔
ساتھ ہی، سرکاری ہسپتالوں میں بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ ایمرجنسی سروسز کی بہتری، عملے کی حاضری اور کارکردگی کی سخت نگرانی، ادویات کی دستیابی، اور مریضوں کے ساتھ انسانی سلوک کو یقینی بنانا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ ہسپتال زندگی دینے کی جگہ ہوتے ہیں؛ اگر وہی موت کے دروازے بن جائیں تو اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے؟
سوال اب بھی وہی ہے… کیا ساجدہ محبوب صاحبہ کی یہ المناک موت بھی ایک فائل بن کر کسی الماری میں بند ہو جائے گی، اور ہم اگلے سانحے کا انتظار کرتے رہیں گے؟ یا اس بار واقعی کچھ بدلے گا؟ فیصلہ اب ان ہاتھوں میں ہے جو اختیار رکھتے ہیں ۔۔۔ اور تاریخ ان سے جواب ضرور مانگے گی۔
سرکاری ہسپتال میںسول جج کی موت … بے نقاب نظامِ صحت